Mian Manzoor Wattoo appeals all politicians to save democracy

537d7b2a07281
Mian Manzoor Ahmed Wattoo has appealed to the politicians of all spectrum to save democracy now to evade the formation political alliances like MRD and GDA for the restoration of democracy, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo while addressing a press conference here today after holding meeting of the office bearers of Rawalpindi Division.

The meeting was attended by Raja Imran Ashraf, Murtaza Sathei, Raja Shah Jehan and representatives of PYO and PSF.

He said that the present political situation as obtaining in the country is the test of the Pakistani politicians adding they not let democracy go down in the country.

He said that in dictatorship some politicians join the set up while overwhelming majority were left out due to their conviction in undiluted democracy For this they are subjected to by the wave of with hunting and history is witness to this pattern, he pointed out.

He observed that in dictatorship fundamental rights were suspended due to suspension of the constitution, no civil liberties. freedom of expression curtailed, independence of judiciary compromised and image of the country tarnished globally.

He urged the Prime Minister to accept the demands of PTI to the possible extent, reach out to Dr. Qadari to neutralize him adding politicians should accommodate and appreciate the opponents’ point of view and adopt democratic attitude. Big issues are solved at the negotiation table not in the battle fields, he maintained.

He reiterated that the government must not create hindrances in the way of Azadi marchers and instead extend them courtesy on their arrival in the capital,

Mian Manzoor Ahmed Wattoo suggested after that an invitation by the Prime Minister to Imran Khan should be extended to resolve the prevailing crisis and thus get the country out of the paralysis that had made the lives of the people miserable filled with anxiety.

To a question, he said that it was his personal view that the contesting parties should invite the former President Asef Ali Zardari for mediation because he was the most experienced politician because his political sagacity led the PPP coalition government to complete its constitutional term.

Responding to another question, Mian Manzoor Ahmed Wattoo maintained that the mishandling of the Punjab government during the removal of encroachments operation outside Dr, Qadari’s Lahore residence was largely responsible for the crisis situation in the country. They killed fourteen PAT workers and injured as many as ninety of them, he pointed out with deep anguish.

The mishandling will surely be synonymous to mistake of moments leading to sufferings on eternal basis, he observed.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo made it abundantly clear that the Party would uphold at all cost the legacy of the its great leaders which was democracy, fundamental rights of the people, safeguarding the constitution, empowerment of the people, independence of judiciary and freedom of expression. Its stand in this regard was non- negotiable, he concluded.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے راولپنڈی ڈویثرن پیپلز پارٹی کے منعقد ہونے والے آج کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کے تمام سیاستدانوں کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے سے بچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹرشپ میں کچھ سیاستدان حکومت سے مل جاتے ہیں جبکہ سیاستدانوں کی بڑی تعداد جو کہ جمہوریت میں یقین رکھتی ہے وہ سیاسی اتحاد جیسے ایم آر ڈی اور جی ڈی اے کی طرز کے بنانے میں مصروف ہو جاتی ہے جسمیں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ان سیاستدانوں کو ڈکٹیٹرشپ کی عبرتناک انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ اسکی گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹرشپ میں آئین کو معطل کر دیا جاتا ہے جس سے شہری آزادیاں ختم ہو جاتی ہیں، پریس کی آزادی اور آزادی اظہار پر پابندیاں لگ جاتی ہیں، عدالتوں کی آزادی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور ملک کا عالمی سطح پر امیج بھی خراب ہوتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ عمران خان کے ممکنہ حد تک مطالبات کو تسلیم کریں، طاہرالقادری کے غصے کو ٹھنڈا کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدانوں کو جمہوری رویے رکھنے چاہئیں، ایکدوسرے کی رائے کو احترام کرتے ہوئے مذاکرات کرنے چاہئیں کیونکہ بڑے بڑے مسائل جنگی میدانوں کی بجائے مذاکراتی میزپر ہی حل ہوتے ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے پھر کہا کہ حکومت کو آزادی مارچ کے موقع پر رکاوٹیں نہیں کھڑی کرنی چاہئیں بلکہ اسکے برعکس آزادی مارچ کرنیوالوں سے شائستگی سے پیش آتے ہوئے مہمان نوازی بھی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی مارچ کے دوران وزیراعظم عمران خان کو موجودہ سیاسی بحران کو خلوص دل سے حل کرنے کے لیے مدعو کریں۔ انہوں نے کہا کہ اِسوقت جمہوریت خطرے میں ہے اور پاکستانی عوام کو اس ضمن میں سخت تشویش ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اُنکی ذاتی رائے ہے کہ احتجاج کرنیوالی سیاسی جماعت اور حکومت سابق صدر آصف علی زرداری کو مصالحتی کردار ادا کرنے کے لیے فورًا مدعو کریں کیونکہ وہ ایک منجھے ہوئے کامیاب سیاستدان ہیں جنکی فہم و فراست سے پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو نے کہاکہ موجودہ سنگین سیاسی صورتحال کی زیادہ تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی لاہور رہائشگاہ کے باہر سے تجاوزات ہٹانے کے آپریشن کے دوران بلاجواز طاقت کے استعمال سے 14 پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو ہلاک کر دیا اور 90 سے زائد زخمی کئے۔انہوں نے کہا کہ اب حکومت کے پاس مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ
’’لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی‘‘
میاں منظور احمد وٹو نے صاف صاف کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے بانی قائدین کی روایات پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گی ۔ ان روایات میں جمہوریت، شہریوں کے بنیادی حقوق، آزادی اظہار رائے، میڈیا اور عدلیہ کی آزادی اور عوامی سیاست شامل ہیں۔
اس سے پہلے پیپلز پارٹی راولپنڈی ڈویثرن کے اجلاس میں راجہ عمران اشرف، مرتضی سطہی، راجہ شاہ جہاں، ای وائی او اور پی ایس ایف کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں