ملک کی موجودہ صورتحال… ذمہ دار کون؟ تحریر ریاض حسین بخاری

746484-PAT-1407602523-431-640x480

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ کے مصداق وطن عزیز میں ایک نادر اور دلکش لمحہ آیا جب ایک منتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008 ء میں کامیابی کے بعد عنان اقتدار سنبھالا۔ سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے اور پھر جناب آصف زرداری کی زیر قیادت نے اپنی بھرپور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ اور ایک ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی نہ صرف وردی اتروائی بلکہ اسے منصب ِ صدارت سے بھی مستعفی ہونے پر مجبو ر ہونا پڑااور جناب آصف علی زرداری صدارت کے منصب پر فائز ہوئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی اس کے خلاف سازشیں شروع ہوگئی تھیں۔ مخلوط حکومت کا پاکستان میں پہلا تجربہ تھا۔ ہم اس طرح کے طرز حکومت کے عادی نہ تھے۔ لیکن یہ جناب زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی معاملہ فہمی تھی کہ انہوں نے مختلف خیالات کی مالک سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک مخلوط حکومت تشکیل دی جس میں (پی ۔ایم۔ایل۔ این) بھی شامل تھی ۔وزارت خزانہ اسحق ڈار کے پاس تھی اور ا ن کا یہ بیان آن ریکارڈ ہے کہ خزانہ خالی ہے اور پھر وکلاء تحریک کی آڑ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) حکومت سے علیحدہ ہوگئی۔ اس مشکل ترین صورتحال میں بھی صرف124قومی اسمبلی کی سیٹوں کے ساتھ پی پی پی کی حکومت نے 5سال پورے کئے ہر طرح کی سازشوں کا سامنا کیا۔ منتخب وزیر اعظم کو بار بار چوہدری کورٹس بلاتی رہیں ہر قدم پر سوموٹو ایکشن لیا جانے لگا حتیٰ کے ایک منتخب وزیر اعظم کسی کو ایک ملازمت بھی دیتا تو سوموٹو ہوجاتا اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا میں مختلف ٹاک شوز میں پیپلز پارٹی کے خلاف عدالتیں لگائی جاتیں اسی دوران جنرل پاشا کی مہربانیوں نے عمران خان کی صورت میں ایک تیسری قیادت (خود ساختہ) کو بھی میدان میں اتارا اور جس کی میڈیا میں ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ اوریوں خان صاحب کوئی سیاسی شعور نہ رکھنے کے باوجود تیسری قوت تسلیم کر لئے گئے۔ غرضیکہ کوئی ایسا محاذ نہ بچا جو پی پی پی کی جمہوری حکومت کے خلاف نہ کھولا گیا ہو۔ حتیٰ کہ چوہدری کورٹ نے 32سیکنڈز کی سزا دے کر ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا۔ لیکن زرداری صاحب کی پائے استقامت میں لرزش نہ آئی۔ یہی سلسلہ جناب راجہ پرویز اشرف کے خلاف شروع کیا گیا لیکن پارٹی قیادت کے ماتھے پر شکن نہ آئی اور آخر کار پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت نے اپنی آئنی مدت پوری کی اور نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ جو کہ 11مئی 2013ء کو انعقاد پذیر ہوئے۔ اس وقت بھی زرداری صاحب صدر مملکت تھے اور بطور صدارت ان کے کارہائے نمایاں (جن میں گوادر پورٹ اور ایران سے گیس پائپ لائن منصوبہ) کو کوئی نذر انداز نہیں کرسکتا جس کے بعد حسن نثار جیسے شدید مخالف بھی ان کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوگئے اور اس کے علاوہ بطور صدر ان کے کردار پر ایک بھی انگلی نہ اٹھائی جاسکی۔
پھر گیارہ مئی کے انتخابات ہوئے جس میں PMLN کو کچھ زیادہ نواز دیا گیا اور میز پر بنائے گئے ایک نقشہ کے مطابق صوبوں کی مختلف حکومتیں اور مرکز میں ن لیگ کی حکومت بنی۔ منصب صدارت پر ہونے کے باوجودانہوں نے انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی
لیکن وہ سب کچھ جانتے ہیں کہ انتخابات میں کیا ہوا اور ان کا یہ بیان آج بھی ریکارڈ پر ہے کہ یہ ROمجھے دے دیئے جائیں تو میں دوبارہ صدر پاکستان بن سکتا ہوں۔ ان کا ایک بیان ساری حقیقت بیان کررہا ہے۔آخر کار جناب زرداری بھی اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ایوانِ صدر سے باعزت رخصت ہوئے۔ اور انتخابات کی حقیقت جاننے کے باوجود نئی حکومت کیلئے کسی قسم کی مشکلات پیدا نہ کیں۔
(برسبیل تذکرہ ایک شاندار مثال پیش کرتا چلوں ان انتخابات کی ۔میں جناب یوسف رضا گیلانی صاحب کے حلقے میں رہتا ہوں اور یہاں کی ہر حقیقت سے واقف ہوں۔ اس حلقہ یعنی NA-151میں روایتی طور پر ووٹ کاسٹ ہونے کی تعداد ایک لاکھ 25ہزار سے ایک لاکھ 30ہزار کے درمیان رہتی ہے جو کہ معجزاتی طور پر اس دفعہ2لاکھ 25ہزار تک پہنچ گئی۔ عبدالقادر گیلانی کو تقریباً60 ہزار ووٹ پڑے( وہ اس قت جب وہ ایم این اے بنے تھے صرف 4ہزار کم تھے اور اس وقت شوکت بوسن صاحب پی ایم ایل این ، پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور افتخار چوہدری کے مشترکہ امیدوار تھے۔) اس وقت بھی گیلانی صاحب نے 64ہزار ووٹ لئے تھے۔ اس بار پی ٹی آئی نے بھی 40ہزار اور دیگرچھوٹی جماعتوں نے تقریباً20ہزار ووٹ لئے تھے۔ ایک لاکھ ووٹوں کا اضافہ ایک معجزہ ہی کیا جاسکتا ہے جبکہ بوسن صاحب کے کریڈٹ پر کوئی قابل ذکر کارنامہ بھی نہیں ہے۔
پاکستان کی ہر پارٹی نے الیکشن میں دھاندلی کے الزام عائد کئے لیکن جمہوریت کی بقا کی خاطر نتائج کو تسلیم کیا جس میں PTI بھی شامل تھی اور پی ٹی آئی نے کے پی کے میں حکومت بھی بنالی۔ اور ساتھ ساتھ دھاندلی کا شور بھی ڈالتی رہی اورسال بھر کے پی کے میں اپنی کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی تو کچھ نامعلوم اشارے پر اچانک حکومت کے خلاف تحریک شروع کردی اور اس میں چوہدری برادران ، شیخ رشید اور دستی جیسے سنگل سیٹ والے لوگ بھی شامل ہوگئے اسی دوران ڈاکٹر طاہر القادری صاحب بھی پاکستان کے عوام کا درد دل میں لئے پاکستان وارد ہوگئے اور یوں ایک ناپختہ کار سیاستدانوں کا ایک حلقہ اٹھ کھڑا ہوا اور عوام کے حقوق کی جنگ (اپنی مرضی کے مطابق) شروع کردی ہے جس کا موقع خود خادم اعلیٰ نے سانحہ ماڈل ٹائون کرکے فراہم کردیا اور پورے ملک کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیا۔ اب کہیں ڈاکٹر طاہر القادری یوم شہداء منانے کے بعد انقلاب مارچ کا اعلان کرچکے ہیں تو عمران خان صاحب آزادی مارچ کا ڈول ڈالنے والے ہیں اور یہ موجودہ نااہل حکومت ہمیشہ کی طرح اس معاملے کو بہت بری طرح مس ہینڈل کررہی ہے اور وقت نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان تاریخ کی نااہل ترین حکومت ہے جو مناسب وقت پر کوئی مناسب فیصلہ نہیں کرسکتی اور اپنے وعدوں میں سے ایک وعدہ بھی پورا کرنے میں قاصر رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر ہے ۔ بیروزگاری دن بہ دن بڑھ رہی ہے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے اہم حکومتی ادارے دن بہ دن زوال پذیر ہیں صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہوچکی ہیں۔ مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آرہا۔ اوور بلنگ نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں غرضیکہ اس نااہل حکومت نے اپنے ووٹرز کے ساتھ ساتھ ان قوتوں کو بھی بھرپور احساس دلادیا ہے کہ تم نے جس طرح موجودہ بے سر وپا سیٹ اپ تشکیل دیا تھا ہم نے عوام سے اس کا بدلہ لے لیا ہے اور اس حکومت کا مزید اقتدار میں رہنا پاکستان کیلئے خطرہ ہے اور عوام اپنے طور پر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں کیونکہ وہ اپنی برداشت کی آخری حد چھو چکے ہیں۔
اس حکومتی معاملات کو الگ رکھتے ہوئے میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف آتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب انقلاب چاہتے ہیں تو عمران خان آزادی چاہتے ہیں۔ لیکن میں اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوتی ہوئی محسوس کررہا ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا ڈاکٹر صاحب یہ انقلاب کس لئے برپا کرنا چاہتے ہٰں کس طرح کا انقلاب چاہتے ہیں کیا وہ انقلاب عوام کی زندگیوں میں بھی آئے گا یا صرف الفاظ کی حد تک رہے گا۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے اس انقلاب کا نتیجہ کیا ہوگا یہ نہیں بتایا۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے وہ چارسیٹوں کے مطالبے سے بڑھ کر نئے انتخابات کے مطالبے تک پہنچ چکے ہیں۔ اور اس سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر نئے انتخاب ہو بھی جاتے ہیں اور نتیجہ خان صاحب کی مرضی کے مطابق نہیں آتا تو کیا پھر وہ ان انتخابات کو مانیں گے یا پھر ایک نئی تحریک شروع کردیں گے مجھے ان دونوں کا یکجا ہو کر تحریک کو طوالت دینے کا کوئی مقصد نظر نہیں آرہا۔ یوم شہداء پر ڈاکٹر صاحب نے عمران خان کے ساتھ مل کر تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے لیکن میں بہت زیادہ الجھا ہوا ہوں۔ کیونکہ یہ بے مقصد تحریک ہے میرا یہ خیال اس وجہ سے مزید پختہ ہوجاتا ہے کہ دونوں نے اپنی تحریک کا مقصد عوام کے حل کی صورت میں نہیں دیا اور تحریک کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو عوام کیلئے ان کے پاس کوئی ایجنڈا ہے کیونکہ عوام دیکھ چکے ہیںکہ عمران خان خیبر پختونخواہ میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور کسی قسم کی تبدیلی نہیں لاسکے اور میں انہیں ایک ناکام سیاستدان کے طور پر لیتا ہوں جو سٹریٹ پاور تو رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس بھی عوام کے لئے کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اور جب ایجنڈا ہی نہیں ہے تو وہ مسائل کا حل کیا کریں گے۔
اس لئے میں حکومت اور موجودہ تحریکی اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ ڈائیلاگ کرکے کوئی درمیانی راستہ نکالیں اور عوام کے حال پر رحم کریں۔ پیپلز پارٹی آخری دم تک اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش جاری رکھے گی اور ہر ممکن کوشش کرتی رہے گی کہ اس ہیجانی کیفیت کا کوئی قابل قبول حل نکل آئے اور اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ رونما ہوگیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت اور انقلابی اور آزادی مارچ والوں کے ذمہ ہوگی۔ خدارا عوام کی اذیت کااحساسکریں۔ ان کے حقیقی مسائل کی طر ف توجہ دیں لیکن اس چیز کا احساس نہ حکومت کو ہے اور نہ ہی آزادی اور انقلابی مارچ والوں کو۔ عوام اس صورتحال سے تنگ آچکے ہیں اور اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہیں احساس ہوچکا ہے کہ اس ملک کے حقیقی مسائل کا حل صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں