Mian Manzoor Wattoo warns intervention of third force‏

218860_l
The ruling party should honour the advice of the PPP, Jamai-i- Isalmi including other parties by not resorting to erecting barriers in the way of long marchers because it would trigger clash which is not in any body’s interest, said Mian Manzoor Ahme Wattoo, President Punjab PPP in a statement issued from here.

He said Imran Khan and Dr. Tahir-ul- Qadari should be given free hand during azadi march as they had given unequivocal assurance that their workers would remain peaceful, The Court has also given instructions to the government to remove containers for returning the life to normality, he added.

He warned that if marchers were stopped by force the resultant bloodbath would give the justification to the third force to intervene forcing the contesting parties to their political redundancy for the unforeseeable future.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo referred to the Chairman PTI public statement in which he had stated that he would present his demands during the azadi march.He would be soft then and definitely make room for accommodation, he opined.

He predicted that in that scenario the Parties with national outlook like PPP and Jamai-i- Islami including other parties would be in a better position to play their role for building bridges between the PTI and the government in the interest of democracy and the country.

He reminded that the people of Pakistan had reposed confidence in politicians of their representation and it was important that they should prove worthy of their trust by providing relief not adding to their woes.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo observed that politicians are known for showing light to the nation in darkness, they are hope in the face of hopelessness adding Pakistani politicians should not prove themselves as an exception.

حکمران جماعت کو پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور دوسری سیاسی جماعتوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے آزادی مارچ میں حصہ لینے والوں کے راستوں میں رکاوٹیں ہرگز نہیں کھڑی کرنی چاہئیں۔ یہ بات میاں منظور احمد وٹو صدر پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہا عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو آزادی مارچ کے دوران فری ہینڈ دینا چاہیے کیو نکہ انہوں نے پر امن رہنے کی کئی بار یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت عالیہ نے بھی حکومت کو کنٹینرز ہٹانے کی ہدایات دی ہیں تا کہ شہری زندگی معمول پر آجائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آزادی مارچ کے دوران ریاستی طاقت سے پرامن مظاہرین کو روکا گیا تو خونی تصادم کی ناگزیریت کا اندیشہ ہے جس سے تیسری قوت کو مداخلت کرنے کا جواز ملے گا اور لڑنے والی سیاسی جماعتوں کا سیاسی مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا۔ میاں منظور احمد وٹو نے پی ٹی آئی کے چےئرمین کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جسمیں انہوں نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے دوران وہ اپنے مطالبات پیش کریں گے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اُسوقت عمران خان اپنے مطالبات میں لچک پیدا ضرور کریں گے جس سے موجودہ بحران کا پرامن حل ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں قومی نقطہ نظر کی حامی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہونگی اور وہ ضرور کامیاب ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے جمہوریت کا مستقبل بھی روشن ہو گا اور ملک سنگین خطرات سے بھی محفوظ رہے گا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے سیاستدانوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور اب سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ اُنکے اعتماد پر پورا اتریں اور انکی زندگیوں میں تکلیف کی بجائے ریلیف مہیا کریں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ سیاستدان تو ناامیدی میں امید کی کرن ہوتے ہیں اور اندھیروں میں لوگوں کو روشنی دکھاتے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدان اپنے آپکو اس سے مختلف ثابت نہ کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں