Mian Manzoor Wattoo hopes sanity will prevail

218860_l
LAHORE: The PPP says the present political deadlock is a test of politicians’ foresightedness and maturity.

“It is to be seen how long it will take the politicians to overcome the crisis as democracy is at stake,” said Mian Manzoor Ahmad Wattoo, the PPP Punjab president, while talking to the party office-bearers from Okara and Sheikhupura on Saturday.

He said the government had decided to give a free hand to the participants of Azadi and revolution marches on the insistence of the PPP and other political forces which did not want a situation that could take an ugly turn in the form of bloody clashes.

Mr Wattoo appreciated the efforts of opposition leader Khursheed Shah and Jamaat-i-Islami chief Sirajul Haq and other leaders in cooling down the political temperature and seeking out political solution to defuse the crisis.

He expressed the hope that the politicians would find a way out of the turmoil.

موجودہ سیاسی بحران سیاسست د انوں کی سیاسی پختگی اور دور اندیشی کا امتحان ہے کہ وہ کتنی جلد اس پر قابو پاتے ہوئے جمہوریت کی بقاء کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے شیخوپورہ اور اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداروں کے وفود سے باتیں کرتے ہوئے کہی جنہوں نے آج یہاں ان سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیپلز پارٹی اور دوسرے سیاسی قائدین کی پرُزور اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے آزادی مارچ کو فری ہینڈ دیا جس سے حالات خونی تصادم کی طرف نہ بڑھے۔ میاں منظور احمد وٹو نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، پروفیسر سراج الحق اور دوسرے سیاسی قائدین کی کوششوں کو سراہا جسکی وجہ سے سیاسی ماحول میں خطرناک حد تک تیزی نہیں آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان قائدین کی سیاسی حل نکالنے اور جمہوریت کو بچانے کی کوششوں کو سراہا۔ میاں منظور احمد وٹو نے سیاستدانوں کی مشکل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسکی بنیادی وجہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے ایجنڈوں کی نوعیت سے منسلک ہے لیکن انہوں نے امید ظاہر کی اسکے باوجودہ سیاستدان کوئی نہ کوئی حل ضرور تلاش کر لیں گے کیونکہ وہ ممکنات کے فن کو بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان عوام کو اندھیروں میں روشنی دکھاتے ہیں اور پاکستان کے سیاستدان بھی عوام کو اس ضمن میں مایوس نہیں کریں گے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری، پروفیسر سراج الحق، سید خورشید شاہ، اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمن اور ملک کے دیگر زیرک سیاستدانوں سے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے رہنمائی حاصل کریں۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت کو خبردار کیا کہ اب اُنکے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو اپنے وزراء اور پارٹی کے قائدین کو مخالف سیاسی بیان بازی سے منع کرنا چاہیے تا کہ ملک میں سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اچھی سیاسی فضاء پیدا ہو۔ میاں منظور احمد وٹو نے احتجاج کرنیوالوں کے لیے خوردوش، ناشتے وغیرہ کے حکومتی فیصلے کو سراہا اور کہا کہ یہ وزیراعظم کا ایک اچھا فیصلہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں