PPP supports state and democracy: PPP High Level Meeting‏

10524673_434246896713071_3336624070630512990_n
1899895_434247560046338_4871823487148420950_n
10593061_434247503379677_196509989934274318_n
10616175_434246900046404_2045145817324586909_n
A high level meeting of the PPP leaders was held here today at the residence of Mian Manzoor Ahmed Wattoo which was attended by former Prime Minister Syed Yusuf Raza Giani, Latif Khosa. Secretary General PPP, Makhdoom Shahbuddin Pesident PPP Southern Punjab,Imtaiz Safdar Warrich, former President PPP Punjab,Rana Shaukat Mahnoor, Raja Riaz,Mian Misbah-ur- Rehman,Aziz-ur- Rehman Chann,Dewan Mohyyiuddin, Aurung Zeb Burkie, Aslam Gill, Raja Amir,Mian Abdul Waheed . Shaukat Basra and Akram Shaheedi, to discuss the fast changing political situation as emerging in the country.

While talking to media after the meeting, Mian Manzoor Ahmed Wattoo welcomed the participants and immensely appreciated their availability to participate in the meeting at a short notice.

He further said that the present government was the product of the rigged elections and therefore the question of its legitimacy had arisen as a consequence.

He added that PPP was a responsible Party whose leader had rendered the ultimate sacrifices for upholding the cause of democracy and its promotion in equal measure.

He further said that PPP did not believe in politics of vendetta and the historic words of former President Asef Ali Zardari after the martyrdom of Mohtrama Benzir Bhuttoo, “democracy is the best revenge” were surely the guiding principle for the Party politics.

He said that PPP did not believe in the politics of violence and therefore condemned the incident of Model Town in which 14 PAT workers were killed and more than ninety injured due to the use of brutal force by the Punjab government.

He made it clear that the PPP was supporting democracy not the bad policies of the government those had made the lives of the common people miserable due to excessive load shedding of electricity, run away prices of eatables, worsening law and order situation, unemployment etc.

He said that after the incident of Model Town, the Punjab government should have registered the case against the culprits voluntarily and the Punjab Chief Minister should have tendered resignation by confessing his inaptness and criminal negligence.

He suggested that better sense should prevail and the Government along with political leaders of the country should immediately engage the PTI and the PAT to diffuse the situation before it slipped away beyond redemption.

Then Mian Manzoor Ahmed Wattoo invited the former Prime Minister to respond to the questions of the media. Syed Yusuf Raza Gialini after thanking Mian Manzoor Wattoo for the meeting and the hospitality said that sit-ins and protests would not lead to the fall of the government but government mistakes would.

He said that the PML(N) government was responsible for the present political situation despite its government fortified with two thirds majority. He added that due to its failure of the government to read the gravity of the situation correctly followed by delayed actions had put the whole system in grave dangers.

He said that the PPP had been supporting the constitution, democracy and rule of law being a responsible opposition party in the democratic dispensation despite the serious reservations on the elections results of May 2013 elections.

He underscored the importance of engaging Imran Khan and Dr. Tahir-ul- Qadari at the earliest by the government aimed at hammering out a political solution of the continuing political deadlock.

Secretary General PPP, Latif Khosa rejected the politics of Sharif familiy that was holding about 22 important public positions. PPP’s unequivocal allegiance to State was the corner stone of its politics but that did not any way tantamount to supporting the government of the PML(N), he added.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کی رہائشگاہ پر پارٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جسمیں ملک کی بڑی تیز ی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، سابق گورنر لطیف کھوسہ، مخدوم شہاب الدین ، امتیاز صفدر وڑائچ، رانا شوکت محمود ، راجہ ریاض ، میاں مصباح الرحمن ، عزیز الرحمن چن ، دیوان محی الدین ، اورنگزیب برکی، اسلم گل ، راجہ عامر ، میاں عبد الوحید ، شوکت بسرا اور اکرم شہیدی شریک تھے۔اجلاس کے بعد میاں منظور احمد وٹو نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چونکہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اس لیے اسکی (Legitimacy)پر سوال پیدا ہونا فطری بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ایک ذمہ دار جماعت ہے جسکی قیادت نے جمہوریت کے لیے اور اسکے فروغ کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتقامی سیاست کو مسترد کرتی ہے۔انہوں نے باور کرایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے الفاظ ’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ ، پارٹی کی سیاست کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اس لیے ماڈل ٹائون کے سانحہ کی مذمت کی تھی جسمیں پنجاب پولیس گردی کی وجہ سے 14قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور تقریباً90کارکن زخمی ہوئے۔ میاں منظور احمد وٹو نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی حمایت کرتی ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پارٹی حکومت کی غلط پالیسیوں کی حمایت بھی کرتی ہے۔ ان غلط پالیسیوں نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے جسمیں لوڈشیڈنگ ، مہنگائی ، امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بے روزگاری وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹائون کے واقعہ کے بعد حکومت کو رضاکارانہ طورپر ملزموں کے خلاف مقدمات درج کروانے چاہئیں تھے اور وزیراعلیٰ پنجا ب کو اپنی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا ۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی قیادت اور حکومت کو پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کی قیادت سے جلد ازجلدمذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ موجودہ سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کیا جا سکے اگر ایسا نہ کیا گیا تو حالات اس حد تک خراب ہو سکتے ہیں جنکا مداوا ممکن نہ ہو۔اسکے بعد میاں منظور احمد وٹو نے سابق وزیرعظم سید یوسف رضا گیلانی کو میڈیا سے بات کرنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود موجودہ سنگین سیاسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دھرنوں اور احتجاجوں سے نہیں جائے گی، اگر جائے گی تو حکومت کی اپنی غلطیوں سے جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی اور پھر دیر سے اقدام اٹھانے کی وجہ سے سیاسی نظام کے لیے خطرات پیدا کر دئیے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک ذمہ دار سیاسی جماعت ہونے کے ناطے اس نے ہمیشہ جمہوریت ،آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے۔ اسکے باوجود کہ پارٹی کی قیادت کو 2013؁ء کے انتخابات کے ضمن میں سخت تحفظات ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ طاہر القادری اور عمران خان سے جلد از جلد مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی فارمولا تلاش کیا جائے جس سے ملک موجودہ غیر یقینی صورتحال سے نکل سکے۔ سردار لطیف کھوسہ ، سابق گورنر پنجاب نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت شریف خاندان 22اہم آسامیوں پر قابض ہے جو اُنکے شہنشاہیت مائنڈ سیٹ کی عکاس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی وفاداری ریاست پاکستان کے ساتھ مکمل ہے لیکن اسکو موجودہ حکومت کی حمایت سے تعبیر نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں