Both the parties should exhibit flexibility to find the political solution, says Mian Manzoor Wattoo

10580079_342890062537818_4678945196508747476_n
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, while addressing a press conference here today said that peaceful procession was the fundamental right of the people under democracy and it does not warrant any administrative action if the percussionists do not take law into their hands. The use of brutal force in Model Town was totally unjustified against the unarmed PAT works, he added
He said that no doubt that the present political stalemate was the making of this government but giving the punishment to the entire nation was unjustified and could not be condoned by any civilized society and constitutional measure. Both the parties should exhibit flexibility to find the political solution, he added.
He observed that the major responsibility to take measuring up initiatives lies on the shoulder of the government because it was the biggest stakeholder and was in position to offer concessions.
He maintained that if the government had responded to the demands of the PTI earlier by opening the four constituencies of Lahore for voters’ verification the political gridlock would have been safely avoided.
While responding to a question Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the Model Town incident aggravated the already volatile situation in which more than14 PAT workers were killed and about ninety suffered bullet shots.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo added that the delay in the registration of FIR on one pretext or another left no other option to the PAT Chief but to agitate for seeking justice.
MIAN Manzoor Ahmede Wattoo said that now the court had ordered the registration of the cases in the Model Town incident, it was incumbent on the Chief Minister to honour his commitment and resign because he was the chief executive of the Province.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo observed that if the Chief Minister had ordered the registration the FIR of the incident soon after the abhorrent incident the situation would have been entirely under control with no negative reflection on the government and the political system.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo made it clear that the PPP was unequivocally for the continuity of democracy and in case of danger the Party would not only opposed such misadventure to frustrate the insidious designs thoroughly and comprehensively.
Earlier, members of the well known political family of Hafizabd joined the Party and expressed their full confidence in the leadership of Chairman Bilawal Bhutto, Co- Chairman Asif Ali Zardari and President Punjab PPP Mian Manzoor Ahmed Wattoo. Those who joined included are Ansar Bhatti, EX- Tehsil Nazim, Mian Skindar Hayat Bhatti, EX- member district council, CH. Shafaqat Bhatti, EX-member D\District council and Rai Muhammad Zaman Kharral, EX-Nazim union council.

10369904_342890112537813_7541760959961960560_n
میاں منظور احمد وٹو نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج آئین پاکستان اور جمہوریت میں شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو انکے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں جب تک مظاہرین قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ میں پنجاب پولیس نے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے خلاف بلا جواز بے دریغ طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمیں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سیاسی بحران موجودہ حکومت کی نا عاقبت اندیشی کا نتیجہ ہے جسکی وجہ سے ساری قوم سزا بھگت رہی ہے۔ انہوں نے دونوں پارٹیوں سے گزارش کی کہ وہ اپنے اپنے مطاٗلبات میں لچک پیدا کریں تا کہ موجودہ بحران کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ موجودہ حالات کو نارمل کرنے میں سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہے اور مخالفین کو مراعات دینے کی پوزیشن میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات وقت پر تسلیم کر لیتی اور لاہور کے 4 حلقے کھول دیتی تو قوم موجودہ سنگین صورتحال سے بخوبی محفوظ رہ سکتی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے سانحہ سے سیاسی حالات اور زیادہ خراب ہو گئے ہیں کیونکہ اسمیں پنجاب پولیس کے بے جا طاقت کے استعمال سے پاکستان عوامی تحریک کے 14 لوگ جاں بحق ہوئے اور تقریباً 90سے زائد کو گولیاں لگیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج کرنے اور FIR کو ایک بہانے سے دوسرے بہانے سے التواء کی وجہ سے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ انصاف حاصل کرنے کے لیے احتجاج کرتے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے FIRدرج کرنے کا حکم دے دیا ہے اب وزیر اعلیٰ پنجاب پر لازم ہے کہ وہ استعفیٰ دینے کے وعدے کو پورا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کتنا اچھا ہوتا کہ وزیراعلیٰ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کے بعد ازخود FIR درج کرواتے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو موجودہ کشیدگی پیدا ہی نہ ہوتی اور حالات نارمل ہوتے اور سیاسی نظام کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہوتا۔میاں منظور احمد وٹو نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت اور اسکے تسلسل میں ایمان کی حد تک یقین رکھتی ہے۔ اور اگر ایسا کوئی خطرہ ہوا تو پارٹی ایسے تمام خطرات کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔اس سے بیشتر حافظ آباد کی کئی سیاسی شخصیات نے پیپلز پارٹی میں شرکت کی اور کہا کہ وہ چےئرمین بلاول بھٹو، کوچےئرمین آصف علی زرداری اور پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر میاں منظور احمد وٹو کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ جس میں میاں عنصر عباس بھٹی سابق تحصیل ناظم، میاں سکندر حیات بھٹی سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل، چوہدری شفقت بھٹی سابق ڈسٹرکٹ کونسل، رائے محمد زمان کھرل سابق ناظم یونین کونسل شامل تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں