Jamaat-e-Islami delegation meets Mian Manzoor Wattoo

10635886_439638816173879_4264096985498812591_n
10357122_439638869507207_4925861495994276213_n
10603353_439638866173874_4569506027178448093_n
Mr. Liaqat Baloch, Secretary General Jamai-i-Islami accompanied by Fareed Paracha and Ehsan Ullah Waqas met Mian Manzoor Ahmed Wattoo, at his residence here today and both the leaders reiterated their parties’ commitment to the supremacy of the constitution, upholding the cause of democracy and the rule of law. This they said while talking to the media after their more than one hour meeting.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the former President Asif Ali Zardari’s visit to Mansoora was the second visit of any head of PPP to the jamait headquarters after Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto.
He stated that the PPP had rendered countless sacrifices like jails, exiles, inflictions of lashes on workers and ultimate sacrifices( martyrdoms) of its great leaders for democracy and its preservation. The party was totally committed to uphold their legacy at all costs, he reiterated.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo appreciated the assiduous efforts of Amir Jamait Islami, Professor Siraj-ul-Haq and Mr. Liaqat Baloch that they undertook focussed at the political settlement of the prevailing deadlock. He added that under his leadership the Party had earned popularity among the people of Pakistan as a democrat Party dedicated to the principled politics.
He maintained it would have been appropriate if the politicians have settled the issues by themselves without involving army that was deeply engaged in fighting the survival war of the country. He further said that the whole political leadership should be standing behind army in the war against terrorism and extremism instead of involving it in internal politics.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the mishandling of the Model Town incident by the Punjab government was mainly responsible for the political storm that unfortunately swept across the country.
He observed that after the abhorrent incident, if the Punjab Chief Minister had resigned and ordered the registration of FIR without delay, the situation would have not taken the ugly turn paralyzing the normal life in the country.
Mr. Liaqat Baloch while talking to media asserted that Parliamentary democracy was the essence of Pakistani politics and no deviation in this regard would be acceptable to democratic forces of the country.
He further said that General Raheel Sharif was a through professional soldier hoping he would facilitate the political solution within the ambits of the constitution.
Mr. Liaqat Baloch underscored the importance of investigations of election rigging by Judicial Commission and of the Model Town Incident as well.
He emphasized the importance of reforming the electoral process in the country to ensure fair, free and impartial elections in absolute terms.

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، فرید پراچہ اور احسان الحق وقاص کے ہمراہ میاں منظور احمد وٹو پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کے ہمراہ انکی ماڈل رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی جو کہ ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک چلتی رہی۔ملاقات کے بعد دونوں لیڈروں نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں آئین کی بالادستی، جمہوریت اور قانون کی عملداری پر پورا یقین رکھتی ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ پیپلز پارٹی کے کسی بھی سربراہ کا دوسرا دورہ تھا۔ پہلا دورہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے جلاوطنی، کوڑے اور پھانسیاں بھگتی ہیں اور ان کے قائدین کو شہید کیا گیا ہے۔پارٹی جمہوریت پر ایمان کی حد تک یقین رکھتی ہے اور اسکے دوام اور مضبوطی کے لیے کوئی بھی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔پیپلز پارٹی اپنے قائدین کی روایات کو ہر قیمت پر زندہ و جاوید رکھے گی۔ میاں منظور احمد وٹو نے پروفیسر سراج الحق اور لیاقت بلوچ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔ جماعت اسلامی جمہوریت پر پورا یقین رکھتی ہے اور وہ اصولی سیاست کرتی ہے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ کتنا اچھا ہوتا کہ سیاستدان خود ہی ملکی سیاسی مسائل کا حل نکالتے اور فوج کو اس میں شریک نہ کرتے جو کہ اس وقت پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت ملک کی تمام سیاسی قیادت کو فوج کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑا ہونا چاہیے نہ کہ اس کو اندرونی سیاست کے مخمصوں میں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے سانحے کی کی مس لیڈنگ سے ملک ایک سیاسی بحران میں مبتلا ہو گیا جسکی پنجاب حکومت ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے سنگین واقعہ کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ کو از خود ہی استعفیٰ دینا چاہیے اور FIRدرج کرانے کا حکم بھی دینا چاہیے تھا اگر وہ ایسا کرتے تو کوئی سیاسی بحران پیدا نہ ہوتا۔ لیاقت بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ پارلیمانی جمہوریت پاکستان کی سیاست کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی جمہوری طاقتیں کسی اور سیاسی نظام کو تسلیم نہیں کریں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنرل راحیل شریف کمال پیشہ ور سپاہی ہیں وہ موجودہ سیاسی بحران کا حل آئین کے اندر رہتے ہوئے تلاش کریں گے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک کے انتخابی عمل میں دوررس اصلاحات ضروری ہیں تاکہ ملک میں شفاف، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھاندلی کے الزامات کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کی بھی اسی نوعیت کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں