PPP ke khilaf tamam sazishen nakaam ho chuki hain


پیپلز پارٹی مخالف قوتیں یہ سمجھ بیٹھى ہیں کہ پیپلز پارٹی ایک موسمی پھل ہے جو موسم کے بدلنے کےساتھ ہی ختم ہو جاے گا.. یا پہر حالات کی ستم ظرفی نے پیپلز پارٹی کو حکمرانی کا موقعہ دیا.. کبہی اسے بيرونى (ان أر او ) کی سازش و غیرە وغیرە… کہتے رہتے ہیں..

اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ان کے اندر ( ضیا الحق کا ) چھپا ہوا خوف ہے جو انہیں اس حقیقت کا اعتراف نہیں کر نے دیتا کہ بھٹو کو ختم کر کے بہی پیپلز پارٹی کو ختم نہیں کیا جاسکا … بلکہ پہلے سے بہی زیادە طاقتور اور پاکستان کے سارے صوبوں میں ایک مضبوط قومی جماعت کے طور پر عوام میں مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت بہی زیادە عرصےتک کر رہی ہے کیونکہ اس کی جڑیں عوام میں ہیں .. عوام کی اکثریت ہمیشہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تہی اور رہے گی.. باوجود اس کے کہ پارٹی کی حکومت کو مختلف طریقوں سے ٹف ٹایم دیا گیا عدالتوں کے ذریعے ہر اس اقدام میں رکاوٹیں کھڑیں کردیں گیں… جس سے حکومت کے تمام عوام پسند منصوبے دھرے کے دھرے رہ گیے… بجلی کے منصوبے ہوں یا بلوچستان میں فارن انویسٹمنٹ .. ٹیکس ریفورم اور اب جو اسلام اباد کو سیف سیٹی بنانے کا منصوبہ… غرض کہ کرپشن کے صرف الزامات لگا کر تمام منصبوں کو تھس نھس کر دیا… لیکن کرپشن پہر بہی ثابت نہیں ہوی.. عدلیہ اور اپوزیشن کی سازشیں یہاں تک نہیں رکیں.. میمو گیٹ.. حج سکینڈل.. ایفڈریں سکینڈل .. حکومت آج گری کل گری.. اتحادی چھوڑے گیے.. وغیرە اسکی چند مثالیں ہیں ..

لیکن ستم ظرفی یہ ہے کہ ان سے نکلا کچھ نہیں .. اور یہ صرف پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی سازشوں کےعلاوە کچھ نہیں… اس سازشی ٹولہ کے یہ ہتکنڈے پیپلز پارٹی کے خلاف نئے نہیں اس کی مثال سویس کورٹ کا ڈرامہ وغیرە سب کے سامنے ہے.. ان سب سازشوں سےپیپلز پارٹی کو عوام سے دور نہیں کیا جاسکا .. بلکہ ہر ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی پہلے سے بہی زیادە مقبول ہوی.. یہاں تک کہ سینٹ میں بہرپور اکثریت حاصل کر چکی ہے جوکہ اگلے چھ سال تک برقرار رہے گی.. اب پیپلز پارٹی کے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے اصولی موقف کو قانونی پیچیدگیوں الجہا کر سرد خانے ڈالنے كى بھرپور کوشش کی جاے گی اس کیلیے عدالتیں پہر حاضر ہوں گیں چاہیے اس پر سٹے دے کر یا پہر اسے سٹرایک ڈاون کرکے .. اس میں ن لیگ نے جو سیاسی فائدە لینا تہا وە ان دو قرارداتوں سے حاصل کرنا ہے جو انہوں نے بڑی سوچی سمجہی سازش کے تحت پنجاب اسمبلی سے خود پاس کروایں ہیں .. یہ ڈرامے بازی کی ہے کہ ( ن لیگ ) نےصوبے کے حق میں ہے لیکن کمیشن کی قانونی اور انتظامی امور اور حیثیت کیلیے عدالت سے رجوع جاۓ گا…

جس کا مطلب ہے کہ یہ مسئلہ آئیندە پچاس سال میں بہی حل نہیں ہونے والا.. ن لیگ کے سازشی ذھن اور سوچ یہ سمجہتے ہیں کہ الزامات ، عدالتیں اور ڈرامے بازی سے وە عوام کی انکہوں میں دھول جھونک سکتے ہیں.. لیکن یہ سازشی یہ حقیقت نہیں سمجہنا چاہتے کہ پیپلز پارٹی کو کبہی بہی ..اسٹبلشمنٹ ٬ عدلیہ ٬ سازشوں اور غلط پروپگنڈے سے عوام سے دور نہیں کیا جاسکتا.. عوام میں پیپلز پارٹی کے خلاف ایسی سازشیں نہ ماننے کا “سلف رزیسٹنس ” ماده پیدا ہو چکا ہے … کیونکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید رانی کے دونوں ادوار اور پہر آصف زرداری کے جیل کی سلاخوں کے پیچے سالوں تک یہ نا ختم ہونے والے سنگین الزامات لگاتے رہے ہیں اور رہیں گے… جو غداری سے شروع ہو کر دنیا کے ہر جرم اور گناە سے ہوتے ہوے جن میں قتل تک شامل ہے کرپشن پر آ کر بہی نہیں رکتے … بلکہ ذاتی زندگی اور بچوں تک کو بہی نہیں بخشتے.. اسلیے کہ الزامات کے علاوە پیپلز پارٹی کے خلاف ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں .. اور اب یہ سازشی جراثیم ایک اور نئی تخلیق کردە اینٹی بھٹوازم پارٹی کو منتقل کردیے گیے ہیں جو ایک بار پہر پیپلز پارٹی کے خلاف وہی پرانے گہسے پٹے پرانے ہتکنڈے اور سازشیں کرنے کی تیاری کر رہى ہے… بھٹو ازم کے پرانے دشمنوں کے نۓ چہروں کے لیے ایک ہی نعرە ہے

تم کتنے بھٹو ماروگے

ہر گھر سے بھٹو نکلے گا

Source:

اپنا تبصرہ بھیجیں