Mian Manzoor Ahmed Wattoo opposes army’s involvement in internal poilitics

218860_l
It is highly inappropriate to involve the army in the internal polices adding the move poorly reflected on the politicians who initiated it , said Mian Manzoor Ahmed Wattoo in a statement issued her today.

He said that the heads of politicians in general and of warring parties in particular should hang in shame for their failure to get the country out of the self-created political turmoil that had brought the morale of the nation to the knees. It reflects very poorly on the agitating politicians and the lack of this realization is more disturbing, he added.

He appreciated the sincere efforts of the PPP and Jamait-i- Islami leadership focused to break the deadlock but the instrsigence of the conflicting parties had scuttle their endeavors to the dismay of all of the people right across the poor country..

He said that the reported invitation to the army to play the role mediator reflected the immaturity of those who waded to do so.

He added that the army had been fighting the war of survival of the country and engaging the institution in the internal politics would divert its attention adversely affecting the war against terrorism to our utter disadvantage.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the army was deeply engaged against terrorists in FATA, Quetta, and Karachi and indeed in the whole country and rendering sacrifices so that the nation could lead their way of life according to their aspirations.

He urged the agitating parties to get out of their cocoon and care for the comforts and welfare of the people and let them off the hook of the siege. The result of their obstinacy is now earning the ire of the civil society at an accelerated pace, he observed.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo strongly called upon the government, PTI and PAT leadership to seek out common ground urgently and get the nation out of the torture that had made their lives miserable due to the hanging of pall of uncertainty all over the country.

He said that fair-minded people fail to understand as why these leaders were hell bound to inflicting sufferings on the poor people instead of providing them comforts by not doing thugs which were source of torture for them. People’s patience is running thin and it could spillover in the form of revenge, he cautioned.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the skewed up mid-set of the warring parties had caused huge losses to the economy, rupees value had depreciated and the trend was continuing, international financial institutions were not dealing us with respect. Above all, the image of the country has taken nosedive due to the Tamasha in Islamabad being played by the parties for the last many days. It must come to an end now as enough is enough, he asserted.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں فوج کو اندرونی سیاست میں ملوث کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ فوج کا ملوث ہونا سیاستدانوں کی ناکامی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تمام سیاستدانوں کے بالعموم اور احتجاج کرنیوالی جماعتوں کے بالخصوص سر شرم سے جھک جانے چاہئیں جنہوں نے اس سیاسی بحران کو پیدا کیا جس سے قوم کا مورال بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ احتجاج کرنیوالی جماعتوں کے کان پر ابھی تک اس ضمن میں جوں تک نہیں رینگی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے قائدین کی مخلصانہ کوششوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ آپس میں دست و گریباں جماعتوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ فوج کو ملک کی اندرونی سیاست میں ملوث کرنا جمہوریت اور فوج دونوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت فوج ملک کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس کو ملکی سیاست میں ملوث کرنے سے فوج کی توجہ دہشتگردی کے خلاف بٹ سکتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ فوج اسوقت وزیرستان، کراچی، کوئٹہ اور تمام ملک میں دہشتگردی کے خلاف برسر پیکار ہے اور بے شمار قربانیاں دے رہی ہے تا کہ پاکستان قوم اپنی امنگوں کے مطابق آزاد ملک میں آزاد شہری کی مانند زندگی گزار سکیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے پاکستان عوامی تحریک ، تحریک انصاف اور حکومت سے پرزور اپیل کی کہ وہ فورًا لوگوں کو موجودہ غیر یقینی کے عذاب سے نجات دلائیں جس نے انکے اعصاب کو جکڑ رکھا ہے اور ملک کے طول و عرض میں مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حقیقت پسند لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ جماعتیں عوام کی زندگیوں میں عذاب لانے کی بجائے انکی فلاح و بہبود کے لیے کام کیوں نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے جس سے انکے سیاسی مستقبل پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں جنکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ دل کو بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ انکی لڑائی کی وجہ سے ملک کی معیشت کو بے پناہ نقصان ہو رہا ہے، روپے کی قدر کم ہو رہی ہے اور بین الاقوامی مالی ادارے پاکستان سے کاروبار کرنے میں ہچکچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کا امیج بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہا کہ اب بہت ہو گیا ہے اور اپنی انا کے کھول سے نکل کر پاکستان کے عوام جمہوریت، آئین اور قانون کی عملداری کا خیال کریں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں