No justification for attack on parliament, says Mian Manzoor Wattoo

218860_l
Onslaught of the Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) and Pakistan Awami Tehreek (PAT) on the Prime Minister House, Pak Secretariat and Parliament was uncalled for, and cannot be justified by any measure of democratic politics, said Pakistan Peoples Party (PPP) Punjab President Manzoor Wattoo while talking to journalists at the residence of PPP Sahiwal Vice President Rana Aftab.

Wattoo said that his party had emerged as the third political force of the country and it was not possible for the Parliament and the government not to heed to his grievances. He said that the government was also guilty of unforgiving tardiness because it did not endeavor to look into the demands of the PTI for voters’ verification for such a long time.

He added that the government was responsible for the present political crisis due to the mishandling of the Model Town incident by the Punjab government in which 14 PAT workers were killed and ninety were injured. He further said it was criminal act of the government that it delayed the registration of the FIR that paved the way for agitation politics.

Wattoo maintained that the PAT had different agenda of seeking out of box solution of the problems of the country but the PTI was a democratic party and should tread on implementing its agenda through the democratic means.

He said that even at this critical time dialogues were the only way to get the country out of the turmoil because conflicts were resolved at the negotiation table at the end of the day. Although a lot of waters have flown down the bridge but still negotiations should be resumed to cut national losses, he added.

He observed that ongoing tamasha in Islamabad had given enough reasons to the world for the laughter at our expense. The child play has proved that the politicians have failed to resolve their differences due to egoism that had skewed up, apparently, beyond redemption.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی پارلیمنٹ ، وزیراعظم ہاؤس اور پاکستان سیکرٹیریٹ پر یلغار کو کسی لحاظ سے بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بات انہوں نے رانا آفتاب، سینےئر وائس پریذیڈنٹ پیپلز پارٹی ساہیوال کی رہائش گاہ پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ وہ ساہیوال میں غلام فرید کاٹھیا سابق وفاقی وزیر کی اہلیہ کی تعزیت کے لیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں گیمبلنگ اچھی سوچ نہیں ہوتی اور عمران خان کو سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اپنے مطالبات پارلیمنٹ کے توسط سے منطور کرانے چاہئیں تھے جہاں پر انکی اچھی بھلی نمائندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری ہے اور یہ پارلیمنٹ کے لیے ممکن نہ تھا کہ انکی آواز کی شنوائی نہ ہوتی ۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت ہی اس بحران کی ذمہ دار ہے جس نے تحریک انصاف کے جائز مطالبات پر کافی دیر تک توجہ نہیں دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت موجودہ سیاسی بحران کی بلاشبہ ذمہ دار ہے کیونکہ ماڈل ٹاؤن کے سانحہ میں پنجاب حکومت کی مس ہینڈلنگ سے ملک کو یہ دن دیکھنا پڑا۔ اس سانحہ میں 14لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور 90سے زائد لوگ زخمی ہوئے اور پھر ملزموں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہ ہونے دی جسکی وجہ سے پاکستان عوامی تحریک نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پی اے ٹی کا علیحدہ ایجنڈا ہے جوکہ ملکی مسائل کو( آؤٹ آف باکس) کے حل میں یقین رکھتی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہونے کے ناطے جمہوری طریقوں سے اپنے منشور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اب بھی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اسکے باوجود کہ بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے لیکن پھر بھی قومی نقصانات کو کم کرنے کے لیے اسی راستے کو اپنانا عقلمندی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات جلد ازجلد شروع کئے جانے چاہئیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اسلام آباد کے تماشے سے پاکستان اور پاکستان کی قوم کی دنیا میں کافی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔اس کھیل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاستدان ناکام ہوگئے ہیں کیونکہ وہ اپنی انا کے کھول سے باہر نہیں نکل سکے۔ ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں کیونکہ دنیا میں پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے جمہوریت اور ملک کے دشمن خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان عوامی تحریک اور حکومت کو ان دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مذاکرات کے ذریعے فوری طور پر بحران پر قابو پانا چاہیے۔ میاں منظور احمد وٹو نے میڈیا کے نمائندوں پر پولیس کے تشدد کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار اہلکاروں کو جلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں