تاریخ کا جبر -تحریر ریاض حسین بخاری

qadri-pat-sit-in-prime-minister-house-pakistan-nawaz-pti-ik-march-violence-parliament-tahir-Qadri_8-31-2014_158313_l

2013ء کے الیکشن کا دور دورہ ہے ۔ یہ الیکشن طالبان دوست ارو طالبان مخالف قوتوں کے درمیان ہے۔ طالبان دوست جماعتوں کو جتوانے کیلئے سٹٰج تیار ہو چکا ہے۔ عمران خان اور محمد نواز شریف پورے پاکستان میں اکیلے دنددناتے پھر رہے ہیں ۔طالبان مخالف قوتوں یعنی پی پی پی ۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کے ہاتھ پاؤں باندھ دئے گئے ہیں حتیٰ کہ ایک سابق اور منتخب وزیر اعظم کے بیٹے کو الیکشن مہم کے دوران دن دہاڑے اغوا کر لیا جاتا ہے تاکہ ان طالبان دشمن قوتوں پر از حد دباؤ بڑہا دیا جائے اور افتخار چوہدری ( ہم اسکا نام لینا بھی گنا ہ سمجھتے ہیں) اپنے ما تحت ججوں کو حکم دے چکا ہے کہ نواز شریف کو ہر صورت میں جتوانا ہے ۔ اس قبیح فعل میں الیکٹرانک میڈیا روزانہ نت نئے سروے جاری کر کے الیکشن سے پہلے ہی نواز شریف کو جتوا چکا ہے حالانکہ اس شخص کے کریڈٹ پر ایسا کوئی کارنامہ ہی نہیں کہ اُسے بار بار مملکت پاکستان کی باگ دوڑ سونپ جاتی رہے لیکن ساز شی اپنا کام کر چکے ہیں ۔ یہ جاننے کے باوجود طالبان مخالف قوتیں ( کہ انہیں ہرایا جا رہا ہے ) پھر بھی ہمت نہیں ہار رہیں ہیں۔ اور دوسری طرف عمران خان کی چنگھاڑیں میں تو کہیں نواز شریف اور خصوصاً شہباز شریف کی بڑ ھکیں ہیں۔ مثلاً میں نے 3ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی تو میرا نام بدل دینا۔ پھر 6 ماہ ہو جاتا ہے اور ایک سال ڈیڑھ سال دو سال کا عرصہ دیا جاتا ہے۔ زرداری صاحب( جو کہ اس وقت بھی صدر پاکستان اور سربراہ مملکت تھے) کو سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام بدل دینا۔ غرض یہ کہ اتنے نام نہیں ہیں جتنے اُس کے دعوے ہیں اس کے علاوہ زر بابا اور چالیس چور اور غرضیکہ انہیں کیا کیا نہیں کہا جاتا ہے لیکن وہ کسی قسم کی الیکشن میں مداخلت نہیں کرتے دوسری طرف عمران خان کے الیکشن ہم کے نام پر میو زیکل کنسرٹس جاری ہیں اور وہ بھی الیکشن ووٹنگ سے پہلے ہی خود کو وزیر اعظم سمجھ چکا ہے اب صرف قوم کو دھوکا دینے کیلئے الیکشن کا ڈرامہ رچایا جا رہاہے۔
الیکشن ہوتا ہے اور پہلے سے ترتیب دیے گئے نقشہ کے مطابق حکومتیں تشکیل دے دی جاتی ہیں۔ صدر پاکستا ن پر وقار طریقے سے اقتدار ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو منتقل کر دیتے ہیں اور جمہوری سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ ہر قسم کے تحفظات کے باوجود پیپلز پارٹی اے این پی ۔ حتیٰ کہ تحریک انصاف ( بادل نخواستہ) ان نتائج کو قبول کر لیتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی مکمل طور پر جمہوری نظام کو تسلسل کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہے۔ ہر قسم کے طعنے سنتی ہے لیکن جمہوریت کی بقا کے لئے اپنے جدو جہد جاری رکھتی ہے۔ اور حکومت کیلئے کسی قسم کی مشکلات پیدا نہیں کرتی ۔ جبکہ تحریک انصاف نتائج تسلیم کرنے کے باوجود پہلے دن سے ہی دھاندلی کا رونا شروع کر دیتی ہے PMLN کی حکومت ایک نالائق ترین حکومت ہونے کا مسلسل ثبوت دیتی رہتی ہے وہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سکھتی۔ اپنے مخالفوں خاص طور پر پی پی پی کی قیادت کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کر دیتی ہے جناب آصف علی زرداری کے خلاف پہلے سے بنائے گئے جھوٹے مقدمات دوبارہ کھول دیے جاتے ہیں سابقہ صدر پاکستان اور سابق وزرائے اعظم کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے لیکن پیپلز پارٹی ہر ظلم خندہ پیشانی سے برداشت کرتی ہے کیونکہ اس کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ وہ بی بی شہید کے فلسفے’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ پر عمل پیرا رہتی ہے لیکن حکومت دے پردے کے مصداق غلطیوں پر غلطیاں کیے جار ہے ہیں اور بھاری مینڈ یٹ اس کے لئے بوجھ بن چکا ہے( ماضی کی ہیوی مینڈیٹ والی حکومتوں کی طرح ) لیکن پیپلز پارٹی صبر کا دامن نہیں چھوڑ رہی ہے۔
اب الیکشن میں کئے گئے دلفریب وعدے پورا کرنے کا وقت ہے جس پر PMLNکی حکومت عمل پیرا ہو چکی ہے ملک ترقی کی طرف رواں دواں ہے ۔عوام دیکھ رہی ہے کہ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ بیروز گاری تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے مہنگائی کا نام و نشان نہیں ہے تعلیم اور صحت کی سہولتیں عوام کی دہلیزتک پہنچ چکی ہیں ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہے فو ج اور حکومت کے درمیان تعلقات مثالی ہے ۔ لاء اینڈ آرڈر مکمل طور پر حکومت کی گرفت میں ہے ۔ امن و امان مثالی حدوں کو چھو رہا ہے ۔ طالبان ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں غرضیکہ راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ ایک بدلہ ہوا پاکستان ( جس کا وعدہ نواز شریف نے اپنی الیکشن مہم میں عوام سے کیا تھا) وجود میں آچکا ہے ۔ کے پی کے نے عمران خان مکمل تبدیلی برپا کر چکا ہے۔ وہاں کرپشن ختم ہو چکی ہے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے پاکستان تیزی سے ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ جناب آصف علی زرداری کو شہباز شریف لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے اور زرداری صاحب ہاتھ باندھ کر اُس سے معافی مانگ رہے ہیں۔ شریف برادران بڑے فخر سے عوام سے مخاطب ہیں کہ دیکھوہم اپنے تمام وعدے پورے کر چکے ہیں۔ قوم کا سار اپیسہ جو باہر کے ملکوں میں پڑا ہے ملک میں واپس لا چکی ہے پوری قوم ان کی کا میابی پر ان کو مبارکباد دے رہی ہے ۔
میں خوشی سے اچھلا اور دھم سے بستر سے نیچے گر پڑا میری آنکھ کھل گئی تو کیا یہ سارا خواب تھا جس میں اتنی لمبی فلم چلی اس قوم کو پھر دھوکہ دے دیا گیا اور جو جھوٹے خواب دکھائے گئے تھے وہ سارے سیاسی وعدے ثابت ہو رہے تھے۔
اب میں حقیقت کی دنیا میں آ چکا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا میری قوم ہمیشہ نت نئے دھوکے کھاتی رہے گی۔؟ اس حکومت کو تقریباً ڈیڑھ سال ہوا ہے لیکن پوری قوم نفسیا تی مریض بن چکی ہے لوڈ شیڈنگ میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی۔ پیٹرول نا قابل برداشت حد تک مہنگا ہے ۔ سی این جی نایاب ہے تعلیم جعلی ڈگریوں کی صورت میں بک رہی ہے مہنگائی نے غریب عوام کی چیخیں نکال دی ہیں غریبوں کے گھر میں دو وقت کا کھانا بننا محال ہو چکا ہے ۔ ماں باپ بچوں کے ساتھ خود کشیاں کر رہے ہیں ۔ سرکاری اداروں سے ملازمین کو دھڑا دھڑ بے روز گار کیا جا رہا ہے ۔ میری غریب عوام کا پیشہ نمائشی منصوبوں میں خرچ کیا جا رہا ہے۔ گوادررپورٹ کا منصوبہ انتہائی سست روی کا شکار ہے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ سرد خانے میں ڈالا جا چکا ہے غریب مریض سرکاری ہسپتالوں سے ادویا ت نہ ملنے کی وجہ سے جان کی بازی ہار رہے ہیں ۔ غرض یہ کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ پاکستان کے چند تاریک ترین عرصوں میں سے ایک عرصہ ہے ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں تبدیلی لانے کے دعوے دار عمران خانے اپنے صوبے KPK میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس ناکامی کے باوجود نیا پاکستان بنانے کے دعوے کر رہی ہے ۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے دھرنوں کے تحریک کے نام پر میوزیکل پروگرام ( جن میں شرم و حیا کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں) چلائے جا رہے ہیں اس سارے عمل کے پیچے ایک سکرپٹ ہے جس کا کلائمکس کل مورخہ 30-08-2014کو شاہراہ دستور پر دکھا یا گیا ۔ اس کلامئکس میں عمران خان اور کینڈا سے آئے ہوئے شخص ڈاکٹر طاہر القادر ی اور دھرنے کے ذریعہ پوری قوم کو ایک مسلسل قربناک اور مسلسل اذیت سے دو چار کیا جا رہا ہے اور ملک کے حالات انتہائی ابتر ہو چکے ہیں اور حالات کو اس نہج پر پہنچانے میں موجودہ
نا اہل حکمرانوں کی احمقانہ حرکتوں کا پورا حصہ ہے جس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن بر پا کر کے دونوں تحریکوں کو ایک مظبوط جواز فراہم کر دیا اور اسی بنیاد پر دھرنوں کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں اللہ ہمارے حکمرانوں کو عقل کے ناخن دے اور میرے پاکستان کی حفاظت کرے( آمین) اس سارے عرصے کے دوران ایک حیرت انگیز واقعہ ظہور ہوا جب محترم نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان نے سابق صدر پاکستان نے جناب آصف علی زرداری کو اپنے گھر رائے ونڈ محل میں کھانے پر دعوت دی اور پوری قوم نے اپنی ۃآنکھوں سے دیکھا کہ ان زرداری صاحب ( جب صدر پاکستان تھے انہوں نے نواز شریف کے بھائی کی وفات پر تعزیت کے لئے رائے ونڈ آنے کی خواہش کی تو انہیں صاف منع کر دیا گیا ۔ وہ صدر پاکستان ایک ہفتہ لاہور رہا وزیر اعلی تک نے ان سے ملنا پسند نہ کیا ) کو وزیر اعظم صاحب خود گاڑی چلا کے ہیلی پیڈ پر لینے جاتے ہیں جب وہ رائے ونڈ پہنچتے ہیں تو شہباز شریف موجود نہیں ہیں ۔ وہی شہباز شریف جو زرداری صاحب کو بالوں سے پکڑ کر لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتا تھا اور انتہائی گری ہوئی بات کرتا تھا۔ اپنے گھر میں موجود نہیں تھا کیونکہ وہ زرداری صاحب کے سامنے آنے کی جرت کی ہی نہیں کرسکتا تھا۔ جناب زرداری اس مشکل وقت میں حکومت کو مسیحا کی صورت میں نظر آرہے ہیں اسے کہتے ہیں تاریخ کاجبر ۔
اس سارے عرصے میں جناب آصف علی زرداری صاحب نے اپنے مثالی کردار سے اپنا قد اتنا بلند کرلیا ہے کہ ان کے سامنے باقی سارے سیاستدان بونے نظر آرہے ہیں شہباز شریف کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ سیاستدان کہلانے کے مستحق ہیں ، سیاسی مخالفت میں اس قدر آگے نہیں نکل جانا چاہیے کہ واپسی کا راستہ ہی بند نہ ہوجائے۔ زرداری صاحب کے اس کردار کو پوری قوم تسلیم کرچکی ہے۔ وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اس وفد جناب آصف علی زرداری صاحب (شریک چیئرمین پی پی پی ) ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو کہ سچے پاکستانی اور محب وطن سیاستدان کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔
یہاں میں مقتدر حلقوں سے بھی درخواست کروں گا کہ خدارا پی پی پی کو ایک حقیقت سمجھیں اور اس سچائی کا تسلیم کریں کہ زرداری صاحب ہی پاکستان کی عوام کو مسائل کی دلدل سے نکال کر غریب عوام کے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دے سکتے ہیں اس لیے جب بھی الیکشن ہوں انتخابات ہوں کسی طور پر متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ پاکستان میں سوائے ستر کے تمام انتخابات انجینئرڈ ہوئے ہیں اس لیے شفاف الیکشن کروا کر جو مستحق ہوں جنہیں عوام ووٹ دے انہیں حکومت کی باگ دوڑ سونپی جائے تاکہ وہ کسی ڈر اور خوف کے بغیر اپنے ایجنڈے پر عمل کرسکیں آخر میں پوری قوم جناب آصف علی زرداری کی عظمت اُن کی جرات ، برداشت اور سیاسی بصیرت کو اسلام عقیدت پیش کرتی ہے۔
کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے
چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر
ایک زرداری سب پہ بھاری

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں