Mian Manzoor Wattoo terms Atizaz's speech as true reflection of PPP policies‏

201210182548_samaa_tv
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has appreciated the superb articulation of Senator Atizaz Ehsan perfectly representing the People’s Party policy on various issues of national importance and also Party’s determination to defend the constitution and to ensure the continuity of the political process come what may.
He stated that despite the bad governance and the epic mishandling of the Model Town, Lahore incident it was not possible to give a free hand to the PTI and PAT protestors to resort to indulge in activities against state, constitution and democracy.
While Parliament has spoken loud and clear by expressing its firm resolve to defend the constitution and democracy but the message has also been given to the government in equal measure to improve governance and treat Parliament and the opposition with due respect, he added.
Without contesting the veracity of one of the demands, resignation of the Prime Minister by PAT and PTI, he said that these parties could not be allowed the prolonged protests and ransacking of state buildings. Their activities fall outside the ambit of the law and the constitution. They are disregarding the Supreme Court instructions to vacate Constitution Avenue, whom they are pleasing, he asked.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo maintained that if the Punjab Government had not used the brutal force in Model Town Lahore the political situation would have never come to this pass as it was today. Punjab government’s top position in governance, according to a survey, is meaningless in the face of killing of 14 PAT workers, the aftermaths of which had brought the country to its knees,
He said that he fully agreed with the sense of the House that the problems of the people should be addressed by the government on pro-active basis by improving the governance and the delivery services instead of focusing only on controlling the government.
He pointed out that the people were frustrated and leading miserable lives due to phenomenal price hike, poverty, unemployment, worsening law and order situation and above all agonizing load shedding of gas and electricity.
He added the tall promises of controlling the load shedding in months than years by the PML(N) leaders especially by Punjab Chief Minister Shahabaz Sharif had raised the level of frustration of the people to a boiling point and their agitations against the government were not misplaced.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo reminded that the Chief Minister used to encourage the people to protest against the PPP government on this issue of load shedding with false promises adding now he was facing the music without an iota of connivance of the PPP.
He opined that the politicians should desist from being unrealistic in their promises during electioneering for the sake of getting theirs votes to ascent to the corridors of power and then turning blind eye to the delivery aspect.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احم وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں سینیٹر اعتزاز احسن کی کل کی پارلیمنٹ میں تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کی بہترین عکاسی کرتی ہے جسمیں پارٹی کے حزب اختلاف کا کردار بھر پور طریقے سے عیاں ہوتا ہے اور ساتھ ہی پارٹی کا جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر ایمان کی حد تک یقین کا اظہار ہوتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پارلیمنٹ کے جاری مشترکہ اجلاس میں آئین اور جمہوریت کے دفاع کا عزم بڑا خوش آئند ہے لیکن اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے مسائل کو حل کرنے پر فورًا توجہ نہ دے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اسکے باوجود کہ پنجاب حکومت کی ماڈل ٹاؤن واقعہ کی فعاش غلطی کی وجہ سے 14سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے لیکن پاکستان تحریک اانصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو آئین اور جمہوریت دشمن سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ احتجاج کرنیوالی پارٹیوں کے وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے کی صحت میں جائے بغیر پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو ریاست کی عمارتوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں آئین کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنیوالوں نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود شاہراہ دستور کو خالی کرنے سے انکار کیا آخر وہ ایسا کرکے کس کو خوش کر رہے ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت ماڈل ٹاؤن واقعہ میں بے جا پولیس کی طاقت کا استعمال نہ کرتی تو آج سیاسی بحران اتنا سنگین نہ ہوتا جتنا کہ آج ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی گورننس میں ایک حالیہ سروے کے مطابق ٹاپ پوزیشن ہے لیکن ماڈل ٹاؤن کی 14 ہلاکتوں کے پیش نظر اس گڈ گورننس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ انکی گورننس کے دوران 14معصوم جانیں ضائع ہوئیں جس سے ملک میں اتنا بڑا بحران پیدا ہوگیا جسکی وجہ سے ساری قوم گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پارلیمنٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، گورننس میں بہتری لائی جائے اور لوگوں کو اس بہتری کے فرق کا احساس بھی ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لوگ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، صحت اورتعلیم کے شعبوں کی ناگفتہ بہ حالت اور سب سے بڑھ کر بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کو جینا حرام ہو گیا ہے اور سارے ملک میں مایوسی کا عالم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے بلند بانگ دعووں سے لوگوں کی مایوسی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جسمیں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں لوڈشیڈنگ ختم کر دینگے لیکن ایسا نہیں ہوا جس سے لوگوں میں بددلی پھیل گئی۔ انہوں نے یاددلایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب لوگوں کو پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت کے خلاف لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر اُکساتے بھی تھے لیکن اب وہی احتجاج انکے خلاف ہو رہا ہے جو مقافاتِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو اقتدار میں آنے کے لیے انتخابی مہم میں سبز باغ دکھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں