PPP strives for settlement before Chinese President Visit, says Mian Manzoor Wattoo‏

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has said, the PPP under the leadership of Co- Chairman Mr. Asef Ali Zardari is pro-actively involved and striving hard for the amicable settlement of the present political crisis well before the visit of the Chinese President to Pakistan.
This he said in a statement issued from here today. He urged the agitating parties to create flexibility in their maximal position because give and take was the essence pf negotiations.
He added that the obstinacy never yield desirable prognosis and this was truer in politics especially in which the leadership had to make compromises for the sake of ultimate objective. In this case, it is the continuity of the democratic process in Pakistan, he observed.
He maintained that the politics was the art of possible and the politicians who failed to make it happen indeed reflected their inaptness in the art of politics leading to darkness instead of to the light of a promising future.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo earnestly urged the PTI leadership to accept the Judicial Commission to investigate the allegations of rigging suggesting that the leaders of the Parliamentary Parties should guarantee non- interference by the Prime Minister and Imran Khan should accept parliamentary leaders as grantors.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo took exception to the language uttered by PTI Chief Dr. Tahir-ul- Qadari against the very well respected leader of the PPP, Syed Khurshid Shah who was also leader of the Opposition.
He added that Syed Khurshid Shah was not only a valuable asset for the PPP but also for the Parliamentary politics of the country. He has been playing the role of firefighter trying to dampen the flames of the country’s politics that had engulfed it for the last couple of weeks.
He welcomed the resumptions of negotiations among the parties and expressed his optimism that the political solution of the present stalemate was not a far-fetched any more.
He pointed out that the whole nation was on the tenterhooks for the last many days and passing through an ordeal in the face of uncertainty of an agonizing proportion.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سابق صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں موجودہ سیاسی بحران کو چین کے صدر کے پاکستان کے دورے سے پہلے حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنیوالی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے موقف میں لچک دکھائیں کیونکہ ایسا کرنا مذاکرات کی بنیاد ہوتی ہے جسمیں کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ دینا پڑتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ لچک نہ دکھانے سے کبھی بھی مطلوبہ مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے اور یہ سچائی عملی سیاست کے ضمن میں زیادہ صحیح ہے جسمیں سیاسی قیادت کو بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔ ہمارے ملک کے موجودہ بحران میں عظیم مقصد جمہوریت کی بقاء اور تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو سیاستدان لچک دکھانے سے عاری ہوتے ہیں وہ ملک کو روشنیوں کی بجائے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔میاں منظور احمد وٹو نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن کے تحت انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کی تجویز کو تسلیم کر لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان کو بطور ضامن مقرر کر دیا جائے جو وزیراعظم کی عدم مداخلت کو یقینی بنا ئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان انکی ضمانت کو تسلیم کر لیں۔میاں منظور احمد وٹو نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی سید خورشید شاہ کے متعلق غیر پارلیمانی زبان کے استعمال کو نا پسندیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سید خورشید شاہ پیپلز پارٹی کے ایک اہم لیڈر ہیں جو کہ لیڈر آف اپوزیشن بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید خورشید شاہ نہ صرف پیپلز پارٹی کا انمول اثاثہ ہیں بلکہ پارلیمانی جمہوریت کے لیے بھی ایسا ہی سرمایہ ہیں۔میاں منظور احمد وٹو نے حکومت، احتجاج کرنیوالی جماعتوں اور دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان مذاکرات کو دوبارہ شروع ہونے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ معلوم ہوتا ہے کہ اب سیاسی بحران کا حل دور نہیں ہے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ تمام قوم سیاسی بحران کی وجہ سے پچھلے دو ہفتوں سے غیر یقینی کی صورتحال میں لٹکی ہوئی ہے اور ہر دن کے ساتھ انکی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں