Hypocritical Politics of PML-N


میاں برادران ہیں تو بہت چالاک اور موقع پرست … لیکن اس دفعہ ان کی چالاکی اور خباثت کے ساتھ ساتھ بےوقوفی بہی ثابت ہوگی ہے.. اور وقت نے حکومت پر ان کے ناجائز اور بےبنیاد الزامات کا پول کھول دیا …

2010 میں جب صدر زرداری نے مفاہمتی پالیسی جس کے تحت پی پی پی پہلے ہی پنجاب حکومت کا حصہ تھی اپوزیشن کو ایک پار پھراپنا بھر پور تعاون پیش کیا… اور شہید رانی کی مفاہمت کی سوچ اور فلسفے کو عملی جامہ پہناتے ہوے بلکہ اس سے بہی بڑھ کر ایک ایسا بےباک٬منفرد اور دلیرانہ فیصلہ کیا جو آج تک پاکستان کی تاریخ میں کسی کے وھم و گمان میں بہی نہیں آسکا .. اور .. وە فیصلہ ن لیگ کو وزارت عظمی کی پیشکش کا تھا … جس کی تصدیق میاں شہباز شریف نے خود کردی ہے..

یہ پیشکش کوی معمولی بات نہیں اور آج تک پاکستان کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی… صدر صاحب کی پیشکش سے كيا نتیجہ آخذ کیا جاسکتا ہے …؟
اور پهر اس پر ن لیگ کا ردعمل کیا تھا…؟

سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے آخر کیوں اتنی خطرناک پیشکش کی جس کا انجام اپنے پاوں پر نہیں بلکہ اپنی گردن پر کلہاڑا چلانے کے برابر ہے .. اپنے بدترین سیاسی دشمن کو اقتدار دے کر اپنے آپ کو اسکے رحم وکرم پر چھوڑنا یقیننا ایک طرف بہت خطرناک اور ناعاقبہ اندیشی کا اقدام تہا … تو دوسری طرف یہ نہایت دلیرانہ اور اپنی بے گناہی اور سچائی کا پختہ یقین ہونا بہی ہے … اور باوجود یہ جانتے ہوے کہ مخالفین ماضی کی طرح ہر زيادتى اور تکلیف دینے اور سیاسی طور پر ختم کرنے کیلے بدترين ہتکنڈےاستعمال کرسکتے ہیں .. اور اگر حکومتی اور پیپلز پارٹی کے اركان کسی قسم کی کرپشن یا لوٹ مار میں ملوث پاے جاتے ہیں تو مخالفین حکومت ملتے ہی ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کے ساتھ ساتھ عدالتوں کو بہی استعمال کرنے میں دیر نہیں کریں گے…. جیسا کہ ماضی میں احتساب کے نام پر ہوتا رہا ہے… اگر پیپلز پارٹی کے دل میں چور یا دامن کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سےبہرا ہوتا … تو کیا اتنا بڑا خطرە مول لیتی …؟ ہر گز نہیں .. اس کا واضح مطلب ہے کہ حکومت كا دامن صاف اور کرپشن سے مبرا ہے …. اور وە بہی تب جب ن لیگ کی سارى سیاست الزامات لگانےکے علاوە آور کچھ نہ رہی ہو … وغیرە و غیرە

دوسری بات یہ ہوسکتی ہے کہ پیپلز پارٹی اتنے گمبھیر چیلنجز اور مشکلات کا سامنہ نہیں کر سکی ٬ کچھ ڈلیور نہیں کر سکی اور مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے… اسلیے حکومت کو کسی ایسی پارٹی کے حوالے کرنےپر مجبور ہو چکی ہے جو یہ دعوی کرتی ہے کہ اسکی حکومت پنجاب میں بہت کامیابی سے تمام مسائل حل کرچکی ہے.. ليكن یہ بات بہی غلط اور حقیقت کے خلاف ہے..

تو پھر تیسری بات کے علاوە اور کوی گنجائیش نہیں رہتی کہ صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی مفاہمتی سیاست پر مکمل یقین رکہتے ہیں اور انہیں اقتدار سے چمٹے رہنے کا ہوس نہیں …اور ان کی شدید خواہش ہے کہ کسی بہی طریقے سے عوام کو رلیف ملے … جس میں سب کو مل کر خلوص نیت سے ملک درپیش مسائل حل تلاش کرنا ہے .. چاہے اسکے لیے پیپلز پارٹی کو کتنی پڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے وە دریغ نہیں کریں گے..

دوسری طرف ن لیگ کے ردعمل کو بہی پرکہنے کی ضرورت ہے ..
جب سے پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت قائم ہوی ہے ن لیگ نے صدر اور وزیراعظم سے لے کر نیچلی سطح کے کارکنوں تک كو لوٹ کہسوٹ کرپشن ٬ بجلی ٬مہنگائی٬ مس مینجمنٹ ٬ اقرباپروری٬ اختیارات کا ناجائز استعمال ٬عدلیہ اور مختلف اداروں سے ٹکراو ٬ ناقص منصوبہ بندی میں ملوث اور دنیا جہاں الزامات لگاتی رہی ہے

پہر ن لیگ شروع کے دن سے حکومت کو مختلف عدالتوں اور کیسوں میں الجہا کر گرانے کی کوشش کرتی رہی ہے.. صدر کو وزیراعظم اور کابینہ کو کرپٹ ، تعاون كى بجاے صدر کو نا ماننا وغیرە وغیرە .. اسکی کچھ مثالیں ہیں…

كيا اسکے مقابلے میں پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی جارہی ہیں اور پنجاپ میں فرشتوں کی حکومت ہے.. ؟
اب اگر ان حالات میں ن لیگ کو وزارت عظمی مل جاتی … تو کیا وە پورے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہا دیتی… ؟ اور کرپٹ لوگوں سے ملک کو نجات بہی دلوا سکتى …؟ اور سوئیس حکومت کو خط لکھ کر عدلیہ کےحکم کی تعمیل کروانے کا موقعہ بہی ہاتھ سے جانے نہ دیتى…. جس کے وە سب سے بڑے دعویدار بنے ہوے ہیں …
لیکن یہ ہو نہ سکا ….
اور ن لیگ نے اپنی بےوقوفی کی وجہ سے اتنا بہترین موقعہ گنوا دیا ..
لیکن کیوں.. ؟
کیا اسلیے کہ پیپلز پارٹی کے خلاف جتنے بہی الزامات لگاے جا رہے تھے وە سب غلط بیانی اور الزامات کی حد تک ہیں … ان میں حقیقت اور سچائی بالکل نہیں ہے…کیا ن لیگ کی گڈ گورنس کا پول کہل جانا تہا …؟ کیونکہ اب تک اپنی تمام ناکامیوں کو غلط طور پر مرکزی حکومت کے سر پر ڈالتے رہے ہیں….. كيا اس لیے وزارت عظمی سے انکار کر دیا تها … ؟
اب ن لیگ اور میاں شہباز شریف کچھ بہی جواب دیں … یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ انکے کھلے انکار سے پیپلز پارٹی حکومت کی نزاہت اور پاکبازی کی گواہی واضح ہو چکی ہے … اور سب سے بڑھ کر اس دلیرانہ پیشکش نے آصف علی زرداری کو انسانی اعلی ظرفی کی ایک زندە مثال بنادیا…

Source:

اپنا تبصرہ بھیجیں