‏ہم ڈیمانڈ کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ کٹہرے میں سہولت کاروں کو بھی کھڑا کریں، پیپلز پارٹی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

اسلام آباد: (11 ستمبر 2020) پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کے حالات میں آدھا پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ نئے پاکستان میں لاہور گجرنوالہ موٹروے پر زیادتی کی گئی۔ نئے پاکستان میں ملزمان کو قانون کے دائرے میں گرفتار کیا جائے۔

پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پلوشہ خان اور حسن مرتضیٰ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سر عام پھانسی کی ڈیمانڈ نہیں کر رہے۔ افسوسناک واقعے پر ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ نئے پاکستان میں سی سی پی او کے بیان نے بہت افسوس دیا۔

انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کے بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ مجرموں کے سہولت کار بننے جا رہے ہیں۔ ایک وزیر نے ٹی وی پر کہا کہ کوئی غیرقانونی بات نہیں، ہم کیسے ایکشن لیں۔ ہم ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ مجرموں کے ساتھ کٹہرے میں سہولت کاروں کو بھی کھڑا کریں۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ خان صاحب کہتے تھے کہ مدینہ کی ریاست میں چور اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا۔ نئے پاکستان کی کیفیت یہ ہے کہ ہر جگہ پر ڈاکو راج قائم ہے۔ کسی جگہ، کونے پر پاکستان کی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ پنجاب میں اس وائس سرائے کا راج ہے۔ پنجاب میں ہر مرتبہ آئی جی تبدیل ہوتا ہے۔ ساہیوال واقعے میں بھی یہی سہولت کار تھے۔

انہوں نے کہا کہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ ان سے پنجاب نہیں سھنبالا جاتا اور سندھ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس موقع پر پلوشہ خان نے کہا کہ ریاست مدینہ کے نام پر بدترین مذاق کیا جارہا ہے۔ موٹروے پر واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس واقعے سے چند دن قبل ایک شخص کو اٹھایا گیا تھا۔ ملک میں انتظامی طور پر بغاوت شروع ہو چکی ہے۔ لاہور پوری دنیا میں اٹھارواں بڑا شہر ہے اور سی سی پی او غیرذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کے شہری اپنی خود حفاظت کریں۔ ملک کے وزیر اعظم کی بے حسی دیکھیں کہ خاتون کی حمایت میں ایک بیان بھی نہیں دیا۔ اندازہ لگائیں کہ عمران خان کو طالبان خان کیوں کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا جیسا عمران خان نے کیا ہے۔ اسد عمر سے شہزاد اکبر تک سارے لوگ سی سی پی او کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مراد سعید ٹوئٹر اور بیانات سے آگے نہیں نکلتے۔ چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ خاتون سے زیادتی سے متعلق نوٹس لیں۔

اس موقع پر حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے پنجاب اسمبلی میں قراداد بھی جمع کروائی ہے۔ رواں ہفتے کے اندر بچیوں سے زیادتی کے واقعات سامنے آئے۔ 10 محرم الحرام کے موقع پر ایک بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عمران خان اور طالبان کا مائنڈ سیٹ ایک جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر نے سی سی پی او کو ڈفینڈ کرنے کی کوشش کی۔ اربوں روپے موٹروے سے کماتے ہیں اور خواتین کی حفاظت نہیں کر رہے۔ ریاست مدینہ کے مستری خاموش کیوں ہیں؟ ہمیں موجودہ حکومت سے فی الفور چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو زخمی ہونے کے باوجود سیلابی سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پنجاب کو بنی گالا سے چلایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ایک صحافی کے سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ دو ماہ کے اندر سی سی پی او کی پنجاب کا آئی جی لگانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ یہ بغاوت کا مجرم ہے، کارروائی ہونی چاہیے۔ پیپلزپارٹی کسی صورت قومی مجرموں کو چھوڑ نہیں سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں