Mian Manzoor Ahmed Wattoo rejects arrests of PTI workers

Mian Manzoor Ahmed Wattoo while talking to a delegation of PPP of Lahore rejected the new wave of wide scale arrests of the PTI and PAT workers in a bid to prevent the largest participation in the PTI meeting on Saturday evening (today).
He maintained that this senseless move was not only repugnant to the fundamental right of peaceful procession of the citizens but also was at variance with the Supreme Court instructions to the effect that peaceful procession was the fundamental right of the Party.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo pointed out that the Parties had been holding the processions in a peaceful manner within the ambit of the constitution and the arrests of the workers tantamount to preventing them in the exercise of their fundamental right which was guaranteed by the Supreme Court as such.
MIAN Manzoor Ahmed Wattoo called upon the government to desist from indulging in illegal and unconstitutional arrests because misuse of the powers had already led to the deleterious consequences as was evident in the Model Town incident. It can be ironically said that the rulers had learnt no lesson from their repeated mistakes and were still following the beaten tracks, he added.
He demanded that the political workers should be immediately released which was necessary to create enabling environment for carrying out legitimate political activities in the country. The political scenario is already mired with acute anxiety and uncertainty, not good omen for the continuity of the political process.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے حکومت کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بوکھلاہٹ پی ٹی آئی کے آج شام کے جلسے میں انکے کارکنوں کی شرکت سے روکنے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدام شہریوں کے بنیادی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے جو پرامن جلوس نکالنے کی کلی آزادی دیتے ہیں۔ اسکے علاوہ سپریم کورٹ نے بھی پرامن جلوس نکالنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ دونوں جماعتیں پرامن جلسے کافی دنوں سے کر رہی ہیں جسمیں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا ہے۔ ان جماعتوں کو پرامن جلسوں سے روکنا آئین کی کھلاً کھلا خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے یاددلایا کہ سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضامن ہوتی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار سیاسی کارکنوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور اس طرح کی غیر آئینی اور غیر قانونی حرکتوں سے باز رہے، جسکی وجہ سے قوم پہلے ہی سزا بھگت رہی ہے جیسا کہ ماڈل ٹاؤن کے سانحہ سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے ماضی اور حال کی اپنی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے کیونکہ اب بھی وہ انہی غلطیوں کو دہرا رہے ہیں جنکے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں