پیپلز پارٹی دیگر جمہوریت پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی: بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد / کراچی( 15 ستمبر2020) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہر قوم کی ذمےداری تو ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ جمہوریت پسند دنیا کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔

اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے منایا جانے والے عالمی یومِ جمہوریت کے موقع پرجاری کردہ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے اقوام متحدہ کے اُس بیان کی مکمل طور تائید کی جس میں کہا گیا ہے کہ آزادی کے اقدار، انسانی حقوق کا احترام اور ایک مقررہ عرصے کے بعد انتخابات کا انعقاد اور ووٹ دینے والوں کا صاف شفاف طریقے سے انتخاب کرنا حقیقی جمہوریت کے بنیادی جُز ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد پاکستان میں جمہوریت پسند اور آمریت پسند قوتوں کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی تاحال جاری ہے، جس کے دوران شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور دیگر لوگوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے اپنی جانیں دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جمہوریت پسند کارکنان کو آمروں اور ان کی کٹھ پتلیوں کی جانب سے سزائے موت، قیدِ تنہائی، اذیتیں، کھلی عام کوڑے مارنا، طویل عرصے کے قید و بند اور لغو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ عوام کے جمہوری اور انسانی حقوق پر کبھی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لئے پاکستانیوں نے جدوجہد اور اس کے حصول کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں، جو جمہوری نظام کے لئے عصرِ رواں کی جدوجہدوں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پاکستان کے عوام کو پہلا متفقہ آئین دیا، پہلی بار براہ راست منتخب ہونے والا وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور عالم اسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو دینے کے ساتھ ساتھ صدر آصف علی زرداری کی زیرِ قیادت ایک ایسی جمہوری حکومت بھی دی جس نے پاکستان میں پہلی بار اپنی مدت پوری کی۔

پی پی پی چیئرمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی دیگر جمہوریت پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی، کیونکہ ایک مضبوط جمہوریت ہی مضبوط پاکستان کی واحد ضمانت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتقامی کاروائیوں، دہونس دھمکیوں اور لغو مقدمات کے باعث ہماری پارٹی اور جمہورییت پسند قوتوں کو ہمارے اُن جمہوریت پسند قائدین کے مشن کو پورا کرنے سے روک نہیں سکتیں، جنہوں نے جام شہادت تو قبول کیا لیکن ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں