نیو کینسر ہسپتال التوا درپردہ عوامل کیا ہیں؟ ریاض حسین بخاری

multan111111111111113-640x480

میں آج ایک حساس موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں جو کہ جنوبی پنجاب کی انگنت محرومیوں میں مزید اضافہ کر رہا ہے اور جنوبی پنجاب کیلئے شریف برادران کے تعصب کا واضح ثبوت ہے۔ نشتر ہسپتال جو کہ ایشیا کے چند بڑے ہسپتالوں میں سے ایک ہے اور یہ ہسپتال اندرون سندھ ، بلوچستان، جنوبی پنجاب حتیٰ کے وسطی ایشیا کے کئی ریاستوں کے مریضوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کررہا ہے۔ اسی ہسپتال میں انکالوجی (کینسر) ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہے جو کہ مناسب سہولتیں نہ ہونے کے باوجود پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کو علاج و معالجہ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ کئی مریض ایسے بھی ہیں جو کہ شوکت خانم ہسپتال سے بھی مایوس ہو کر آئے لیکن یہاں اُن کا مناسب علاج کیا گیا اور وہ مایوسی کی دلدل سے نکل آئے۔ آج کا کالم اسی کینسر کے مریضوں کیلئے جناب سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے نیو کینسر ہسپتال (جو کہ علاقے کیلئے ایک رحمت سے کم نہیں ہوسکتا) کے عظیم تحفے کے بارے میں لیکن بدقسمتی سے ابھی تک شروع نہیں ہوسکا کیا یہ موجودہ حکومت کی جنوبی پنجاب سے تعصب کا اظہار ہے یا کچھ اور ؟
انکالوجی ڈیپارٹمنٹ نشتر ہسپتال ملتان 1981میں قائم کیا گیا تھا جو کہ صرف20 بستروں پر مشتمل تھا یہ ڈیپارٹمنٹ نشتر ہسپتال کے پرائیویٹ اینڈ فیملی وارڈز کے نیچے بیسمنٹ میں قائم کیا گیا اس ڈیپارٹمنٹ کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان جناب سید یوسف رضا گیلانی 4مئی 2008کو کیا تھا تاکہ علاقے کے محروم عوام کو کینسر جیسے جان لیوا مرض کے خلاف علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی جاسکیں اور بستروں کی مجوزہ تعداد بھی 20سے بڑھا کر100کردی۔ اس منصوبے کا ابتدائی تخمیہ بلڈنگ اور خریداری آلات کے تقریباً 6,81,000ملین تھا جسے CDWP نے 19-11-2009کو منظور کرلیا۔ اس منصوبے کیلئے مجوزہ جگہ پر جو بلڈنگ منظور تھی اُسے مسمار کیا جانا تھا قابل احترام سابق وزیر اعظم نے 19-20جون 2010کے اپنے دورہ ملتان میں اس منصوبے پر کام شروع نہ کرنے کا حکم دیا اور اس کی بجائے New State of Art Center Treatment Facility at Nishter Hospital ملتان جنوبی پنجاب کو دینے کا اعلان کیا۔ یہ منصوبہ بیورو کریسی کی روایتی سستی کی وجہ سے التوا کا شکار ہوتا رہا تاوقتیکہ جناب گیلانی صاحب نے اس منصوبے کو نہ صرف شروع کرنے کا اعلان کردیا بلکہ 13-03-2011کو BZU میں ایک منعقدہ پروقار تقریب میں اس عظیم الشان منصوبہ کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا۔
2010-11میں تقریباً 200000ملین جاری کردیے گئے جو کہ وفاقی حکومت نے دینے تھے یہ فنڈ وفاقی سیکریٹری صحت کے خط کے ذریعے پنجاب بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کو مالی سال 2010-11کے لیے جاری کیا گیا مذکورہ فنڈ استعمال نہ کیے جاسکے کیونکہ اس کی تبدیل شدہ انتظامی منظوری مجاز اتھارٹی نے ابھی تک نہ دی تھی پھر 2011-12کیلئے 2,66000ملین روپے PSDPکیلئے منظور کیے گئے اور اس میں سے 1,60000ملین جاری بھی کردیے گئے ۔ ان فنڈز کو پرنسپل نشتر میڈیکل کالج کی صوابدید پر چھوڑا گیا لیکن یہ فنڈز پھر بھی استعمال نہ ہوئے ۔
اس منصوبے کو ایک بار پھر تبدیل کیا گیا اور کل لاگت تقریباً 7,22000ملین مختص کی گئی سید یوسف رضا گیلانی نے 3-3-12کو سٹیٹ بینک آف پاکستان ملتان کے آڈیٹوریم ایک ریویو میٹنگ میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس منصوبے کی فنڈنگ وفاقی حکومت کے PSDPڈیپارٹمنٹ نے اس عظم کے ساتھ دی تھی کہ جنوبی پنجاب کی عوام کو کینسر کے خلاف بہترین علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی چنانچہ انہوں نے اس منصوبے کا نام تبدیل کرکے نیو کینسر ہسپتال ملتان رکھ دیا گیا کافی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اُسے نشتر ہسپتال میں مجوزہ جگہ پر ہی بنایا جائے کیونکہ وہاں مطلوبہ تدریسی سہولتیں بھی میسر ہیں سابق وزیر اعظم نے سیکریٹری کیبنٹ کو ہدایت دی کہ ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے جو تکنیکی طور پر اس منصوبے کو دیکھے اور 3ہفتے میں اس کی رپورٹ مرتب کرکے ارسال کریں ۔ مذکورہ کمیٹی کا اجلاس 9-3-12کو جناب آصف باوجوا سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اسلام آباد کی زیر صدارت منعقد ہوا اور اس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ منصوبے کا تبدیل شدہ نقشہ نئے تخمینے کے ساتھ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس اس کے محفوظ ہونے کی گارنٹی کیلئے جمع کروادیا جائے۔ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ نے تبدیل شدہ ڈیزائن ، ڈرائنگ اور تخمینہ تیار کیا۔ تقریباً9,46000 ملین کا تبدیل شدہ PC-1 سیکریٹری صحت کو منظوری کیلئے بھیجا گیا ۔ 15-7-2013کو PDWP Pre- میٹنگ منعقد ہوئی۔اس منصوبے کی لاگت تقریباً 9,46000ملین مقرر کردی گئی اور اس کی منظوری اور کلیئرنس PDWPنے P&Dڈیپارٹمنٹ لاہور کی میٹنگ میں دے دی جو کہ 25-02-2013کو ہوئی اور کل بجٹ تقریباً9,16000ملین کو اس کے ابتدائی نام (اپ گریڈیشن آف کینسر ٹریٹمنٹ فیسلٹی ایٹ نشتر ہسپتال جیسا کہ PSDP 2013-14 میں ظاہر کیا گیا تھا ) کے ساتھ منظور کرلیا گیا ۔
PC-1کی 50تبدیل شدہ کاپیاں P&Dبورڈ پنجاب کے دستخط کے ساتھ 25-10-13کو سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن گورنمنٹ آف پاکستان اسلام آباد کو منظوری کیلئے بھیجی گئیں جس کا ابھی تک انتظار کیا جارہا ہے۔

ضروری آلات کی خریداری کیلئے ایڈوانس ٹینڈر 13-6-2013 لاہور کی ایک پارٹی Vasitron Medical System کے نام منظور کئے جاچکے ہیں 14-2-14کو اس کی LCکھل چکی ہے۔ اور اس کی مشینری کا آرڈر دیا جاچکا ہے

جوکہ کینیڈا سے روانہ بھی ہوچکی ہے اور عنقریب پاکستان پہنچ جائے گی۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس کی بلڈنگ کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اس مشینری کو کہاں نصب کیا جائے گا۔
اس سارے عمل کے پیچھے بیوروکریسی کی روایتی کاہلی پیش فرما ہے یا موجودہ حکومت کی جنوبی پنجاب کیلئے تعصب پسندی۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو گیلانی صاحب نے اپنے دور حکومت میں جنوبی پنجاب کیلئے خصوصاً ملتان کیلئے کئی میگا پراجیکٹ شروع کیے تھے پنجاب حکومت نے نا صرف اپنے حصے کے فنڈز دینے میں لیت و لعل سے کام لیا بلکہ کئی جاری پراجیکٹس کی تکمیل میں رکاوٹیں بھی ڈالیں میں خادم اعلیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ جنوبی پنجاب کی عوام کا قصور کیا ہے۔ ملتان کی عوام کو کیا اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں دیتے ہیں۔(پچھلے الیکشن میں تو یہ بھی نہیں کیا گیا تھا) اگر ایسا نہیں ہے تو ملتان کے بیشتر منصوبوں خصوصاً کینسر ہسپتال جیسے منصوبے کو زیر التوا کیوں رکھا جار ہا ہے۔ میں خادم اعلیٰ سے مطالبہ کرتا ہوں اس منصوبے کو التوا میں ڈالنے کی وجوہات بیان کی جائیں۔ یہ ایک جاری منصوبہ ہے جس کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر احمد اعجاز مسعود صاحب نے انتھک کوشش کی ہے اور اس میں گیلانی صاحب نے اُن کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے بھرپور ساتھ بھی دیا ہے اس لیے اس منصوبے کوختم نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اسے التوا میں ڈالا جارہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پروفیسر صاحب سے بھی سوال کرتی ہے کہ پریس کے ذریعے ملتان کی عوام کو بتائیں کہ اس منصوبے کو کس وجہ سے ابھی تک شروع نہیں کیاجاسکا ۔ اس کے التوا میں کون کون سے عوامل کارفرما ہیں عوام اُن سے یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے۔

(شکریہ )
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات
پی پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں