Democracy or Government -by Jahanara M Wattoo

democracy-best-revenge

جمہوریت یا حکومت ؟ …خصوصی مراسلہ۔۔۔۔۔۔جہاں آرا منظور وٹو

ان اہم سوالات کا جواب دینا چاہتی ہوں جوپیپلزپارٹی کے رہنمائوں سے بار بار کئے جارہے ہیں جن کا وہ بار بار جواب بھی دے رہے ہیں لیکن یا تو کوئی سمجھ نہیں پارہا یا سمجھنا نہیں چاہتا۔ جب شہید ذالفقار علی بھٹونے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تواسکے منشور میں عوام کو اہمیت دی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کو لبرل جماعت بنایا۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالنا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے ایک خاتون کو اپنا لیڈرچنا۔ حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پھانسی ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھوں ہوئی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی آمریت کے دور میں ہوئی مگر پاکستان پیپلز پارٹی نے غیر سیاسی طور پر اقتدار میں آنے والوں کا کبھی بھی ساتھ نہیں دیا۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے توصرف اسی لئے کہ ملک میں ایک جمہوری حکومت معرض وجود میں آئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی فہم وفراست اور بہادری نے ہمیں یہ دن دکھایا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی توتمام جماعتوں کے ساتھ رواداری اور دوستانہ رویہ اختیار کیا گیا۔ اپنے دور حکومت میں ہر مشکل کو، ہر وار کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا گیا۔ جب علامہ طاہر القادری نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو پورا شہر کھلارہا اور انکے ساتھ خلوص نیت سے مذاکرات کئے گئے اور افہام وتفہیم سے معاملات کو حل کیا گیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی دور حکومت میں ہر سازش کا آئین اور قانون کی حد میں رہ کر مقابلہ کیا اور جہاں ضرورت پڑی وہاں پر قربانی دی تاکہ سسٹم ڈی ریل نہ ہو۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم کے عہدے پر ہوتے ہوئے بھی عدالت میں پیشیاں بھگتیں اور پھر عہدے سے الگ ہوگئے۔ پیپلز پارٹی اس وقت پاکستان کی تاریخ میں پہلی جماعت ہے جس نے اپنی جمہوری دور حکومت کو مکمل کیا ہے۔ آئین کے تحت اقتدار میں آنیوالی جماعت کو اقتدار منتقل کیا جبکہ مئی2013کے الیکشن میں ہماری پارٹی کو پنجاب میں بری طرح ہرادیا گیا۔ پی ٹی آئی کو خیبر پختوانخوا تک محدود کردیا گیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کوسندھ میں۔ ہم جانتے ہیں کہ الیکشن ہم سے چھینا گیا ہم نے شروع سے اس معاملے کو اٹھایا کہ الیکشن شفاف نہیں ہوئے اور کہا کہ ہمیں الیکشن کے نتائج پر تحفظات ہیں لیکن ہم نہیں چاہتے کہ یہ سسٹم خراب ہو اس لئے نتائج کو قبول کیا۔ آج کل ملک ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ ایک طرف ہماری افواج دہشتگردوں کے خلاف وزیرستان میں نبردآزما ہیں وہاں لاکھوں افراد بے گھر اور بے سروسامان ہوچکے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں پھر سیلاب کی ناگہانی آفت نے پنجاب میں تباہی پھیلادی ہے اوروہ اب سندھ کا رخ کررہا ہے ،تقریباً 145افراد سیلاب کا شکار ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لوگوں کی فصلیں، گھراور جانورسب تباہ ہوگئے ہیں۔ یقیناً یہ حکومت کی لاپروائی اور غیرذمہ داری ہے کہ اس نے صرف لاہور میں اربوں روپے کے انڈر پاسز اور پل بنائے لیکن پانی کی نکاسی کے نظام کا یہ حال کردیا کہ صرف2دن کی بارش نے پورا لاہور مفلوج کردیا۔ اسکول بند کرنے پڑے، نظام زندگی درہم برہم ہوگیا۔ حکومت وقت کے تعریف توکسی اور وقت کے لئے رکھتے ہیں۔ ہم اسکی نااہلی پر تنقید بھی کریں گے لیکن ہمارے لیڈروں نے اس ملک میں جمہوریت کے لئے اپنی جان کی قربانی دی ہے اگر آج ہم نے اس نظام کو گرانے میں ساتھ دیا تو پھر کل یہاں کوئی بھی ٹھہرنہ سکے گا۔ ہم ملک کے آئین کے اور قانون کی بالادستی کے محافظ ہیں اوراپنے قائد سے کئے گئے وعدے کو نبھاتے ہوئے میثاق جمہوریت کو مضبوط بنائیں گے اورچاہتے ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں اس ملک کے نظام کی سلامتی کے لئے یکجا ہوں اور ریاست کے تمام ستون، آئی ڈی پیز اور سیلاب زدگان کی مد د کواپنا مشن بنائیں۔
10556494_787565217973197_2081537113911389922_n

(مضمون نگار پیپلزپارٹی میڈیا سیل پنجاب کی سربراہ ہیں)
Source: Daily Jang

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں