وہ اتنی بے نظیر تھی: شوکت رضا شوکت

10665694_746301888759924_3758016659013900254_n

یہاں وہاں جہاں گئی
وہیں پہ اس کی دھوم تھی
وہ ایک اپنی ذات میں
اکائی تھی ہجوم تھی
غریب قوم کے لیے
وہ باپ کی سفیر تھی
نظیر جس کی نہ ملے
وہ اتنی بے نظیر تھی
وفاق کی امنگ تھی
عوام ہی کے سنگ تھی
کنیز_ کربلا کی بس
یزیدیت سے جنگ تھی
بہا کے لے گئی وہ
ہر ستم کو اپنی موج سے
وہ کربلائے وقت میں
ڈری نہیں ہے فوج سے
وہ آمروں کی گردنوں پہ
نقش_ پاء جما گئی
وہ “بھٹو بھٹو” کرکے
سب کو بھٹو ہی بنا گئی
بھرم اسی کے دم سے تھا
وہ دیس کا وقار تھی
وہ دشمنوں پہ “تیر” تھی
وہ “بنت ذولفقار” تھی
سنو کہ اس کی قبر بھی
فتح کا اک نشان ہے
اسی کے پاس تیر ہے
اسی کے پاس کمان ہے
وطن کے ہر غریب کو
جگا کے آپ سو گئی
شعور جب طلوع ہوا
تو خود غروب ہو گئی
وطن کو بھائی بھی دیا
وطن کو باپ بھی دیا
بقائے ملک کے لیے
پھر اپنا آپ بھی دیا
وطن کی ماں چلی گئی
سنو لحد کی گود میں
وہ صاحب_ مراد ہے
وہ کل بھی زندہ باد تھی
وہ آج بھی زندہ باد ہے

سلطان الشعراء شوکت رضا شوکت

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں