؛؛نوید سحر ؛؛ بلاول بھٹو زرداری — تحریر ملک خلیل احمد

؛؛نوید سحر ؛؛
بلاول بھٹو زرداری
از قلم ملک خلیل احمد
محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی کتاب ’دختر مشرق‘ کے صفحہ نمبر 423 اور 424 پر رقم طراز ہیں،

’ڈاکٹر سیٹنا صبح سویرے مجھے لینے آئے اور کہا کہ ہمیں جلدی کرنی ہوگی کیونکہ لوگ ہسپتال کے باہر جمع ہورہے ہیں۔ انہیں کیسے پتہ چلا کہ میں نے کراچی کے دیدہ زیب اور مہنگے ہسپتال کی بجائے لیاری کے لیڈی ڈفرن ہسپتال کو زچگی کے لیے منتخب کیا تھا۔ میرا پسندیدہ ڈاکٹر بھی وہیں پریکٹس کرتا تھا اور لیاری کی میرے لیے ذاتی اہمیت بھی تھی۔‘

’یہ علاقہ ہماری خوشیوں اور غموں میں برابر کا شریک رہا تھا۔ میرے والد نے اپنی سیاسی جنگوں میں آخری تقریر وہیں کی تھی۔ میں آنسو گیس کا نشانہ وہیں بنی تھی اور آصف اور میری شادی کا عوامی استقبال بھی وہیں ہوا تھا۔ لیاری کے غریب لوگوں نے ضیاء دور میں بہت تکلیف اٹھائی تھی۔ ہم میں بہت کچھ مشترک تھا۔
’میرا یہ بھی خیال تھا کہ میرے بچے کی پیدائش سے لیاری کے لوگوں کا ان ڈاکٹروں اور عملے پر اعتماد بڑھے گا اور وہ اپنے طبی علاج کے لیے اس ہسپتال آیا کریں گے۔ لیکن انہیں میرے ہسپتال میں آنے کا کیسے پتہ چلا؟ کیا خفیہ محکموں کی گاڑیاں جو اب بھی میرا تعاقب کرتی تھیں حکومت کی مختلف ایجنسیوں کو خبریں پہنچا رہی تھیں؟ نرسنگ اسٹاف نے میرے منہ پر چادر ڈال دی تھی تاکہ آپریشن تھیٹر میں مجھے لے جاتے ہوئے کوئی پہچان نہ سکے۔
’دوسرے کمرے میں آصف کی والدہ اور کچھ رشتہ دار مجھے درد سے نجات دلانے کے لیے سورۃ مریم کی تلاوت کر رہے تھے۔ آصف کی خواہش تھی کہ بیٹا ہو۔ یہ صرف آصف کا معاملہ نہیں بلکہ تقریباً گزشتہ 8 مہینے میں جس کسی سے بھی ملاقات ہوئی اس نے لڑکے کی خوش خبری سنائی۔ شاید یہ اس لیے بھی تھا کہ پاکستان میں لڑکے کی پیدائش کو خوش بختی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکا ہوگا یا لڑکی اس کے بارے میں ساری قیاس آرائیاں 21 ستمبر کی صبح ختم ہوئیں۔ ’بیٹا ہوا ہے‘ میرے شوہر کی فخریہ اور مطمئن آواز میرے کانوں میں سنائی دی جب میں بے ہوشی سے ہوش میں آئی۔ ’وہ مجھ پر گیا ہے‘ میں پھر سوگئی اور بندوق چلنے کی آواز پر جاگی جو خوشی میں ہسپتال کے باہر چلائی گئی تھی۔‘
بلاول کی پیدائش کی خبریں دنیا بھر کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں لگی تھیں۔
بلاول کی پیدائش کے ٹھیک تین ماہ بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم بنی
بلاول جب ایک سال کا تھا تو امریکی کانگریس میں اپنی والدہ کے ہمراہ خصوصی مہمان تھا جہاں اس کی آمد پر اس کے نام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ وہ جب دو سال کا ہوا تو اس کے والد جیل چلے گئے جہاں وہ اپنی ماں کی گود میں اپنے والد سے ملنے جاتا تھا۔ وہ جب چار سال کا ہوا تو وزیراعظم ہاؤس کے لان میں ملکی سیاست کے بڑے فیصلے ہوتے دیکھا کرتا تھا۔ وہ جب آٹھ سال کا ہوا تو پھر اس کے والد جیل چلے گئے اور وہ اپنی والدہ کی انگلی پکڑ کر بے بسی کے وہ مناظر دیکھا کرتا تھا کہ جن کے تصور سے بھی کلیجہ منہ کو آ جائے اور پھر اسی ننھی سی عمر میں اس نے اپنے پیارے ماموں کا بہیمانہ قتل دیکھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے بچپن ہی سے اپنے والدین کی تکالیف کا اندازہ لگا لیا تھا ،تکالیف اور اذیت کاسفر ان کے عزم کی پختگی بھی ظاہر کرتاہے کیونکہ بچپن کی عمر میں ایک بچے کو اسکول سے لیکر عام زندگی میں کیا کیا تکالیف اور مشکلات پیش آتی ہیں وہ بلاول بھٹو زرداری سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا،بلاول بھٹو زرداری نے زندگی کے ہر موڑ پر بہت کچھ سیکھا اور سمجھا، بلاول کی علمی اور سیاسی تربیت ان کی والدہ نے کی جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں لیکچر دیتی تھیں،بلاول بھٹو نے بچپن میں ہی سیاست میں بھٹوکے اصولی افکار اور عوامی جذبوں سے سرشار نظریے کو سمجھ لیا تھا جس کے لیے بڑی عمر کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر اس کو چیلنج سمجھ کر کم عمری میں ہی بلاول بھٹو نے بخوبی نبھانا شروع کر دیا
بلاول بھٹو پاکستان کی مشکلات اور چیلنجز کا درست ادراک اور عالمی امور کا فہم ہے۔ وہ قومی ریاستی اداروں کو اپنا حریف تصور کرکے انہیں رگڑا لگانے کے بجائے ان کی اونرشپ لیتے ہیں ۔
دنیا کوبتاتے ہیں کہ پاکستان موجودہ پالیسیاں اپنانے پر کیوں مجبور ہوا ۔ پاکستان کے مشکل مسائل مثال کے طور پر افغانستان، بھارت کے ساتھ تعلقات اور کشمیر پر کیا نقطہ نظر ہے اور اس موقف کا سبب کیاہے؟
وہ کشمیر پر بنا کسی ہچکچاہٹ کے پاکستانی موقف پیش کرتے ہیں جو کشمیریوں کی امنگوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔ بلاول بھٹو کی اٹھان ایک قومی رہنما کی سی ہے۔

بلاول بھٹو عام سیاست دان نہیں ہیں ۔اس کی وجہ یہ کہ انہوں نے زندگی میں وہ حادثے دیکھے جو انسانوں کو لمحوں میں بوڑھا کر دیتے ہیں۔ مراد سعید جیسے لوگ ان کو حادثاتی یا پرچی چیئرمین کہتے ہیں کبھی سوچیں کہ جو حادثے ان کے ساتھ ہوئے اس وقت کرہ ارض پر کوئی دوسرا سیاستدان ہے جسے سیاست کی وراثت میں اس حد تک دکھ اور صدمے ملے ہوں، جتنے بلاول کو ملے۔ جس شخصیت کے کردار پر وطن عزیز میں ان گنت داستانیں بیان اور رقم کی گئیں جس نے وطن عزیز کی سیاست کی نئی اور مثبت صورت گری کی بلاول کے نانا تھے جن پر توڑے گئے ان کے ماموں کا فرانس میں قتل کا قصہ لوگ جانتے ہیں جبکہ ان کی والدہ کے دور حکومت میں بے بسی کی انتہا تھی کہ سگا بھائی مار ڈالا گیا اور قتل کی سازشیں بھی ان کے شوہر کی کردار کشی کرنے لگیں۔ جو بچپن میں دبئی میں اکیلا دیواروں سے فٹ بال کھیلتا اور باپ پاکستان میں قید۔ والد کو رہائی ملی والدہ پاکستان آئیں ابھی اپنے بیٹے کا لڑکپن بھی نہ دیکھ پائیں اور موت کے چیلنج کو قبول کیا

بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی کو عوام سے دور کرنے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں کرنے والے سازشیوں کو جان لینا چاہیے کہ بے نظیر شہید ہو کر اپنا خون اس وطن کی مٹی میں شامل کر چکی ہیں اور ان کا جگر گوشہ بلاول بھٹو عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لئے میدان عمل میں آ گیا ہے اب بھٹو اور بے نظیر کی پیپلز پارٹی کا وارث بلاول بھٹو ہے جسے نڈر تجربہ کار والد آصف علی زرادری کا کاندھا میسر ہے اور اب بے نظیر کا لعل اس ملک کے عوام کے مسقبل کو سنوارنے کی باگ دوڑ سنبھال رہا ہے
جسکا ثبوت آل پارٹیز کانفرنس ہے جس میں تمام جماعتوں کو اس نوجوان بلاول بھٹو نے نہ صرف شمولیت پر مجبور کیا بلکہ حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک کے بعد تحریک چلانے کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل بھی دیا
،پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی جماعت اور محترمہ بے نظیر بھٹو عوام کے دلوں کی دھڑکن تھیں اور ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
یہی نظریہ اور بی بی کے افکار لیکر نوجوان بلاول میدان عمل میں آکر اس وقت ملکی سیاست پر چھایا ہوا ہے
سلیکٹڈ حکومت اور سلیکٹرز نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے سروں پر ایک کٹھ پتلی کو مسلط کرکے جو کرنا تھا وہ کر دیا ہے
اسکا خمیازہ ہمیں آئندہ برسوں تک بھگتنا ہو گا موجودہ حالات میں پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والے اپنے، پرائے اور غیر جانبدار سب، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اُنکی پیپلز پارٹی سے اُمیدیں باندھنا شروع ہو گئے ہیں ۔
سلیکٹرز اور سلیکٹڈ نے پاکستان کی نوجوان نسل کو سبز باغ دکھلا کر نہ صرف مایوس کیا ہے بلکہ مجروع کیا ہے
بہتری کی جو خبریں سنائی جاتی ہیں محض جھوٹ نکلی
پاکستان کو مایوسیوں اور نا امیدیوں کے ان اندھیروں سے نکالنے کے لیے اب سب کی نظریں پیپلزپارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو کی طرف ہے
اسمبلی کے فلور سے لیکر عوامی اجتماعات اور انٹرنیشنل فورم پر اس وقت اگر کوئی پاکستان کی حقیقی ترجمانی کر رہا ہے تو بھٹو کا نواسہ بلاول ہے
پاکستانی عوام کو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کی واحد کرن جو نظر آتی ہے وہ چئیرمین بلاول بھٹو ہیں جو انسانی حقوق ،اقلیتوں کے حقوق ،بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی ،خواتین کے حقوق مزدوروں کے حقوق پر کھل کر بولتا ہے
اللہ تعالی سے دعا ہے بلاول بھٹو زرداری کو درازی عمر عطا فرمائے
عوام اور بلخصوص پیپلزپارٹی کے جیالوں کی ان سے وابسطہ امیدوں کو کبھی ٹوٹنے نہ دے
آمین الہی آمین

نئے چراغ جلائیں گے تو روشنی ہو گی،
بجھے ہوئے چراغوں سے کچھ نہیں ہو گا

ملک خلیل احمد

اپنا تبصرہ بھیجیں