Mian Manzoor Ahmed Wattoo proposes conditional resignation of PM‏

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has said that a high powered Parliamentary Committee consisting seasoned and non- controversial politicians inclusive of Treasury Benches with full mandate, should be immediately formed to hold talks with Imran Khan and Dr. Tahir-ul- Qadari directly assigned to bring out fruitful outcome without fail.
This he said in a statement issued from the Party Secretariat her today adding that the unabated political uncertainty was getting on the nerves of the nation as the functioning of the government was in a state of paralysis to the utter disadvantage of the people and the country.
He called upon PTI and PAT leader not to insist on the resignation of the Prime Minister which was the thorny issue and as such holding back the progress in the negotiations at present. It is imperative to get the country’s politics out of the closed alley cautioning if the gridlock was not broken it would inevitably lead to sealing the fate of the agitating parties altogether.
He further said that the resignation of the Prime Minister should be made conditional to the outcome of the rigging allegations by the Judicial Commission.
He suggested that the process of electoral reforms should also be initiated at the same time to hold transparent, fair and free elections in the country.
He pointed out that the politics of point scoring should be jettisoned for the sake of national politics which was constitution, democracy and the rule of law. Spewing venom on each other would not get us any where and in the process will erode the political ground from underneath their feet, he added.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo referred to the Afghanistan’s politics where Dr. Ghani and Dr. Abdullha Abdullha had found the solution of their political deadlock by accommodating each other point of view adding now Afghanistan would be blessed with the much needed political stability to deal with extremists and terrorists forces and the international community would be happily forthcoming to help them in a big way.
He said that the warring parties should take leaf from the Afghanistan political opponents and settle the dust as early as possible because the political vacuum had to filled that may be or may not be of our liking.
He commented that warring parties should realize that their head-strong position in country’s politics was costing billions of rupees to the nation besides earning the bad name for the country right across the globe.
If they cannot converge for the sake of national interests then the people will definitely raise the piercing questions about their commitment to the cause of the people and the country?

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے ایک اعلیٰ سطحی اور کلی با اختیار پارلیمنٹر ی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی ہے جو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے موجودہ بحران کو ختم کرنے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔اس کمیٹی میں زیرک اور غیر متنازعہ پارلیمنیٹرین ہونے چاہئیں۔یہ بات انہوں نے آج پارٹی سیکریٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران سے حکومت کا کام بھی ٹھپ ہو گیا ہے جس سے عوام اور ملک دونوں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر زور نہ دیں کیونکہ اسکی وجہ سے ملک میں سیاسی بحران کی کیفیت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا استعفیٰ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ مشروط ہے۔اگر انتخابی دھاندلی ثابت ہو جائے تو پھر وزیر اعظم استعفیٰ ضرور دیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی سیاست ایک بند گلی میں پھنسی ہوئی ہے اگر اس سے نکلا نہ گیا تو پھر احتجاج کرنیوالی سیاسی جماعتوں کے نیچے سے زمین کھسک جائے گی۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ وقت ضائع کئے بغیر انتخابی اصلاحات کا عمل شروع کر دینا چاہیے اور ایسی اصلاحات لائی جائیں جس سے آئندہ انتخابات صاف، شفاف اور آزادانہ ہوں جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پوائنٹ سکورنگ کی سیاست کو خیرباد کہہ دینا چاہیے اور قومی سیاست کو ترجیح دینی چاہیے جو کہ آئین کی بالادستی، جمہوریت اور قانون کی پاسداری کے گرد گھومتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں زہر افشانی ہمیشہ نقصان کا باعث بنتی ہے۔میاں منظور احمد وٹو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے قائدین کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے اتنے احسن طریقے سے اپنے ملک سے سیاسی بحران کو ختم کیا ہے اب اس ملک میں سیاسی استحکام آئیگا اور افغانستان قوم متحد ہو کر دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو شکست فاش دیگی اور بین الاقوامی برادری انکی بڑے کھلے دل اور خوشی کے ساتھ مدد کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہماری آپس میں دست و گریباں سیاسی پارٹیوں کو افغانستان کی سیاست سے سبق لیتے ہوئے ایکدوسرے کو برداشت کرنا چاہیے تا کہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نجات ملے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر کوئی نہ کوئی اسکو حل کریگا خواہ یہ حل ہمیں پسند آئے یا نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ احتجاجی پارٹیوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ میں نہ مانوں کی سیاست سے ملک کو اربوں روپے کے نقصان کے علاوہ ساری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔اگر یہ سیاستدان قومی مفاد میں بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے تو پھر لوگ ان سے ملکی مفاد کے ضمن میں سوال کرنے میں حق بجانب ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں