Bilawal and Kashmir -by Hamid Mir

بلاول اور کشمیر …قلم کمان ۔۔۔۔۔حامد میر

ملتان: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ گیلانی ہائوس ملتان میں ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے— آن لائن فوٹو
ملتان: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ گیلانی ہائوس ملتان میں ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے— آن لائن فوٹو

بلاول بھٹو زرداری نے دریائے چناب کی بپھری ہوئی لہروں کے سامنے سینہ تان کر وہ کچھ کہہ دیا جس نے اپنوں کو خوشگوار حیرت اور غیروں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ۔ نوجوان بلاول نے حالیہ سیلاب کے باعث پنجاب کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور غیر متوقع طور پر سیلابی پانی میں اتر گئے ۔ اس موقع پر انہوں نے کچھ نعرے لگوائے۔ پچھلے دنوں انہوں نے ’’مرسوں مرسوں سندھ ناں ڈیسون ‘‘ کا نعرہ لگایا تھا ۔ سیلابی پانی میں کھڑے ہو کر انہوں نے یہی نعرہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بارے میں لگوایا ۔آخر میں انہوں نے پنجابی زبان میں یہ نعرہ لگوایا کہ ’’لواں گے لواں گے پورا کشمیر لواں گے‘‘۔بلاول کے اس بیان پر بھارت کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بیان حقیقت سے بہت دور ہے ۔ پاکستان کے اندر بلاول بھٹو زرداری کے بیان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا ہے تاہم کچھ دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین نے کشمیر کا ذکر چھیڑ کر دراصل پنجاب اور فوج کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کو فی الحال اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہئے اور بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے ۔
سچی بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا لب ولہجہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور انکی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاست کا خوبصورت امتزاج بن کر سامنے آیا ہے ۔مجھے افسوس ہے کہ پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران وہ پیپلز پارٹی کے ان قائدین میں گھرے ہوئے تھے جنہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی میراث اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانی کو بدنام و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن بلاول سیلاب کے متعفن پانی میں باد صبا کا جھونکا بن کر سامنے آئے ہیں ۔وہ لوگ جو پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ بلاول بھٹو زرداری کے کشمیر پر کہے گئے الفاظ کا تجزیہ 1973ء کے آئین کی روشنی میں کریں ۔
آئین پاکستان کی دفعہ 257 کے مطابق جب ریاست جموں و کشمیر کے باشندے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیں گے تو پھر ریاست جموں و کشمیر اور ریاست پاکستان کے درمیان تعلقات کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ہو گا ۔کسی کو اچھا لگے یا بڑا لگے۔ آئین پاکستان کے مطابق پہلے ریاست جموں و کشمیر ایک اکائی کی صورت میں پاکستان کا حصہ بنے گی اور اس کے بعد کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی اکثریت کی مرضی کے مطابق کوئی اور فیصلہ بھی کر سکتے ہیں ۔ آئین میں دفعہ 257 اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جموں و کشمیر پر قراردادوں کو سامنے رکھ کر تشکیل دی گئی ۔ یہ دفعہ ایک ایسے آئین میں شامل ہے جس پر 1973ء میں حکومت اور اپوزیشن کی تمام اہم سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا ۔ اس دفعہ کی روشنی میں بلاول بھٹو زرداری کے بیان کا تجزیہ کریں تو انہوںنے پنجاب کو خوش کرنے کی کوشش کی نہ ہی فوج کو خوش کیا۔ انہوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستان کے کسی صوبے میں تمہاری سازشیں کامیاب نہ ہونے دیں گے اور آخر میں پاکستانی قوم کو ایک وعدہ یاد دلایا جو آئین بنانے والوں نے 1973ء میں پوری قوم کے ساتھ کیا تھا ۔ یہ آئین صرف پنجاب والوں نے نہیں بنایا تھا ۔ اس آئین کو تشکیل دینے والی اسمبلی کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق سندھ اور اس اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خان عبدالولی خان کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا ۔کشمیر کو صرف پنجاب کا مسئلہ قرار دینے والے یاد رکھیں کہ کشمیر سے آنے والے تمام دریائوں کا پانی سندھ جاتا ہے ۔ بھارت نے ان دریائوں پر 50 سے زیادہ ڈیم بنا لئے ہیں ۔ بھارت ان ڈیموں کے ذریعہ جب چاہے پانی بند کر دیتا ہے جب چاہے پانی کی یلغار کر دیتا ہے ۔ پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے بھارت کے ساتھ دو بڑی جنگیں تو کیں لیکن کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا ۔ 1948ء میں آزاد کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کیا گیا تو پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے اور انکی مرضی سے اس جنگ میں حصہ لینے والے قبائلی لشکر کا تعلق پنجاب سے نہیں تھا بلکہ یہ لشکر قبائلی پختونوں کا تھا ۔ ایک کمزور سیاسی حکومت نے میر پور سے لیکر مظفر آباد تک کشمیریوں کو آزادی دلائی لیکن ایک فوجی حکمران جنرل ایوب خان نے سندھ طاس معاہدے کے ذریعہ تین دریائوں کا پانی بھارت کے تصرف میں دیدیا ۔ پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھارت نے سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کیا۔ کشمیر کی تحریک آزادی کے بزرگ رہنما امان اللہ خان زندہ ہیں ۔ انکی کتاب ’’جہدمسلسل ‘‘پڑھ لیں ۔ انہوں نے صاف صاف لکھا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے خود مختار کشمیر کے نام پر عسکریت شروع کروائی اور پھر کشمیری عسکریت پسندوں کو آپس میں تقسیم کر دیا ۔ جنرل پرویز مشرف دو قدم آگے چلے گئے ۔ انہوں نے ایک طرف مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کرنا شروع کیا دوسری طرف حریت کانفرنس کی قیادت پر دبائو ڈالا کہ وہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کےساتھ مل کر لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد تسلیم کرلیں ۔ جب سید علی گیلانی نے مشرف فارمولے کو مسترد کیا تو مشرف نے انہیں پاگل بڈھا قرار دیدیا ۔ سید علی گیلانی آج بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے عالمی سطح پر جو کردار ادا کیا وہ آج تک کسی فوجی حکمران نے نہیں کیا۔ کشمیر صرف فوج کا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے ۔
بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر پر جو کچھ کہا وہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے موقف کا اعادہ ہے۔ بلاول کا موقف پیپلز پارٹی کے منشور اور آئین پاکستان کے عین مطابق ہے ۔ بلاول نے یہ باتیں ایک ایسے وقت میں کہیں جب بھارت کی حکمران جماعت مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرکے بھارتی آئین کی دفعہ 370کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ ریاستی اسمبلی کی کل نشستیں 87 ہیں ۔ ان میں وادی کشمیر کی 47 اور باقی جموں و لداخ کی ہیں ۔ بی جے پی کو حکومت بنانے کیلئے 44 نشستوں کی ضرورت ہے ۔ حالیہ سیلاب کے دوران نریندر مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کیا تو انہیں کشمیریوں کی طرف سے نفرت و حقارت کا سامنا کرنا پڑا۔ سیلاب کے پانی میں ڈوبے ہوئے کشمیریوں نے بھارتی فوج کی مدد لینے سے بھی انکار کردیا ۔اس صورتحال میں بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر کو یاد کیا تو کوئی جرم نہیں کیا ۔ اگر نریندر مودی بھارتی آئین کی دفعہ 370 ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانا چاہتا ہے تو ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔ یقیناً جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں لیکن خاموشی بھی ایک جرم اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے ۔ 1990ء میں جب مقبوضہ جموں و کشمیر کا گورنر جگ موہن کشمیریوں پر ظلم کر رہا تھا اور دفعہ 370 ختم کرانا چاہتا تھا تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم کے طور پر بھارت کے خلاف بھرپور سفارتی مہم چلائی ۔ آج جگ موہن بی جے پی میں ہے اور بی جے پی دفعہ 370 ختم کرنا چاہتی ہے ۔ آج پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو بلاول کی آواز میں آواز ملا کر اپنے آئین کے تقاضے پورے کرنا ہونگے ۔

Source: Daily Jang

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں