Sit-ins should now come to an end: Mian Manzoor Ahmed Wattoo

218860_l
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP said in a statement that the sit-ins should now come to an end because it was causing great discomforts to the people who were already leading miserable lives due to the excessive load shedding, price hike, worsening law and order situation and now floods in the province of Punjab.
He demanded that the government should give a “safe passage” to the PTI and the PAT to get all of them including government out the close alley as it had paralyzed the government, and the people were the victims at the end of the day.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the PPP and the PTI were two different Parties because PPP wanted the culmination of the political objectives through the Parliament while the PTI was heavily inclined towards the street politics.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that Chairman Bilawal Bhutto would also give the proofs of rigging in the 2013 elections on October 18, 2014. He further said that the PPP’s high command decided to accept the results of elections for the sake of the continuity of democracy only as all other considerations were in the periphery so far as the PPP was concerned.
He observed that the support to the political system should not be treated as the support to the present government’s wrong policies and actions. He said that the PPP strongly condemned the Model Town incident and demanded that the culprit should be brought to justice at the earliest.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo observed that due to the disruption in the political system in the country in the past, the national priorities, long term and short, could not be fixed that led to the degradation in all walks of life affection the process of national integration as well.
He maintained that the continuity of the political process in Pakistan would have given the requisite political stability so important for the overall development of the country on sustainable basis.
He said that Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto gave the nation a unanimous constitution reflective of their aspirations. But, unfortunately the successive dictatorships mutilated it to perpetuate their rule. Credit goes to the PPP previous democratic government for restoring it in its original form, he added
He warned that the nation would not be able to have another constitution if, God forbid, its sanctity is damaged.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo pointed out that the constitution of 1973 was catalyst of keeping the federation of Pakistan intact after the debacle of East Pakistan.
He asserted that for PPP constitution and democracy were every thing and as such were non- negotiable.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اب دھرنے ختم ہونے چاہئیں کیونکہ عوام اس سے بڑی تکلیف میں ہے جو پہلے ہی بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ، مہنگائی ، بیروزگاری اور اب پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے بے حال ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو ’’ سیف پیسج ‘‘ دینا چاہیے تا کہ احتجاج کرنیوالی جماعتیں بشمول حکومت بھی بند سیاسی گلی سے نکلے جسکی وجہ سے ملک کا تمام نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور روز مرہ زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی دونوں ایک دوسرے سے مختلف سیاسی جماعتیں ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے پر یقین رکھتی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف سٹریٹ پاور پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ چےئرمین بلاول بھٹو 18 اکتوبر کو 2013 ؁ء کے انتخابات میں ملک بھر میں دھاندلی کے ثبوتوں کے ساتھ انکشافات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے انتخابی نتائج پر تحفظات ہونے کے باوجود اعلیٰ قیادت نے نتائج کو جمہوریت اور صرف جمہوریت کے تسلسل کے لیے تسلیم کیا۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پارٹی کی جمہوریت کے حمایت کو حکومت کی حمایت ہرگز تصور نہ کیا جائے کیونکہ پارٹی نے حکومت کے غلط کاموں کی ڈٹ کر مخالفت کی ہے اور کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ میں پارٹی نے نہتے کارکنوں پر پنجاب پولیس گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے مجرموں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا۔میاں منظور احمدوٹو نے کہا کہ بد قسمتی سے سیاسی نظام میں مسلسل خلل سے ملک میں صحیح قومی ترجیحات کا تعین نہ کیا جا سکا جسکی وجہ سے قوم کے ہر شعبہ زندگی میں ترقی نہ ہو سکی اور قومی یکجہتی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں سیاسی نظام کا تسلسل رہتا تو قومی زندگی کا ہرشعبہ پائیدار بنیادوں پر ترقی کرتا اور آج پاکستان کا شمار دنیا میں ایک مہذب اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر کیا جاتا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو انکی امنگوں کے مطابق متفقہ آئین دیا لیکن ڈکٹیٹروں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اسکا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی جمہوری حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اسکو اصلی حالت میں بحال کیا۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر خدا نخواستہ آئین کی حرمت پامال کی گئی تو پھر ایسا آئین 100 سال تک بھی قوم کو نصیب نہیں ہوگا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے سانحہ کے بعد یہی آئین پاکستان کی اکائیوں کو اکٹھا رکھے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں