وزیراعظم اگر بحران حل کرکے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے تو ملک کا امیج بہتر ہوتا: میاں منظوروٹو

10698525_450774171727010_3495217745899763135_n

اگر پیپلز پارٹی بھی دھرنوں میں شامل ہو جائے تو ملک میں غیر جمہوری نظام کے آنے کا بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج جھنگ میں میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہی۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی حمایت کر رہی ہے اور اسکو ہرگز یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ پارٹی حکومت کی ہر قسم کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعت ہے اور ڈٹ کر اپوزیشن کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ماڈل ٹاؤن واقعہ میں پنجاب حکومت کی پولیس گردی کی شدید مذمت کی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ملزموں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایاجائے۔ میا ں نظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے خلاف آئندہ الیکشن لڑے گی کیو نکہ یہ دونوں پارٹیاں انتہائی دائیں بازو کی پارٹیاں ہیں اور طالبان کی پسندیدہ ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ دھرنے ختم ہونے چاہئیں کیونکہ اسکی وجہ سے قوم بڑے عذاب میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسکی وجہ سے بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ، مہنگائی ، بیروزگاری، بگڑتی ہوئی امن عامہ کی صورتحال اور اب سیلاب کی تباہ کاریوں پر توجہ نہیں دے سکتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور احتجاجی پارٹیاں اب بند گلی کی سیاست میں ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے جائز مطالبات کو فورًا تسلیم کرے تاکہ ملکی سیاست بند گلی سے نکلے۔ اس بحران نے قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ وزیراعظم اگر ملک سے بحران حل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے تو اس سے ملک کا امیج بہت بہتر ہوتا اور دنیا کو یہ پیغام جاتا کہ پاکستان کے سیاستدان اپنے مسائل حل کرنے کے اہل ہیں لیکن بد قسمتی سے ملک میں بحران موجود ہے جسکی وجہ سے اس دورے سے وہ توقعات پوری نہیں ہو سکتیں جو اس قسم کے دوروں سے عام طور پر وابستہ ہوتی ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اور یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو سیلاب زدگان کی امداد کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیلاب پر سیاست ہر گز نہیں کرے گی ۔ بلاول بھٹو نے پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کا حال ہی میں پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر دورہ کیا جو ان کا سیلاب زدگان کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا۔ متاثرین میں عورتوں،مردوں اور بچوں نے ان سے بے حد محبت کا اظہار کیا جب وہ سیلاب کے پانی سے گزر کر انکے پاس پہنچے۔ میاں منظور احمد وٹو نے اس سے پہلے کوٹ خیرہ اور جھنگ میں سیلاب متاثرین کے درمیان امدادی سامان تقسیم کیا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے پنجاب کے متاثرین کے لیے پیپلزپارٹی پنجاب کو 50 ٹرک حوالے کئے۔ اسکے علاوہ کوچےئرمین نے متاثرین کے لیے 5 کروڑ روپے کے خیمے فورًا خریدنے کی ہدایات جاری کیں جو کہ آدھے سے زیادہ تقسیم ہو چکے ہیں اور باقی جلد ہی تقسیم کر دئیے جائیں گے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیلاب کے متاثرین کو اس مصیبت کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور انکی امداد جاری رکھے گی جب تک انکی مکمل بحالی نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سیلاب زدگان کے لیے 500 امدادی سامان کے ٹرک کا انتظام کررکھا ہے ۔ میاں منظور احمد وٹو نے متاثرین کی ضلعی انتظامیہ کے خلاف متاثرین کی شکایت کا سختی سے نوٹس لیا اور کہا کہ امدادی سامان کی سیاسی بنیادوں پر تقسیم کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔میاں منظور احمد وٹو آج شام کے بعد فیصل آباد روانہ ہو گئے جہاں وہ ڈویثرنل عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ میاں منظور احمد وٹو کے ساتھ سیکرٹری جنرل تنویر اشرف کائرہ، راجہ ریاض، راجہ عامر، میاں ایوب، سہیل ملک، نواب شیر وسیر، رائے شا ہ جہاں بھی انکے ہمراہ ہیں۔ اس سے پہلے جب میاں منظور احمد وٹو جھنگ پہنچے تو طارق گیلانی، قلب عباس شاہ، عابد حسین، ارشد گجر، ذوالفقار چوہدری اور پارٹی کے کارکنوں نے انکا شانداراستقبال کیا۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں