بلاول بھٹو زرداری کے جواب میں!…چیلنج…محمد سعید اظہر

10378946_10203691952193778_3124878937558095617_n
In his insightful and thought-provoking article, Mr Muhammad Azhar referred to Chairman Pakistan peoples Party Bilawal Bhutto Zardari’s recent tweet in which he held out an apology to his party’s sympathizers for ‘mistakes’ committed in the past.

“If PPP’s supporters feel disappointed, then I apologize to them in my personal capacity,” Bilawal said in a statement issued here.
He said he is aware that the party had committed mistakes in the past and asked the PPP sympathizers not to support any undemocratic party that backs extremism. “There are other ways for registering a protest. You should not punish Pakistan and democracy for our mistakes,” he added.
He said PPP is a democratic party and it welcomes a protest within the party.
“If workers of PPP are considering joining any other party, then they had better give it a second thought,” he said.
He noted that there are many right-wing parties whose sympathies lie with dictatorship and the proscribed Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP).
Bilawal Bhutto Zardari said: “We are committed to winning back the trust of our workers.”

Mr Muhammad Azhar has suggested that Bilawal Bhutto Zardari’s optimistic apology should be responded with vision and respect.

جواں سال لیکن ابھی نوخیز عمر، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا، ٹویٹ صورت میں، ایک معافی نامہ قومی پریس میں شائع ہوا ہے۔ ایک معتبر انگریزی قومی معاصر کے مطابق ’’نامعلوم وجوہ‘‘ کی بنا پر مانگی گئی اس معافی میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے پاکستانی عوام اور پارٹی کارکنوں کی خدمت میں عرض کیا ’’یقیناً ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئیں، کارکنوں کا دوبارہ اعتماد بحال کرنے کے لئے ہم ان غلطیوں کی اصلاح کا عزم رکھتے ہیں۔‘‘ کھلے خط نما اس ٹویٹ کے تفصیلی مندرجات کچھ اس طرح سے ہیں:۔’’ایسے رہنما اور کارکن جن کا دل اب بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ دھڑک رہا ہے لیکن کسی بھی وجہ سے تضحیک یا نظر انداز کرنے کے باعث ناراض ہیں، میں ان سے ذاتی طور پر معذرت کرتا اور کہتا ہوں کہ ماضی میں ہم سے غلطیاں ضرور ہوئی ہیں۔ ہم نے کسی طور بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم ہر لحاظ سے مکمل ہیں بلکہ ہم کھلے دل سے اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سے ماضی میں غلطیاں سرزد ہوئی تھیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ہم ماضی کی ان غلطیوںکا نہ صرف ازالہ کرنے پر کمر بستہ ہیں بلکہ اس ازالے کی صورت میں ہم آپ کے کھوئے ہوئے اعتماد کو ازسر نو بحال کرنے کا بھی عزم لئے ہوئے ہیں، اگر آپ کسی اور سیاسی جماعت میں جانے کی خواہش رکھتے ہیں تو آپ پہلے سوچ لیں۔ ہم نے اصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے، آپ میرے ساتھ کسی شکایت کی سزا پاکستان یا جمہوری عمل کو ہرگز نہ دیں، برائے مہربانی کسی بھی غیر جمہوری اور انتہا پسند جماعت کی ہرگز حمایت نہ کریں کیونکہ پاکستان میں پہلے ہی دائیں بازو کی سیاست کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ اگر کوئی کارکن ہماری جماعت سے مایوس ہے تو میں اس کو مثبت تجاویز دے سکتا ہوں۔ پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے جس میں پارٹی پالیسی سے اختلاف کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کو چھوڑنے کے لئے آپ بضد ہیں تو آپ کسی جمہوری اور عوام دوست جماعت کا انتخاب کریں۔ پیپلز پارٹی کسی بھی جمہوری اور بائیں بازو کی جماعت میں آپ کی شمولیت کا خیر مقدم کرے گی پارٹی بائیں بازو کی جماعتوں کو قومی سیاسی دھارے میں شمولیت پر خوش آمدید کہتی ہے۔ حقیقتاً اگر پیپلز پارٹی کا کوئی سابق ہمدرد کسی دوسرے سیاسی فورم میں شرکت کرنا ہی چاہتا ہے تب میں اسے اسلام آباد میں متوقع بائیں بازو پر مشتمل جماعتوں کے اجتماع میں شریک ہونے کی تجویز دوں گا۔‘‘ ٹویٹ کے معافی نامے پر مشتمل سندیسے کے مطابق بلاول کو یقین ہے کہ کوئی اس دعویٰ کی جسارت نہیں کر سکتا کہ جس شخص نے ایک بار ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی شہید کی حمایت کی وہ زندگی میں کبھی بھی آمریت یا انتہاء پسندی کا حامی ہو سکتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہی ایک ترقی پسند خوشحال اور پُر امن پاکستان کی تعمیر کر سکتی ہے، اس منزل تک پہنچنے کے لئے میں ایک بار پھر آپ کے خود پہ اعتماد کا منتظر ہوں۔
جئے بھٹو!
پاکستان زندہ باد!‘‘
گزری عمر کے تھوڑے بہت سیاسی تجربے، مشاہدے اور ادراک کی متاع قلیل کا فارمولا استعمال میں لاتے ہوئے کہا جا سکتا ہے، بلاول کے اس ٹویٹ میں کسی مخلص یا ابن الوقت، کسی بھی قسم کے پارٹی میڈیا پرسن کے الفاظ یا مفہوم کی شمولیت، آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ ٹویٹ کے چند جملے ملاحظہ فرمایئے:
(I) ایسے رہنما اور کارکن جو کسی بھی وجہ سے تضحیک یا نظر انداز کرنے کے باعث ناراض ہیں۔
(II)پیپلز پارٹی کا کوئی عہدیدار کسی ددوسرے سیاسی فورم پر جانا چاہتا ہے تب میں اسے اسلام آباد میں متوقع بائیں بازو پر مشتمل جماعتوں میں شریک ہونے کی تجویز دوں گا۔
اور بھی ایسے لفظ اور اظہار ٹویٹ میں موجود ہے جس کا باطن روایتی سیاسی بے بصیرتی کا شکار نہیں، گویا بلاول بھٹو زرداری کے اس پُر امید معافی نامے کو احترام اور فکر کے ساتھ Responseکیا جانا چاہئے۔ نوخیز عمر چیئرمین پیپلز پارٹی کے سامنے صورتحال کی جوابی تصویر پوری دیانتداری اور خوداری کے ساتھ پینٹ کرنا ہو گی، آپ ان لوگوں کے سائے خود پہ نہ پڑنے دیں جنہیں اپنی مکمل اقتصادی Settingکے باوجود اپنی غربت کے پروپیگنڈے پہ کمال حاصل ہوتا ہے اور مستقبل کے کسی پی پی وزیر اطلاعات سے وابستہ ہونے کی ’’اسٹرٹیجی کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی اور عوام یا دونوں کو اپنے مجوزہ ننھے سے ’’معاشی کشکول‘‘ میں دیکھنے کے علاوہ نظر کی ہر برکت سے محروم رہتے ہیں!
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا وہ والا نامہ دوبارہ پڑھنا چاہئے جس میں انہوں نے اپنی بیٹی اور بلاول کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو ان کی سالگرہ پر جیل کی کوٹھڑی سے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:۔
’’قائداعظم اور سہروردی کے اس ملک پر حکومت شعبدہ بازوں اور کپتانوں نے کی ہے۔ شاید اس صورتحال میں کوئی تبدیلی آ جائے اگر کوئی جنگجو قسم کا نوجوان جدوجہد کا آغاز کرے۔ اگر حالات تبدیل نہیں ہوتے تو پھر تبدیل کرنے کے لئے کچھ نہیں بچے گا یا تو اقتدار عوام تک منتقل ہوجائے گا یا پھر ہر شے تباہ ہو جائے گی۔ تمہارے دادا نے مجھے فخر کی سیاست سکھائی اور تمہاری دادی نے مجھے غربت کی سیاست کا سبق دیا۔ میں ان دونوں باتوں کو مضبوطی سے تھامے رہا ہوں تاکہ ان دونوں کا انضمام ہو سکے۔ پیاری بیٹی میں تمہیں صرف ایک پیغام دیتا ہوں، یہ پیغام آنے والے دنوں کا پیغام ہے اور تاریخ کا پیغام ہے کہ صرف عوام پر یقین کرو، ان کی نجات اور مساوات کے لئے کام کرو، جس طرح اللہ کی جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے، اسی طرح سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے۔ برصغیر کی عوامی سیاست میں کچھ کامیابیاں میرے کریڈٹ پر ہیں۔ میری یادداشت میں صرف وہ کامیابیاں ہی انعام و اکرام کی مستحق ہیں جن کے ذریعے مصیبت زدہ عوام کے تھکے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں بکھریں گی، جن کے باعث کسی دیہاتی کی غمناک آنکھ میں خوشی کی چمک پیدا ہو گی۔ دنیا کے عظیم لیڈروں نے مجھے جو خراج تحسین پیش کئے ان کے مقابلے میں میں موت کی اس کال کوٹھڑی میں زیادہ فخر و اطمینان کےساتھ ایک چھوٹے گائوں کی اس بیوہ کے الفاظ یاد کرتا ہوں جس نے مجھے کہا تھا ’’سب کو واریاں، سولر سائیں‘‘ اس نے یہ الفاظ اس وقت کہے تھے جب میں نے اس کسان کے بیٹے کو ایک غیر ملکی وظیفہ پر باہر بھجوایا تھا۔ بڑے آدمیوں کے نزدیک یہ چھوٹی باتیں ہیں لیکن مجھ جیسے چھوٹے آدمی کے لئے یہ بڑی باتیں ہیں۔ تم بڑی نہیں ہو سکتیں جب تک تم زمین کو چومنے کے لئے تیار نہ ہو یعنی عاجزی کا رویہ اختیار نہ کرو، تم زمین کا دفاع نہیں کر سکتیں جب تک تم اپنی زمین کی خوشبو سے واقف نہ ہو۔ نظریات، اصول، تحریریں، تاریخ کے دروازے سے باہر رہتی ہیں غالب عنصر عوام کی تمنائیں اور ان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے۔ جب اس راگ یا موسیقی کے معنی سمجھ لئے جاتے ہیں تو منزل کے نشان واضح ہو جاتے اور اصول و نظریات کو پائوں لگ جاتے ہیں۔‘‘ تو اگر ’’جنگجو‘‘ بلاول بھٹو زرداری ہی ہے تب بہت کچھ اس کے لاشعور میں محفوظ ہونا چاہئے۔ نانا کی پھانسی کی داستان اس نے لازماً سنی ہو گی، شاید اس میں وہ کچھ بھی ہو۔
جس سے آج تک عوام بھی لاعلم ہوں، ماں کا اس کا اور اس کی بہن کے ہاتھ پکڑ کے، جیل کے دروازے پر اس کے باپ کے ساتھ ملاقات کے لئے دستک دینا، اسے یقیناً ماں نے، صنم بھٹو نے، باپ نے پارٹی کے بزرگوں نے شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی دیو مالائی شخصیتوں کی سحر طرازیوں سے بھی آگاہ کیا ہو گا، نہیں کیا تو وہ آگاہ ہونے کی کوشش کرے، چنانچہ اگر وہ ’’جنگجو‘‘ بلاول ہے، عوامی جنت کی تلاش میں اسے ہی سالاری کا اعزاز حاصل ہونے جا رہا ہے، پھر کچھ باتیں دہرانا، کچھ باتیں کہنا اور کچھ باتوں کا احساس اجاگر کرنا ناگزیر ٹھہرتا ہے۔ دہرانا یہ ہے کہ واقعی پاکستان میں دائیں بازو کی سیاست پروان چڑھائی گئی ہے۔ ضیاء الحق سرمائے، طاقت، سازش اور مذہب کے مربع کے سب سے بڑے آسیب کے طور پر قائداعظم کے پاکستان پر مسلط کیا گیا۔ ضیاء نے پاکستان کے معاملے میں قائداعظم کے نظریاتی نرخرے سے سارا خون چوس لیا، اس کی جانشینی نواز شریف کے خاندان نے سنبھالی اس جانشینی کی طاقت اور پھیلائو نے 60فیصد پاکستان یعنی پنجاب ہی میں نہیں پورے ملک میں قائداعظم کے افکار، ترقی پسندوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو روند ڈالا،یہ علیحدہ بات ہے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت اس دائیں بازو کے اس آسیبی سینے پر سوار ہو کے مونگ دلتی رہی، چار بار پی پی نے عوام کے ووٹوں سے اقتدار سنبھالا، لیکن بالآخر جماعت کی صف اول اور صف دوم کے اکثر رہنمائوں اور فعال عہدیداروں اور کارکنوں کی بے پناہ کرپشن، رعونتوں، دھاڑیوں اور مفادات کے گدلے پانیوں کے باعث پارٹی کا رشتہ بالآخر عوام سے تڑوا دیا۔ اس اکثریت نے عوام کی جنت پر اپنی سودے بازیوں کی مادی ہوس پرستیوں کے بت نصب کر دیئے۔ ماضی بعید میں جانے کی ضرورت نہیں ، مسلم لیگ (ن) چاہے تیسری بار اقتدار میں ہے، ایک بار بھی اس کا عوامی مینڈیٹ شفاف نہیں تھا، آج بھی نہیں ہے لیکن پنجاب پیپلز پارٹی نے، ماضی قریب کے پانچ برسوں میں، ان راستوں کو بھی مسترد کر دیا جن پر چل کر وہ عوام کے دکھوں میں سانجھے دار رہتی۔ پنجاب میں اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے مگر اس جماعت نے صوبے کی سڑکوں پر ایک جلوس نکالنے کی زحمت نہیں کی؟ عوامی مسائل کی آگ جلتی رہی اس جماعت نے پنجاب میں صدائے احتجاج کی کوئی اجتماعی تحریک چلائی، پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں ایک بھی تقریر عوام کے مصائب و آلام سے شروع ہو کے آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تسلسل پر ختم نہیں ہوئی، عوام کی آواز سے مکمل لا تعلقی کا علم بلند کر کے یہ لوگ ’’ن‘‘ لیگ کے ساتھ ’’آئین کی بالادستی‘‘ کا عہد باندھتے رہے۔ اگر بلاول ہی وہ جنگجو ہے جسے عوامی جنت کی سالاری کا اعزاز حاصل ہونے جا رہا ہے تب وہ اپنے والد کے میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹرقیوم سومرو سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ اور فردوس عاشق اعوان سے پوچھے، تم لوگوں کو ان پانچ برسوں میں ترقی پسند لبرل اور بائیں بازو کے دانشوروں اور حامیوں کی ایک بھی قومی کانفرنس منعقد کروانے کی توفیق نہیں ہوئی ، بلاول اگر وہی ’’جنگجو‘‘ ہے اور اسے عوامی جنت کی سالاری کا اعزاز حاصل ہونے جا رہی ہے تب وہ پیپلز پارٹی کے زوال پر ایک Truth Comissionکے قیام کا اعلان کرے، شاید امیدوں اور رشتوں کی تسبیح کے بکھرے ہوئے دانے دوبارہ اکٹھے کئے جا سکیں، شتابی سے کام لو، وقت ہاتھ سے نکلے جا رہا ہے!

Source: Daily Jang

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں