شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط ہونا چاہئے – ریاض حسین بخاری

images

آج مورخہ 23-09-2014کو ملتان کی عوام کو قدرت نے ایک نیا باغی عطا کیا جب ملک محمد عامر ڈوگر جو کہ PPPجنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل تھے ،نے پارٹی قیادت کے فیصلے سے بغاوت کرتے ہوئے آزاد حیثیت سے NA-149 کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا اور ایک بڑے جلوس کے ہمراہ جا کر اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دی۔ انہیں اس فیصلے سے باز رکھنے اور منانے کا ٹاسک سابق وزیر اعظم جناب سید یوسف رضا گیلانی کو دیا گیا تھا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور ملک محمد عامر ڈوگر نے PPP اپنی 20سال رفاقت توڑ دی اور آزاد حیثیت سے الیکشن میں چلے گئے۔ الیکشن کے بعد وہ تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں گے۔
یہ کالم میرے سابقہ کالم کا تسلسل ہے جو میں نے پارٹی ورکز کی خواہشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھا تھا جس میں ان کی اس خواہش کا اعادہ کیا گیا تھا کہ NA-149نے پارٹی ٹکٹ ملک محمد عامر ڈوگر کو دیا جائے لیکن آج ملک صاحب کی طرف سے پارٹی چھوڑنے کے اعلان پر کارکنان بہت دل گرفتا ء ہیں۔ ان کی ان جذبات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ملک محمد عامر ڈوگر ایک حقیقی ورکر تھے جنہوں نے پارٹی کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں اور پارٹی کو اس جگہ واپس لے آئے جہاں سے پارٹی نے ملتان میں ایک بار پھر عروج کی طرف سفر شروع کر دیا تھا لیکن شاید وہ بھی وقتی مفادات کو پارٹی پر ترجیح دینے سے خود کو نہ روک سکے اور پارٹی کو داغ مفار قت دے گئے۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ ڈوگر صاحب کی شاہ محمود قریشی سے ڈیل فائنل ہو چکی تھی۔ جس کے تحت تحریکِ انصاف اس حلقے میں اپنا امیدوار کھڑاکرنے کی بجائے ڈوگر صاحب امداد کرے اور جتنے کے بعد وہ تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے اور آئندہ الیکشن اسی کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے ۔
ان کے اس فیصلے کو ان کے پارٹی ورکرز نے بڑے دکھ کے ساتھ بھی تسلیم نہیں کیا ۔آزاد امیدوار کی حیثیت تک تو شاید ورکرز اور عہدیدران کو یہ امید تھی کہ وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے لیکن پارٹی چھوڑنے اور تحریک انصاف میں جانے کی خبروں یا افواہوں نے پارٹی ورکرز کو اپنی راہیں الگ کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور ان کی رہائش گاہ پرموجود ہونے کے باوجود زیادہ تر تنظیم عہدیدران ان کے ساتھ کاغذات جمع کروانے نہ گئے اور ذاتی تعلق پر پارٹی وابستگی کو قربان نہ کیا جس پر میں ایک ادنیٰ ورکر ہونے کی حیثیت سے سلام پیش کرتا ہوں۔
شنیدنی ہے کہ ملک صاحب کو 22ستمبر کی رات دیر تک بار بار ٹکٹ کے لئے بلانے کے لئے فون کیا جاتا رہا ۔گیلانی صاحب بار بار خود بھی ان کو فون کرتے رہے لیکن وہ بلانے کے باوجود بھی گیلانی صاحب کے پاس نہ گئے اور فون پر انہیں کہا کہ وہ ٹکٹ نہیں لینا چاہتے بلکہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ۔ شائد وہ PTIکے ووٹرز کی حمایت لینے کے لئے ایسا کر رہے تھے ۔ جس کے بعد آخر کار NA-149کا ٹکٹ ان کی بجائے ڈاکٹر جاوید صدیقی کو ہی دے دیا گیا۔ پارٹی کارکنان اور تنظیمیں اس بات پر بہت دل گرفتاء ہیں لیکن وہ بی بی کے فرمان اور اصول کے مطابق شخصیات کی بجائے پارٹی کو مقدم رکھ رہے ہیں۔ جس میں راقم بھی شامل ہے۔ ملک صاحب کے جانے سے وہ خود کو لاوارث اور بے سہارا محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ملک صاحب ہمیشہ کارکنوں کے درمیان رہتے تھے اور انہوں نے خود کو پارٹی کے لئے وقف کیا ہوا تھا ۔ ان کے لئے دعا گو ہوں کہ وہ جہاں رہیں خوش رہیں۔ پارٹی کے کارکنوں کے دل میں ان کی جگہ اور محبت میں کمی تو ہو سکتی ہے ختم نہیں ہو سکتی۔ ان کا خلاء پورا کرنے کے لئے فی الحال کوئی شخصیت موجود نہیں ہے۔ گیلانی خاندان کا ملتان کی عوام کے دلوں میں بے حد احترام ہے لیکن میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر کہہ رہا ہوں کہ گیلانی خاندان اور کارکنان کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔ جسے پورا کرنے کے لئے کسی عوامی شخصیت کو ملک صاحب کی جگہ دی جائے تاکہ پارٹی قیادت اور کارکنوں کے درمیان فاصلہ کم کیا جا سکے۔ ملک صاحب کے جانے سے پارٹی کو جو نقصان ہوا ہے (ان کا فیصلہ خود ان کے کس قدر درست ہے وہ تو وقت ثابت کرے گا ) اس کے لئے لازم ہے کہ پارٹی کی از سرنو تنظیم سازی کی جائے اور پڑے لکھے باشعور اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو تنظیمی عہدے دیئے جائیں تاکہ وہ پارٹی کے مقصد کے لئے بے لوث کام کرے اور ملک عامر ڈوگر کے جانے سے پیدا ہونے والے خلاء کو جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کریں۔
پارٹی قیادت کو ملتان پر بہت زیادہ توجہ دینا ہوگی کیونکہ یہ جنوبی پنجاب کا دل ہے اور گیلانی صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے کارکنوں کو اپنے نزدیک کریں ان کے جذبات سمجھیں۔ کارکنان کے دل میں ان کے لئے بے حد احترام ہے پیار ہے لیکن انہیں درمیانی خلیج پاٹنا ہوگی۔ کارکنان اور قیادت کے درمیان فاصلے جتنے جلدی کم ہوں گے پارٹی اتنی جلدی فعال سے فعال ہوتی جائے گی اور بی بی شہید کا فرمان کہ شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط ہونا چاہئے ۔ 100فیصد سچ ثابت ہوگا۔ ملک صاحب کے لئے ہماری دعا ہے کہ وہ جہاں رہیں خوش رہیں لیکن PPPعوام کی جماعت ہے شہید بی بی کی جماعت ہے شہید بھٹو کی جماعت بلاول بھٹو کی جماعت ہے ۔ اور کسی بھی شخص سے زیادہ پارٹی ہی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ پارٹی قائم تھی ہے اور انشاء اللہ رہے گی۔
الوداع الوداع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر ڈوگر الوداع
بشکریہ ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات
PPPملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں