بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی کے ہمدردوں سے اپیل غلطیوں کا اعتراف اور بڑے پن کا ثبوت

10616356_710069179081625_7326129408678601283_n

بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی کے ہمدردوں سے اپیل غلطیوں کا اعتراف اور بڑے پن کا ثبوت
کل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کے لاہور میں کامیاب جلسے کے فوراََ بعد پارٹی کارکنوں کو ایک صفحہ کا ٹیوٹر پیغام بھیجا۔ جس کے چیدہ چیدہ پوائنٹس درج ذیل ہیں۔
1۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وہ کارکن اور ہمدرد جو پارٹی سے مایوس لیکن ان کے دل پارٹی کے ساتھ دھڑکتے ہیں ذاتی طور پر ان سے معافی مانگتا ہوں۔
2۔ اگر کوئی ساتھی پارٹی چھوڑ کر کسی دوسری جماعت کی طرف دیکھ رہا ہے اس سے کہوں گا کہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔
3۔ ماضی میں جو غلطیاں کا ان کا اعتراف کرتا ہوں۔
4۔ کسی بھی غیر جمہوری پارٹی کو سپورٹ نہ کرنا۔
5۔ پی پی پی ایک جمہوری جماعت ہے تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
6۔ ایسی کسی جماعت کو سپورٹ نہ کرنا جو شدت پسندی کی حامل ہو۔پاکستان میں ایسی بہت سی جماعتیں ہیں جو ڈکٹیٹر شپ اور ٹی ٹی پی کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
7۔ اگر آپ پی پی پی سے ناراض ہیں تو احتجاج کے بہت سے اور طریقے ہیں۔ جو پارٹی میں رہ کر اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
8۔ اگر پارٹی چھوڑنا بہت ہی ناگزیر ہے تو کسی عوام دوست پارٹی میں شامل ہو۔
9۔ کارکنان انتظار کریں عمران خان کو بھر پور جواب دیں گے۔
اس ٹیوٹر پیغام کو ہر شخص نے اپنی مرضی کا رنگ دیا ہے کوئی اس کو کارکنوں کی مایوسی کا رد عمل کہ رہا ہے تو کوئی اسے بلاول بھٹو صاحب کے دورہ پنجاب کے (بقول ان کے ) اچھا ریسپونس نہ ملنے کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ غرضیکہ ہر شخص اس کو اپنی مرضی کا جو رنگ دینا چاہتا ہے دے رہاہے۔درحقیقت میرے مطابق ایسا کچھ نہیں ہے۔ جہاں تک بلاول بھٹو کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ تھا وہاں ان کا حیرت انگیز اور والہانہ استقبال دیکھنے کو ملا۔ ان کا وہ دورہ صرف اور صرف سیلاب زدگان کی امداد اور انکی دل جوئی کیلئے تھااس ایک نقطے کے علاوہ انہوں نے کسی قسم کی سیاسی گفتگو اور کاروائی سے پرہیز کیا اور اب اپنی بھر پور سیاسی زندگی کا آغاز 18 اکتوبر کو کراچی میں سانحہ کارساز کے برسی کے موقع پر کریں گے جس کا پارٹی کے تمام کارکنوں کو شدت سے انتظار ہے۔اور جہاں تک مایوسی کا تعلق ہے کارکن تو اس دن بلاول بھٹو کے دورے کے دن نئے جذبے سے ان کے منتظر تھے ہی اسی شدت سے سیلاب زدگان اپنے محبوب رہنماؤں کو قریب سے دیکھنے کے خواہش مند تھے ان کے چند گھنٹوں کے دورے نے کارکنان میں نئی روح پھونک دی۔ اب 18 اکتوبر کا جلسہ پی پی پی کی اپنی روایات کے مطابق ایک نئی جدو جہد کا آغاز ثابت ہوگا جو پیپلز پارٹی کا وطیرہا ہے جہاں تک کچھ لوگوں کے پارٹی چھوڑنے کے خدشات کا تعلق ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی ایک سمندر ہے جس کو جس نے بھی چھوڑا اس کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ گیا لیکن پارٹی کے کارکن بھٹو کے فلسفے اور بی بی شہید کی محبت کے دیوانے ہیں بھٹو خاندان ان کیلئے اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔اور وہ جب عوام کے درمیان نکلتے ہیں تو کارکنان پروانہ وار ان پر نچھاور ہونے کیلئے تیار رہتے ہیں۔بلاول بھٹو کی صورت میں کارکنان کو ذوالفقار علی بھٹو کا چمکتا اور بی بی شہید کا دمکتا چہرہ نظر آتا ہے۔اس حقیقت کو وہ لوگ نہیں مانیں گے جنہوں نے بھٹو خاندان سے تعلق کو دل سے کبھی نہیں کیا ۔جو آج کل نوجوان نسل پر جنون سوار ہے وہ کسی کی محبت کی وجہ سے نہیں ہے۔یہ سمندر کی جھاگ ہے پانی کا بلبلہ ہے جو جتنی تیزی سے نکلتا ہے اتنی تیزی سے بیٹھ بھی جاتا ہے ان میں پی پی پی کے ورکرز کا دیوانہ وار جذبہ اور محبت (جو بھٹو خاندان سے ہے) کہیں موجود نہیں یہ سارا شوروغوغا ایک خوش نما دھوکہ ہے۔جو ہماری نئی اور معصوم نسل کو دیا جا رہا ہے لیکن حقیقت زیادہ دیر چھپ نہیں سکے گی۔ بہت کچھ ظاہر ہو چکا ہے اور جو باقی ہے وہ بھی جلد ظاہر ہو جائے گا۔
بلاول بھٹو نے جو ٹیوٹر پیغام دیا ہے اس کو دل سے سمجھنے والے انکی وسعتِ قلبی کا اعتراف کریں گے اس میں جہاں کارکنوں کا درد ہے وہاں شدت پسندوں سے نفرت کا اظہار بھی انہوں نے ماضی کی غلطیوں کا اظہار بھی کیا ہے تو غیر جمہوری لوگوں سے دور رہنے کی اپیل بھی کی ہے اس میں کارکنوں کی مایوس دور کرنے کی نوید سنائی گئی ہے تو انہیں انتہائی فیصلہ کرتے وقت غیر جمہوری اور شدت پسند تنظیموں کی بجائے عوام دوست قوتوں کے ساتھ چلنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
اس پورے پیغام میں ایک کھلی ذہنیت اور دریا دلی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اپنی غلطیوں کا اعتراف ہمیشہ بڑے دل والے لوگ کرتے ہیں جب کہ تنگ دل لو گوں کو اپنی غلطی نظر ہی نہں آتی بلاول بھٹو صاحب کے اس اعتراف کو میں ان کا بڑا پن سمجھتا ہوں اور پارٹی کارکنان بھی اس کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں۔ میں بعض تجزیہ نگاروں کی اس رائے متفق نہیں ہو کہ اس میں کسی خوف کا عنصر شامل ہے۔ بلاول شہیدوں کی نشانی ہے اور خوف کا لفظ ان کی سرشت میں شامل ہیں نہیں ہے۔ ان کا اعلان کے عمران خان کو بھر پور جواب دیا جائے گا ۔ نے کارکنان میں نئی روح پھونک دی ہے۔ اور بلاول انہیں بھٹو اور بی بی شہید کے خوبصورت امتزاج نظر آرہا ہے بلاول اپنے نانا اور والدہ کا مشن اگے بڑھانے کیلئے میدان میں آچکا ہے اور 18 اکتوبر اس مشن کے احیاء کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا

چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر
کل بھی بھٹو زندہ تھا اج بھی بھٹو زندہ ہے
ایک زرداری سب پہ بھاری
بلاول بھٹو آئے گا نئی خوشیاں لائے گا
آخر میں میں جناب حسن نثار صاحب کے بلاول بھٹو صاحب کے بارے میں دیے گئے Comments پر شدید احتجاج کرتا ہوں اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ قومی لیڈروں کے بارے میں ایسے Comments دیتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا کریں جن سے پارٹی کارکنان کو دلی تکلیف پہنچے
پیپلز پارٹی کے سچے جیالوں کو سلام

بشکریہ
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات
پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں