یوسف رضا گیلانی ۔۔۔ تیری عظمت اور وسعت قلبی کو سلام – ریاض حسین بخاری

ppp-to-hold-rally-at-mazar-e-quaid-on-oct-18-gilani-1411992930-4501

یہ کالم میرے سابقہ کالم (شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط ہونا چاہیے ) کا ہی تسلسل ہے ۔ اس کالم میں میں نے گیلانی صاحب سے کچھ شکوے شکایات کی تھیں اور پھر وہی گلے اور خدشات میں نے گیلانی صاحب سے ملاقات کے دروان بھی کئے تھے ۔ وہاں پیپلز ملتان شہر سے وابستہ دیگر کارکنان بھی شامل تھے ۔ ہر شخص اپنی قربانیوں کی داستان سنا رہا تھااور فا داری کا یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس وقت تک مجھے اس نشست میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی تھی جو پہلے سے مختلف ہو۔ میں نے ان سے مخاطب ہونے کی کوشش کی تو مجھے دوستوں نے چپ رہنے کا مشورہ دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ شخص کچھ کڑوی مگر سچی باتیں کرے گا ۔ لیکن گیلانی صاحب نے مجھ سے کہا کہ بخاری صاحب آپ جو کہنا چاہتے ہیں کھل کر کہیں میں آپ کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کروں گا ۔ تو میں نے اپنے جذبات اور احساسات بیان کرنا شروع کئے اور گیلانی صاحب مجھے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں مناسب جواب دیتے رہے ۔ اور یہ ملاقات صرف گیلانی صاحب کے کراچی جانے کا وقت ہوجانے کی وجہ سے ختم ہوئی ورنہ وہ خود ہی بہت دلچسپی سے سوالوں کا جواب دے رہے تھے ۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر جاوید صدیقی (امیدوار قومی اسمبلی حلقہ NA-149)او ر جناب سید احمد مجتبیٰ بھی موجود تھے ۔
میں نے اپنا کالم جب ملک عامر ڈوگر صاحب کے پارٹی چھوڑنے کے بعد لکھا تھااور اس میں چھوٹا منہ اور بڑی بات کے مصداق پارٹی قیادت خصوصاً گیلانی صاحب سے جو خدشات اور گلے تھے دور ہوتا ہوا محسوس کیا۔ گیلانی صاحب مجھے وہی کرتے نظر آئے جو میں اپنے اس کالم میں لکھ چکا تھا ۔ میرے خیال میں ملک عامر ڈوگر صاحب کا خلاء پر ہونا مشکل نظر آتا تھا لیکن گیلانی صاحب کا رویہ ، ان کا انداز ان کی محبت اور ان کا اعتماد یہ ظاہرکر رہا تھا کہ وہ پارٹی کے دوبارہ احیاء (خصوصاً جنوبی پنجاب کے حوالے سے)کا پختہ ارادہ کر چکے ہیں میں نے انہیں بہت پر عزم پایا ۔ ان کے رویے میں ایک پختہ فیصلہ کار فرما نظر آرہا تھا اور مجھے اپنے وہ خدشات (ذاتی)دور ہوتے نظر آئے جن کا اظہار میں ان سے کرچکا تھا ۔ مجھے محسوس ہونے لگ گیا کہ گیلانی صاحب اپنے محنت سے ملک عامر ڈوگر کا خلاء بہت جلد پورا کر لیں گے ۔ انشاء اللہ
یہا ں میں ایک واقعے کا ذکر کرتا چلوں جو 2013ء ؁ کے انتخابات میں پیش آیا تھا ۔ NA-151میں سید عبدالقادر گیلانی (جو پہلے ضمنی انتخاب جیت چکے تھے ) امیدوار تھے اور ملک عامر ڈوگر کے چھوٹے بھائی ملک عدنا ن ڈوگر حلقہ PP-198(جو NA-151کے نیچے ہے )میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے ۔ اسی حلقہ میں یونین کونسل نمبر55بھی شامل ہے جہاں سے پیپلز پارٹی ہمیشہ جیتتی آ رہی تھی وہاں کے ناظم ملک شکیل حسین لابر (ان کے بارے میں تفصیل سے پھر لکھوں گا) جو ملک عامر ڈوگر کی طرف سے انہیں نظر انداز کئے جانے کو وجہ سے سخت ناراض تھے انہوں نے آزاد حیثیت سے PP-198سے الیکشن لڑنے کا ارادہ کر لیاوہ ناظم کا الیکشن پی پی پی پی کی حمایت اور اپنی نیک نامی اور دوست نوازی کی وجہ سے جیت چکے تھے ۔ ان کے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے سے ڈوگر صاحب کو اپنے ووٹ تقسیم ہوتے نظر آئے۔ لابر صاحب ہر قسم کی کوششوں کے باوجود ان انتخابات میں ڈٹے ہوئے تھے ۔ آخر کار جناب سید یوسف رضا گیلانی بمعہ سید عبدالقادر گیلانی ، ملک محمد عامر ڈوگر اور چند دوسرے حضرات کے ہمراہ شکیل حسین لابر کی رہائشگاہ پر تشریف لائے ۔ راقم بھی اپنے دوستوں کے ساتھ اس وقت وہاں موجود تھا ۔ اور میری دلی خواہش ہونے اور کوششوں کے باوجود وہ دستبردا نہ ہوئے ۔ وہاں مجھ سے بہت بڑی غلطی سر زد ہوئی کہ میں ان کی میٹنگ میں شامل نہ ہوا۔ ملاقات تین گھنٹے جاری رہی لیکن لابر صاحب نے بصد احترام معذرت کر لی ۔ اور گیلانی صاحب وہاں سے واپس لوٹ آئے ۔ مجھے یہ خلش رہے گی کہ کاش میں ان کے درمیان بیٹھا ہوتاتو شایدان کا فیصلہ مختلف ہوتا ۔ بہر حال گیلانی صاحب بوجھل دل کے ساتھ واپس چلے گئے ۔ لابر صاحب نے اپنے گروپ کے ساتھ سید عبدالقادر گیلانی کی مکمل سپورٹ کی اور وہ ساٹھ ہزار ووٹ لیکر بھی ہار گئے۔ جو کہ ان کے ضمنی انتخابات میں لئے گئے ووٹوں سے صرف چار ہزار ووٹ کم تھے ۔ اور ملک عدنان ڈوگر اس یونین کونسل میں چوتھے نمبر پر رہے ۔ یہ ساری تفصیل بتانے کا مقصد آگے آپ کو سمجھ آئے گا ۔
گیلانی صاحب سے جب میں نے اپنے خدشات ظاہر کئے تو اس وقت میں نے ان سے نا راض دوستوں کو منانے کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا کن کی بات کررہے ہیں میں نے ملک شکیل حسین لابر کا ذکر کر دیا ۔ انہوں نے کمال شفقت سے کہا کہ میرے دروازے کھلے ہیں وہ جب چاہیں آ سکتے ہیں۔پھر بعد میں ملک شکیل حسین لابر سے ان کی ملاقا ت ہوئی میں وہاں نہیں تھا مجھے معلوم ہوا کہ گیلانی صاحب نے انہیں کھلے دل سے گلے لگایا ، ان کا ماتھا چوما اور بڑے پیار سے سینے سے لگایا جو کہPP-198میں پارٹی کے لئے ایک اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ میں گیلانی صاحب دریا دلی ،وسعت قلبی ، عظمت اور در گزر کرنے کی صلاحیت سے بے حد مثاثر ہو چکا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ خصوصاً جنوبی پنجاب میں پی پی پی کو دوبارہ اصل صورت میں بحال کرنے میں جلد کامیاب ہو جائیں گے ۔
اب میں آخر میں پارٹی قیادت بشمول گیلانی صاحب کے چند گزرشات کروں گا جو کہ اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کے مترادف ہے ۔ مجھے یقین ہے گیلانی صاحب پارٹی کو جلد اپنی اصل شکل میں بحال کر لیں گے ۔ تو یہاں ان کے مصمم ارادے کا امتحان بھی ہے وہ ہے پارٹی کی تنظیم نو ۔ میں بار بار بیان کر
چکا ہوں کہ پارٹی بے داغ ،مخلص ،دیانتدار ، بے لوث اور پڑھے لکھے لوگوں کو اہم عہددں پر تعینات کیا جائے ۔ میں تنظیم نو کی بات کر رہا ہوں ۔ جو عہدیدار عرصہ دراز سے پارٹی سے وابستہ ہیں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں جنوبی پنجاب کی تنظیم میں لے جایا جائے ۔ تنظیم میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن کی معاشرے میں عزت اور احترام ہو ۔ لوگ ان کی بات دل سے سنتے اور مانتے ہوں ۔ تاکہ وہ پارٹی کا امیج عام لوگوں خصوصاً نو جوانوں میں بلند سے بلند تر کر سکیں ۔ آج کی نسل ذو الفقار علی بھٹو شہید کے فلسفے ، شہید بی بی کی جرات اور عوام دوستی ،اور ویژن اور سید یوسف رضا گیلانی کی جدو جہد اور پارٹی کے لئے قربانیوں سے پوری طرح با خبر نہیں ہیں ۔ انہیں اس طرف متوجہ کرنے ک ضرورت ہے ۔ یہ سینئر اورپڑھے لکھے لوگوں کا فرض ہے کہ یہ پیغام نئی نسل تک پہنچائیں جن سے وہ لا علم ہیں ۔ آخر میں میں پھر سید یوسف رضا گیلانی کی وسعت قلبی ،دریا دلی ، معاملہ فہمی اور عظمت کو پھر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔
کل بھی بھٹو زندہ تھا ۔ آج بھی بھٹو زند ہ ہے
یا اللہ یا رسول ۔بے نظیر بے قصور
پور ے پاکستان کی زنجیر ۔ بلاول بھٹو بے نظیر
ایک زرداری ۔ سب پے بھاری
بی بی کی نشانیاں ۔ اللہ کی مہربانیاں
وفا کی نشانی ۔ یوسف رضاگیلانی
بشکریہ : ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں