پیپلز پارٹی اور پنجاب کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا: آصف علی زرداری

Picture

سابق صدر آصف علی زرداری نے آج راولپنڈی ڈویژن کے پارٹی عہدیداروں ، ڈسٹرکٹ صدور اورکارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی توانائی بنایا اور شہید بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی ملک کو دی جس کی وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو گیا ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید پاکستان کا حال بھی لیبیا اور شام جیسا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت ، آئین اور قانون کی بالا دستی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتی ہے، اور اس کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا کیونکہ ان کی خاطر پارٹی نے بیشمار قربانیاں دیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت کی حمایت کو حکومت کی حمایت تصور نہ کیا جائے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دھرتی ہماری ماں ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اسی طرح سرزمین کی حفاظت کرنی ہے ’’جیسی مرغی اپنے انڈوں کی حفاظت کرتی ہے‘‘ ۔سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے جنرل مشرف کو ملک سے اس طرح نکالا جس طرح مکھن سے بال نکالا جاتا ہے ۔ جبکہ موجودہ حکومت نے ان کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ سابق نے کہا کہ انہوں نے صدر بننے کا فیصلہ جمہوریت کے تسلسل کے لیے کیا اور انہوں نے اپنے اختیارات رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ کو دے کر اس کو مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں صدر نہ بنتا تو کوئی بھی دوسرا صدر ان اختیار کو پارلیمنٹ کو نہ دیتا اور جس کی وجہ سے جمہوریت ملک میں عدم استحکام کا شکار ہو جاتی(خواہ وہ پیپلز پارٹی ہی ہوتا) ۔ سابق صدر نے کہا کہ دو نوجوان آپس میں کشتی کر رہے ہیں اور کارکنوں کو چاہیے کہ وہ ان کو دیکھیں ،اس کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سیاست برداشت کا نام ہے اور وہ لوگ جو برداشست کا مادہ نہیں رکھتے تو ان کو سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور پنجاب کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اور اس لیے پیپلز پارٹی پنجاب پر بھرپور توجہ دے گی۔ سابق صدر نے کہا کہ بھٹو خاندان نے زمین کی اصطلاحات کے ضمن میں تین لاکھ ایکڑ زمین سرینڈر کی ۔ ایڈمرل ریٹائرڈ جاوید اقبال نے پیپلز پارٹی میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کی پالیسیوں کو اور اس کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ وہی آفیسر ہیں جنہوں نے جنرل ضیاء کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اقتدار کیوں نہیں چھوڑ سکتے۔ اس سے قبل شرکاء نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ کو چیئرمین کی فہم و فراست کے مطابق جمہوریت کی تسلسل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ 18اکتوبر کو چیئرمین بلاول بھٹو کے کراچی کے جلسے میں بھرپور شرکت کریں گے۔ شرکاء نے پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر میاں منظور احمد وٹو کی پارٹی کو پنجاب میں فعال بنانے کے لیے جو وہ شب و روز پارٹی کی تنظیم کو مکمل کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں اس کو سراہا ۔ اجلاس میں سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف ، میاں منظور احمد وٹو ، قمر الزمان قائرہ ، تنویر اشرف قائرہ، مہرین راجہ، اور راجہ عاصر موجود تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں