Asif Ali Zardari addresses office bearers and workers of Faisalabad division

Picture
While appreciating the suggestions of the office bearers and workers of the Faisalabad division who met Co- Chairman Asif Ali Zardari here at Bilawal House today said that we have to put the country on the trajectory of progress.
He further said that the Party and he had to think to provide such a large population of “300 million” health, education facilities and also create job opportunities. He added that the PPP represents the poor segments of the society and therefore it had to take steps to control price hike which had been squeezing them dry.
He observed that earlier, it was not the season of politicos and therefore he did not turn up to Lahore. Now, it is the season of politics and he is here adding he has decided to resurrect Bilawal House Lahore on the pattern of Bilawal House Karachi to serve as the working headquarters of Party all the times,
He recalled that during PPP government Pakistan Textile Exports were 9 billion dollars and those touched 14 billion dollars at the expiry of the term. The propitious policies of then government brought prosperity for both the farmers and the industrialists as a result. The increase in the price PHUTTI then also led another good source of income for the rural economy.
Mr. Zardari said that the “Dajal” held back the efficiency of the government by issuing excessive stay orders those lost the advantages of time and good decisions.
Mr. Asif Ali Zardari said that there was no political prisoner during PPP government because PPP had buried the politics of victimization for all times to come. Democracy is the best revenge is the stated policy of the Party, he maintained.
He recalled that he spent eleven years in Jail but did not compromise on principles.
He mentioned that Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto was handed out many offers to compromise but he refused to avail such offers for the sake of democracy, poor people and instead opted to sacrifice his life because he did not want to die in history.
He maintained that he was accountable for the blood of martyrs on the Day of Judgment shed for the cause of democracy and therefore he could not afford to compromise on democracy and rights of the poor people.
Mr. Asif Ali Zardari told the office bearers and workers that he would let them know the time frame of forthcoming elections adding that the Party would emerge as the biggest Party by securing the unprecedented electoral victory.
The meeting of the Fasialabad division was organized by the Punjab People’s Party which was heavily attended by the office bearers and the Party workers.
Mr, Tanvir Ashraf Kaira, Secretary General conducted the meeting. In his introductory remakrs, Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP urged the participants to give their suggestions to CO- Chairman regarding the organization of the Party and also their efforts in connection with the Chairman’s public meeting in Karachi on October 18.
He thanked the CO- Chairman for providing the participants generous time for the meeting in which all the participants expressed their views and submitted valuable suggestions freely.
He expressed the resolve of PPP Punjab to present a better organized and disciplined Party to the Chairman when he would visit the province sooner than later.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب نے فیصل آباد ڈویژن ، فیصل آباد، ڈسٹرکٹ جھنگ ، چنیوٹ اور فیصل آباد سٹی سے پارٹی کی عہدیداروں نے بھرپور شرکت کی ۔ پنجاب پیپلز پارٹی کی طرف سکریٹری جنرل تنویر اشرف کائرہ نے اجلاس کو کنڈکٹ کیا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے اپنے ابتدائی خطاب میں سابق صدر اور کو چیئر پرسن آصف علی زرداری کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کارکنان سے ملاقات کے لیے وافر وقت نکالاہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس محض کارکنوں کے لیے ہے آپ جو بھی بات کرنا چاہتے ہیں وہ پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری سے کھل کر کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تنظیمی معاملات کے بارے جو تجاویز ان کے پاس ہوں وہ پارٹی کے سربراہ کے سامنے پیش کریں۔ انہوں کہا کہ 18اکتوبر کو چیئر مین بلاول بھٹو کے کراچی کے جلسے میں شرکت کرنے کے لیے اپنا پُر عزم اظہار کریں۔ سابق صدر نے کارکنان کی تجاویز کو سراہا اور فرمایا کہ ہماری منزل ملک کو آگے لے جانے کی ہے اور ہم نے پاکستان کی تین سو ملین آبادی کے لیے تعلیم ، صحت ، اور ان کے روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہیں۔ انہوں کہا کہ پیپلز پارٹی غریب عوام کی جماعت ہے اس لیے ہم نے ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا سیاست سے پہلے سیاست کا موسم نہیں تھا اسی لیے میں نے لاہور میں قیام نہیں کیا۔ اب سیاست کا موسم ہے۔ اس لیے ہم نے پیپلز پارٹی بلاول ہاؤس لاہور کو بلاول ہاؤس کراچی کی طرح ہمہ وقت اس کو پارٹی کا مرکزی ورکنگ ہیڈ کوارٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کے ہم نے اپنے دور میں 9ارب ڈالر ٹیکسٹائل کی برآمدات کو 14ارب ڈالر تک پہنچا دیا تھا اور پنجاب کا کاشتکار بھی خوشحال ہو گیا تھا۔ پاکستان نے ہمارے دور میں پھٹی کی قیمت میں بھی اضافہ کیا تھا جس سے کاشتکار خوشحال ہوا تھا اور صنعتکار کو مراعت دیں۔انہوں کہاکے ہمارے دورِ حکومت میں ایک دجال کی روز مرہ کی مداخلت کی وجہ سے ہماری حکومت خاطر خواہ کارکردگی میں اضافہ نہ کر سکی۔انہوں نے کہا کہ ہر آدمی بیوی سے نہیں ڈرتا بلکہ اپنی عزت سے ڈرتا ہے ۔ انہوں کہا کہ ہمارے دور میں ایک بھی ملک میں سیاسی قیدی نہیں تھا اور ہم نے انتقامی سیاست کو ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری سوچ یہ ہے کہ جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے ۔ انہوں کہا میں نے 11سال جیل کاٹی اور اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی ۔ انہوں کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کئی دفعہ مصالحت کی پیش کشیں ہوئیں جسے انہوں نے باوقار انداز میں ٹھکرا دیا اور پاکستان کی غریب عوام اور جمہوریت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں کہا کے ہماری قیادت نے اس ملک اور دستور کے لیے خون دیا ہے اور روزِ قیامت قوم کے لیے خون پیش کرنے والے بہادروں کا جواب دینا ہے اس لیے میں جمہوریت اور عوام کے حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صبر کریں کے الیکشن کا ٹائم فریم ہم بنائیں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن میں فقید المثال کامیابی حاصل کر لے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں