Chairman Bilawal Bhutto to draw line between progressive and retrogressive political forces: Mian Manzoor Wattoo

Chairman, Bilawal Bhutto’s public address on October 18 in Karachi will determine the direction between the progressive/liberal political forces and the retrogressive forces in the country, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo in a statement issued from here before his departure to Karachi to participate in the public rally there.
He added that the PPP largely represented the poor segments of the society like Haris, farmers, labour, minorities, student, youth and other less privileged people whereas PML(N) and PTI represented the upper middle class and beyond.
He said that the PPP under the leadership of the Chairman would make determined efforts in improving the quality of the lives of down trodden in order to complete the mission of Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto and Shaheed Benazir Bhutto who did a lot for their empowerment. They sacrificed their lives but refused to surrender the cause of the people of Pakistan, he observed.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo predicted that the Chairman would interact with the liberal segments of the society on pro-active basis with a view to create a social resistance against the anti- people and anti-democratic forces who were hell bound to make us their hostage at gun point. The politics of sin-ins is yet another phenomenon of the same tendency, he argued.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo pointed out that the Chairman Bilawal Bhutto, right from the beginning, had been consistent of adopting tough approach against the terrorists adding that Zarb-e- Azab operation was the vindication of his stance of fighting them (terrorists) out on their turf because they did not understand any other language.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that thousands of workers and office bearers from Punjab would throng to Karachi as their caravans had already left for the metropolis in special trains, coaches, private cars to take part in the public rally.
He recalled that the two weeks tour of Co- Chairman Asef Ali Zardari of Punjab during which he had extensive interaction with the Party rank and file, had infused new energy to the level that would be instrumental to bring out the Party, yet again, as the strongest political force of the country.
He said that the PPP was the biggest political Party in the country even now adding that the May 2013 elections’ electoral debacle was inflicted on the Party by RO’s and therefore could not be considered as the criterion of Party’s standing among the people. However, the Party accepted the results for the sake of the continuity of the political process relegating the Party politics at the altar of national politics.
He expressed the unwavering resolve of the PPP that, come what may, it would not compromise on democracy; constitution and rule of law. These are the precious legacies of the founding father of the Party and Shaheed Benazir Bhutto, and as such worth emulating without the slightest hesitation.

میاں منظور احمد وٹو صدر پنجاب پیپلز پارٹی نے آج کراچی روانگی سے قبل یہاں سے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ چےئرمین بلاول بھٹو کراچی کے جلسہ عام کے خطاب کے دوران ملک میں ترقی پسند / لبرل اور قدامت پسند سیاسی طاقتوں کا رخ متعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہاریوں، کسانوں مزدورں، ریڑھی والوں، طالب علموں، اقلتیوں اور خواتین، اور دوسرے کم مراعات یافتہ طبقوں کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر مڈل کلاس اور اس سے اوپر والے طبقوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چےئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں ان محروم طبقوں کی زندگیوں میں خاطر خواہ بہتری لانے کے مشن کو مکمل کریں گے جو کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے شروع کیا تھا اور انہوں نے اس ضمن میں قابل قدر خدمات انجام دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی جدوجہد میں انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دےئے۔ میاں منظور احمد وٹو نے مزید کہا کہ چےئرمین جلد ملک کی لبرل اور ترقی پسند سیاسی اور سماجی قوتوں سے روابط بڑھائیں گے تاکہ ان انتہاء پسند قوتوں کے خلاف محاذ کو مضبوط بنایا جائے جوکہ اپنے دقیانوسی نظریات کو بندوق کی نالی کے ذریعے نافذ کرتے ہوئے ہماری آزادی چھین لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کی سیاست بھی اسی طرح گن پوائنٹ مائنڈ سیٹ کی ایک شکل ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ چےئرمین بلاول بھٹو شروع ہی سے دہشتگردوں کے خلاف سخت اقدمات کرنے کے حامی تھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ضرب عضب ملٹری آپریشن انکے موقف کی زبردست تائید ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پنجاب سے ہزاروں کی تعداد میں کارکن بسوں، ٹرینوں اور کاروں میں کاروان کی شکل میں کراچی شہر کی طرف روانہ ہو چکے ہیں اور انکا جلسے میں شرکت کرنے کا جوش و جذبہ دیدنی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ کوچےئرمین آصف علی زرداری کے پنجاب کے دو ہفتے کے دورے کے دوران پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں میں ایک نیا زبردست ولولہ پیدا ہوا ہے جو کہ پارٹی کو دوبارہ صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی قوت بنانے میں ضرور مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی بلاشبہ اب بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ مئی 2013 ؁ء کے انتخابات کو پیپلز پارٹی کی سیاسی حیثیت کے تعین کا پیمانہ تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ انتخابات ریٹرننگ آفیسرز کے انتخابات تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے کمال قومی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ان انتخابات کے نتائج کو سیاسی نظام کے تسلسل کی خاطر تسلیم کیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گی اور انکا ہر قیمت پر دفاع کرے گی کیونکہ پارٹی کے کارکنان ان کو اپنے شہید قائدین کا انمول اثاثہ سمجھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں