اصغرخان کیس:90 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی, سپریم کورٹ کا اسلم بیگ، اسد درانی کیخلاف کارروائی کا حکم

The Supreme Court ordered for initiation of criminal proceedings against former Army Chief General Aslam Baig and former DG ISI Lieutenant General Assad Durrani for illegally distributing public money amongst the politicians to defeat a particular group in 1990 elections.
A three member bench headed by Chief Justice Iftikhar Muhammad Chaudhry announcing short order in the Asghar Khan case maintained that their act was in their personal capacity and the institutions were not involved in it. Their act brought bad name to the army and the government should initiate action against them. Action should also be initiated against the then CEO of Habib Bank Younis Habib besides officials of ISI and MI.
The verdict called for investigation by the FIA against those politicians who accepted the public money before the 1990 elections. This money should be recovered with profit and deposited in the national exchequer. An amount of eighty million rupees which was deposited in the account of Survey and Construction group Karachi maintained by the MI shall also be transferred to the Habib Bank with profit.
The apex court said that secret agencies have no role in election process. The miltiary can not take part in politics and can not destablize the democratic government.
Source: Radio Pakistan

سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں مختصر فیصلہ سنادیاہے.فیصلہ چیف جسٹس نے لکھا اور انہوں نے ہی پڑھ کر سنایا. فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ یہ مختصر فیصلہ ہے تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا.
فیصلہ میں‌ مزید کہا گیا ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا حامل کیس ہے . آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں‌ میں‌ شریک ہوئے . یہ انفرادی عمل تھا اداروں‌ کا نہیں. فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ 90 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی . فوج سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی. یونس حبیب نے 140 ملین روپے دیے . 7 ملین سیاستدانوں‌ میں تقسیم ہوا. فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ایم آئی والوں نے غیر قانونی کام کیا. ایوان صدر میں انتخابی سیل قائم ہوا جو کہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے . صدر حلف سے وفا نہ کرے تو یہ آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے. فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ایوان صدر میں اگر کوئی سیاسی سیل ہے تو اسے فوری بند کیا جائے . اسلم بیگ اور اسد درانی فوجی کی بدنامی کا باعث بنے لہذا حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے. یونس حبیب کیخلاف بھی یہی فوجی کارروائی کی جائے.سپریم کورٹ نے مزید کہا ہے کہ ایف آئی اے معاملے کی تحقیقات کرے اور جن سیاسی رہنماؤں نے رقم وصول کی تھی ان سے منافع سمیت رقم واپس لی جائے. فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت کے صدر اسحاق خان آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں. قبل ازیں سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی صدارت میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اٹارنی جنرل نے آج اپنے دلائل مکمل کرلیےجس کے بعدسپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدلیہ پرتنقید شروع کردی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت اس کیس کا سارا ملبہ موجودہ حکومت پر ڈال کر اسے غیرمستحکم کرنا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ عدالت نے بلوچستان کیس اور کراچی بد امنی کیس میں حکومت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیا۔ اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اصغرخان کیس کی تحقیقات کی ذمہ داری وفاق پر نہیں چیف جسٹس اورعدلیہ پر عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہادتوں کے مطابق رقم ایوان صدر میں بیٹھے شخص کے ایما پرتقسیم ہوئی۔ کیا عدالت ایوان صدر کے ملوث ہونے کو نظر انداز کردے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدرکا منصب سیاسی نوعیت کا ہے۔ ان کے حلف میں سیاسی سرگرمیوں پر حصہ نہ لینے کی پابندی کا ذکرنہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کے منصب کو ریگولیٹ کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کے منصب کو ریگولیٹ کرنا آئین کا کام ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں یہ کہنے میں ہچکچاہٹ نہیں کہ بینچ میں تعصب ہے۔ انہوں نے اصغر خان کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کر دی۔ انہوں نے کیس نیب کو بھیجنے یا کمیشن بنانے کی بھی تجویز دی اوراس کے ساتھ ہی اپنے دلائل مکمل کر لیے۔ وزارت دفاع کے وکیل ونگ کمانڈعرفان نے عدالت کو بتایا کہ آٹھ کروڑ روپے کی تفصیل آئی ایس آئی اورایم آئی سے طلب کی ہے۔ کیس پرانا ہونے کے باعث ریکارڈ کے حصول میں مشکل درپیش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں