Mian Manzoor Wattoo pays rich tributes to Begum Nusrat Bhutto

10345820_463818030422624_705212289498227348_n
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has said here today that the PPP workers would not like Naheed Khan and Safdar Abbassi’s bid to form their Party in the name of Shaheed Benazir Bhutto observing their political redundancy was the foregone conclusion like the other dissident leaders in the past.
He was talking to PPP office bearers and workers who gathered at the Party Secretriariat in Model Town Lahore to observe third anniversary of Begum Nusrat Bhutto.
10703802_463824860421941_161527801772240451_n
Mian Manzoor Ahmed Wattoo paid rich tributes to Begum Nusrat Bhutto who provided leadership to the nation during the Movement for the Restoration of Democracy in the face of ferocious dictatorship of General Zia-ul- Haq.
The Quaran Khani was also attended by Tanvir Ashraf Kaira, Afnan But, Mian Ayub, Mazoor Maneka and many PPP workers. Maulana Yousaf Awan led the Dua.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo further said that Chairman Bilawal Bhutto had started his political career by holding big rally in Karachi in which he expressed his firm resolve to serve the down trodden segments of the society including small farmer, harris, labourers, students, minorities, women and the youth.
While commenting on the misunderstanding between MQM and the PPP, he said that MQM should have not parted with the political alliance when Syed Khurshid Shah had already regretted his remarks as these were not ill-intentioned.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo also pointed out that the MQM derived the meaning out of context of the speech of the Chairman Bilawal Bhutto and their reaction was disproptionate indeed. But, instead of reacting the PPP leadership tried to mend the fences and took imitative in this regard.
In the face of the maturity of the leadership of the PPP and the MQM regarding the urgency and importance of the political alliance he predicted that they would find the common ground to overcome the stand off sooner than later.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo while talking on the politics of sit-in, welcomed the decision of the one of the Party to pack up urging the other Party to follow the same course of action. The politics of Daharna has proved its utter uselessness that also vindicated the stance of the PPP right from the beginning, he pointed out.
He suggested to the PTI come out of the cocoon of egoism urging to revert to the Parliament for the settlement of issues of national importance.
He pointed out that the PTI’s insistence on politics of sit-in strengthens the impression of much talked about “script’ adding the perception is bigger than reality unfortunately.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the PPP would continue to follow the policy of reconciliation without compromising a bit on the continuity of democracy in Pakistan.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے ناہید خان اور صفدر عباسی کی نئی پارٹی بنانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی کیرےئر کا بھی وہی حال ہو گا جو کہ ماضی میں پارٹی کے غیر وفادار لیڈروں کے ساتھ ہوا اور انکی بنائی ہوئی سیاسی پارٹیوں کا لوگ آج نام بھی نہیں جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن انکی اس حرکت کو پسند نہیں کریں گے کہ وہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے نام پر ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنائیں۔ انہوں نے یہ بات پارٹی کارکنان سے باتیں کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن سیکرٹیریٹ میں آج کہی جو بیگم نصرت بھٹو کی تیسری برسی کے موقع پر قرآن خوانی کے جمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر تنویر اشرف کائرہ، منظور مانیکا، افنان بٹ، میاں ایوب اور دوسرے کارکن بھی موجود تھے۔ مولانا یوسف اعوان نے دوسرے علماء کے ہمراہ دعا کروائی۔ دوسرے علماء میں علامہ ڈاکٹر راشد، علامہ نوید، علامہ شہزاد حسن، علامہ محمد اسلم وغیرہ بھی موجود تھے۔ میاں منظور احمد وٹو نے بیگم نصرت بھٹو کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی ڈکیٹرشپ کے دوران جمہوریت کی بحالی کے لیے قوم کی زبردست رہنمائی کی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ چےئرمین بلاول بھٹو نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کراچی کے 18 اکتوبر کے جلسے سے شروع کر دیا ہے جسمیں انہوں نے غریبوں، مزدوروں ،کسانوں ، ہاریوں، طلباء، خواتین، اقلیتوں اور معاشرے کے دوسرے غریب طبقوں کے حقوق انکو دلوانے کے مشن سے آغاز کیا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی سے سیاسی اتحاد ختم کرنا افسوس ناک ہے جبکہ سید خورشید شاہ نے اس دل آزاری پر فورًا معذرت بھی اس لیے کرلی کیونکہ ایسا کرنا انکی نیت نہیں تھی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ایم کیو ایم نے چےئرمین بلاول بھٹو کی تقریر کا مطلب ہی سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا اور اس کا رد عمل بھی کافی سخت تھا لیکن پیپلز پارٹی نے اس ردعمل کا جواب دینے کی بجائے مصالحت کی کوششیں کر دیں تاکہ غلط فہمی کو جلد ازجلد دور کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں سنجیدہ جماعتیں ہیں اور وہ آپس کے سیاسی اشتراک کی اہمیت کی ضرورت کو بڑی اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ اس وجہ سے ان میں یہ دوریاں جلد ختم ہو جائیں گی۔ میاں منظور احمد وٹو نے دھرنے کی سیاست کرنیوالی جماعتوں میں ایک کے دھرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے دوسرے جماعت سے بھی کہا کہ وہ بھی اپنے منفی سیاسی رویے پر نظر ثانی کرتے ہوئے دھرنا ختم کر دیں کیو نکہ اسکا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات اور شکایات کے ازالے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے کی سیاست سے ’’سکرپٹ’’ کے تاثر کو تقویت ملتی ہے اس لیے تحریک اانصاف کو دھرنے کی سیاست چھوڑ کر پارلیمنٹ میں واپس آجانا چاہیے کیونکہ دھرنے کی سیاست بالآخر بے سود ثابت ہوگی۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں