Nawaz Sharif should apologize to nation: Qamar Zaman Kaira

Minister for Information and Broadcasting Qamar Zaman Kaira on Tuesday asked the PML-N leadership to apology to the nation and the President for ‘robbing’ the people’s mandate in 1990 elections.The Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) leadership should do penance by tendering apology before the nation and the President, he added.Today, the doors have been closed for poll rigging and no one can win elections on the basis of false propaganda and agencies’ support, said the Information Minister, while addressing a news conference here.What has been depicted from the court verdict is just a small chapter of the condemnable propaganda as various other characters and their wrongdoings are yet to be exposed, he added.

فاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا اصغر خان کی پٹیشن سے کوئی تعلق نہیں ، قومی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے جرم کی معافی مانگی جائے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ دہائیوں کے بعد تاریخ نے سچ ا±گل دیا ہے ۔ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے ۔ ہمارے مخالفین غیر قانونی ہتھکنڈوں سے اقتدار میں آتے رہے ۔ 1990ءکے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا گیا۔ 1993ءاور 1997ءکے انتخابات میں بھی دھاندلی کی گئی۔ چوری کے مینڈیٹ پر بننے والی حکومت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔ قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کی معافی مانگی جائے ۔ قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سابق صدر جنرل (ر) ضیاءالحق کا طیارہ پھٹنے کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر) حمید گ±ل نے آئی جے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔ 25 اکتوبر 1990ءمیں بینظیر بھٹو شہید نے کہہ دیا تھا کہ عوامی مینڈیٹ چ±را لیا گیا۔ بینظیر بھٹو کو دھمکی دی گئی کے اگر انہوں نے فیصلہ تسلیم نہ کیا تو ان کے شوہر کو قتل کر دیا جائے گا۔ سابق صدر جسٹس (ر) رفیق تارڑ کو محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ دینے کے انعام میں صدر بنا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو گناہ گار ہیں وہ بھی آج اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ عدالتی کمشن بنایا جائے یا اقوام متحدہ سے تحقیقات کروائی جائے حالانکہ ایف آئی اے سے تحقیقات کا حکم ہم نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے دیا ہے ۔انہوں نے کہا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کو نہیں مانتے ، ڈاکہ مارے ہوئے انتخابات کا عدالت نے فیصلہ کر دیا ہے ،1990 کے انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے ۔قمر زمان کائرہ نے کہا ہمارے مخالفین سازشوں،ایجنسیوں کی مہربانیوں کے سہارے اقتدار میں آتے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی اپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ ان تما م سازشوں اور ایجنسیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اقتدار میں آتی ہے ،1988 کے انتخابات میں بھی ایجنسیوں نے مداخلت کی تھی،اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے 92ءجبکہ آ ئی جے آئی نے 53 سیٹیں حاصل کی تھیں۔چوہدری نثار پوچھتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا ہے ؟کیا چوہدری نثار کو ہم بتائیں کے انہوں نے کیا کیا ہے ؟اس وقت کی جماعت نے پیسے لے کر الیکشن جیتا تھا،لمبی لمبی باتیں کرنے سے تاریخ نہیں بدلتی،اصغر خان کیس کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی درخواست پر نہیں کیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پرتنقید کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حبیب جالب کی نظمیں پڑھنے سے انقلاب نہیں آتا،1996 میں ن لیگ کو ملنے والے بھاری مینڈیٹ کی تفصیلات بھی سامنے لائیں گے ،اپنے گناہوں کے ازالے کے لیے پہلے شرمندگی کا احساس ہونا ضروری ہے ،تاریخ کہہ رہی ہے کہ ن لیگ نے انتخابات کے لیے ایجنسیوں سے پیسے لیے ۔نواز شریف نے یونس حبیب کو مہران بینک کا لائسنس دیا،قمرزمان کائرہ نے کہا برے وقت میں ملک سے بھاگنے والوں کے وہی دن دوبارہ آنے والے ہیں۔شہباز شریف کو ایف آئی اے کی تحقیقات قبول نہیں،کیا تحقیقات رانا مقبول سے کروائی جائیں۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں