ملالہ سے دخترِ خادم اعلیٰ تک – سید ذیشان حیدر

ملالہ یوسف زئی اس وقت برمنگھم کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ظلم و بربریت کا شکار ہونے والی معصوم ملالہ عزم و ہمت کی ایک ایسی مثال بن چکی ہے۔مگر ملالہ یوسف زئی پر ہونے والا ’’ بزدلانہ حملہ ‘‘ اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے۔ ملالہ کے ساتھ تو جو کچھ بھی ہوا مگر دکھ اس بات کا ہے کہ اس پورے معاملے کو اس بری طرح سے ہینڈل کیا گیا کہ خوامخواہ ایک معصوم کی قربانی بھی متنازعہ بنتی جا رہی ہے۔ حکومت کی نا اہلی پر سینہ کوبی کرنا تو روزمرہ معمول ہے۔ مگر ہماری پاک فوج نے اس پورے معاملے میں اپنی غیر ضروری مداخلت سے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی کسی طرح بھی فوجی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی نہ ہی دور دور تک کوئی اطلاع ہے کہ ملالہ کے خاندان میں سے کوئی فوج میں ملازمت کرتا ہے۔ یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ خیر پختونخواہ میں بدقسمتی سے آئے روز ہی دہشت گردی کے مختلف واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور میڈیا پر بہت تواتر کے ساتھ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا ہی تذکرہ رہتا ہے۔ مگر ملالہ یوسفزئی کے واقعے کے بعد اکثر ناظرین پر یہ راز افشاں ہوا کہ ملالہ کو فوجی ہسپتال میں منتقل کرنے کی اہم وجہ وہاں موجود نسبتاً ’’ بہتر طبی سہولیات ‘‘ ہیں ۔میں اس مقام پر افواجِ پاکستان سے محض اتنی گذارش کرنا چاہوں گا کہ جو اعلیٰ طبی سہولیات پشاور کے فوجی ہسپتال میں میسر ہیں ان جیسی سہولیات لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو بھی عطیہ کر دیں تا کہ افواج سے تعلق نہ رکھنے والے ٹیکس دہندہ مظلوم شہری بھی ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ یہ امر فوج اور سویلینز کے درمیان حائل خلاء کو کم کرنے میں اہم کردا ادا کر سکتا ہے۔

ہم بے شک حالت جنگ میں ہیں اور دشمنوں کی نظر یں ہمیشہ ہماری فوج پر لگی ہوتی ہیں۔ ذرا سی بھی بے احتیاطی کا فائدہ دشمن منفی پروپیگنڈے کی صورت میں اٹھاتا ہے۔ پھر ملالہ یوسفزئی کے واقعے میں فوج کی بے جا مداخلت نے دشمنوں کا کام آسان بنا دیا ہے۔ ہم دن بھر ٹی وی دیکھتے رہے ۔جب بھی ملالہ کی صحت کے حوالے سے کوئی خبر نشر ہوئی توISPRکی جانب سے ہی ہوئی ۔ پھر ملالہ کو پشاور سے اسلام آباد منتقل کیا گیا تو بجائے پمز ہسپتال کے ایک اوردل کے فوجی ہسپتال میں سخت ترین سیکورٹی کے ساتھ ملالہ کا علاج شروع ہوا جس کی وجہ سے وہاں موجود سینکڑوں مریضوں اور ملواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ملالہ کے وارڈ سے ملحقہ میس(Mess)میں ایک کرنل صاحب کو بطور سیکورٹی انچارج ذمہ داری سونپی گئی ۔سیکورٹی اس قدر سخت تھی کہ اتنی تو کسی فوجی وی آئی پی کے آنے پر بھی نہیں ہوا کرتی۔ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کے سویلین سیکورٹی اداروں کے بارے میںیہ پیغام جا تاہے کہ پاکستانی کہ یہ پولیس اور دیگر غیرفوجی ایجنسیاں اس قابل ہی نہیں کہ ایک چودہ سال کی بچی کی حفاظت کر سکیں۔ پاکستان کے باہر فوج کے بارے عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں صرف نام نہاد جمہوریت قائم ہے اور جمہوری ادارے افواج پاکستان کی کٹ پتلی سے ذیادہ کچھ نہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ چودہ سالہ ملالہ خدانخواستہ ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہی تھی جو کہ فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کیلئے جواز پیدا کرنے کی خاطر بنایا تھا ۔ ملالہ کے معاملے میں فوج کی گیر ضروری مداخلت نے ان تمام غلط تاثررت کو تقویت فراہم کی ہے۔پاکستان کے اندر بھی عوام کی کثیر تعداد یہ سمجھتی ہے کہ کچھ خاص سویلینز کیلئے یہی فوج بہترین رویہ اپناتی ہے اس ساری صورتحال میں نقصان محض اس معصوم ملالہ کا ہو رہاہے ۔ اس کی یہ عظیم قربانی خوامخواہ ’’ پوائنٹ سکورنگ ‘‘ کا شکار ہوئے جا رہی ہے۔

ہمارے ہاں ایک مکتبہ فکر ایسا بھی ہے جو ملالہ یوسفزئی کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی پر تنقید کرتا ہے۔ ان کے مطابق ملالہ جیسی ہزاروں لڑکیاں ہیں جن کے سکول طالبان نے ختم کر دیئے مگر اہمیت صرف ملالہ کو ہی کیوں دی جا رہی ہے؟ ڈرون حملے اور دہشت گردی کی نظر ہو جانے والے لاتعداد بچوں کو ملالہ کی طرح اجا گر کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اس حساب سے تو65کی جنگ میں میجر عزیز بھٹی شہید کو ملنے والا نشانِ حیدر بھی متنازعہ ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے سینکڑوں جوان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔مگر نشانِ حیدر میجر عزیز بھٹی کو کیوں ملا؟ درحقیقت وہ ان تمام شہداء کے نمائندے کے طور پر جانے جاتے ہیں جو 65ء کی جنگ میں شہید ہوئے ۔جیسے پاکستان کے قیام کے لئے لاکھوں افراد نے جانومال کی قربانیاں دیں اور ان کی انتھک محنت ومشقت سے قیام پاکستان ممکن ہوا ۔مگر تاریخ کی کتابوں میں قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور لیاقت علی خان جیسے چند چیدہ شخصیات کا ذکر ملتا ہے۔اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتاکہ کسی کی قربانی کسی سے کم تھی یا پھر ان افراد کے علاوہ کسی اور نے جہدوجہدِپاکستان کے لئے قربانیاں نہیں دیںیا پھر ان افراد کی پذیرائی سے باقی لوگوں کی اہمیت کسی طرح کم ہوتی ہے۔دراصل یہ افراد ان تمام گمنام مجاہدوں کی تصویر بن گئے۔ انقلابے تیونس بھی ایک شخص کے ساتھ ظلم سے برپا ہوا اور یہ ظلم باقی مظالم کی علامت بن گیا۔ یہی صورتحال ملالہ یوسفزئی کے ساتھ بھی ہے۔ یہ بچی ان تمام مظلوم بچیوں کی آواز ہے جو کہ بندوق کے سائے میں بھی تعلیم حاصل کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں یا پھر ڈرون حملے اور دہشت گردی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

یہاں میںیہ عرض کرتا چلوں کہ میری تحقیق کے مطابق ایک مڈل کلاس کی یہ بچی جس کا والد ضیاء الدین یوسفزئی ایک سکول (خوش حال پبلک سکول) چلاتا ہے کسی طور بھی فوج کے کسی

ایجنڈے پر کار فرما نہیں تھی۔مثال کے طور پر اس بچی نے 24جنوری2009ء کو بی بی سی پر اپنی ڈائری میں فوج پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ جب درجنوں سکول تباہ کر دیئے گئے اور ہزاروں سکول بند ہو گئے تب فوج کو انہیں بچانے کا خیال کیوں نہ آیا ؟۔ اگر یہ فوج ادھر پہلے ہی مکمل آپریشن کرتی تو یہ صورتحال پیدا ہی نہیں ہوتی ۔ ‘‘ اس کے بعد فوج نے اپنا پبلک امیج بہتر کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر سے بچوں کیلئے ٹافیاں بانٹنا شروع کی تھی۔ چند سال پہلے ایک مشہور دانشور سے بحث کے دوران ایک سوال ابھرا کہ اکیسویں صدی میں بھی کیا معجزے ہوا کرتے ہیں؟ تو ہم کسی خاطر خواہ نتیجے پر نہ پہنچ سکے 18فروری2009کو جو ایک چھوٹی سی بچی کو جس کا تعلق سوات جیسے پسماندہ ترین علاقے سے تھا وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور ’’ ماڈرن ‘‘سکول سسٹم سے تعلق نہ ہونے کے باوجود انگریزی الفاظ اعتماد کے ساتھ ادا کر رہی تھی۔اپنے خیالات کا اظہار فصاحت وبلاغت کے ساتھ کر رہی تھی۔اس میں چھوٹے بچوں کی طرح جھجک،گھبراہٹ اور مشکل سوالات کا جواب دیتے ہوئے الجھن کا شکار ہونے کے تاثرات قطعاً نہ تھے۔ اس وقت ایک دم مجھے محسوس ہوا کہ اکیسویں صدی کا معجزہ مل گیا ہے۔

ہمارے ملک کا حال بھی عجیب ہے ایک طرف سکول ٹیچر کی نہتی بیٹی اپنا حق مانگنے کی پاداش میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ۔دوسری طرف خادم اعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی اپنی خواہش کی تکمیل نہ ہونے پر ایک نہتے بیکری کے ملازم کو نشان عبرت بنانے کی دھمکیاں دیتی دکھائی معلوم ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں سیاستدان اور اکثر بڑے سرکاری ملازمین اپنی اولادوں کے کارہائے نمایاں کی وجہ سے خبروں میں ہی رہتے ہیں۔یہ شہزادے اور شہزادیاں اس ملک کو اپنی ذاتی جاگیر اور عوام کو رعایا سمجھتے ہیں۔

ہمارے ایوان میں معصوم ملالہ یوسفزئی کیلئے ستارہ شجاعت کا اعلان ہوا ہے میرا خیال ہے کہ ایک ستارہ خادم اعلیٰ کی صاحبزادی کی ’’ شجاعت ‘‘ پر انہیں بھی ملنا چاہیے۔ ہمارے ہاں ذرائع مواصلات بھی بہت عجیب ہیں کہ اندرون سندھ میں ایک پولنگ ایجنٹ خاتون کو پڑنے والے معمولی تھپڑ کی گونج تو آواز کی رفتار سے سندھ کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے ہو کر سپریم کورٹ فوراً پہنچ جاتی ہے۔ مگر لاہور سے بے دریغ گھونسوں اور مکوں کی برسات سے پیدا ہوا ارتعاش موٹر وے سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی شاہراہِ دستور تک کیوں نہیں پہنچ پا رہا ؟ ہاں شاید موٹر وے میاں برادران کا کارنامہ ہے۔ اس وجہ سے اس ظلم کی خبر سستی کا شکار ہے۔

ویسے ذائقہ بھی ایک نشہ ہے ۔میں خود مذکورہ بیکری سے اکثر اوقات خریداری کرتا ہوں۔وہاں کی جملہ اشیاء خصوصاً کیک اس قدر لذیذ ہیں کہ کوئی بھی ان کی عدم دستیابی پر ’’ احتجاج ‘‘ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ مگر پر امن احتجاج کو تشدد میں بدل دینا ذائقے کے نشے سے زیادہ اقتدار کا نشہ ہی ہو سکتا ہے۔ آخر اس دو کوڑی کے ملازم کو یہ سوچنا چاہیے کہ ’’ سائیں کی اولاد بھی سائیں ‘‘ ہوتی ہے۔ اس واقعے کا دفاع کرتے ہوئے ن لیگ کی ایک خاتون اسمبلی فرما رہی تھی کہ وہ پرائیویٹ گارڈز تھے جو از خود اس گستاخی کا بدلہ لینے آئے تھے۔ مجھے لگتا ہے میاں برادران اپنے پرائیویٹ گارڈز کا خوب خیال رکھتے ہیں۔ اور یہ کیک وغیرہ انہی کیلئے خریدے جا رہے تھے ۔پھر بھوک سے بے حال وہ گارڈز اپنا حق لینے پہنچ گئے۔

ویسے کیا کمال ہے سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پولیس کے اہلکار تھے۔ تو کیا ن لیگ پولیس ملازمین کو اپنا ذاتی گارڈ خیال کرتی ہے؟اسی لئے توکثیر تعداد میں ایلیٹ فورس اہلکار محض شریف خاندان کی حفاظت پر مامور ہیں۔ افسوس ہے ملالہ یوسفزئی کے ساتھ کوئی بھی ’’ پرائیویٹ ‘‘گارڈ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ خادم اعلیٰ کی صاحبزادی ہے اور نہ ہی کسی کو دھمکی لگا سکتی ہے ۔یہ ہے فرق ملالہ اور دختر خادم اعلیٰ میں۔

Published in Daily Pakistan dated 23-10-12
www.facebook.com/syedzishanhyder
e-mail : zishan999@hotmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں