کوئی حد نئیں صبراں دی -ضیاء کھوکھر

Nusrat-bhutto

دکھوں کی صلیب پر مصلوب رہنے کے بعد قبر میں اتر جانے والی بیگم نصرت بھٹو
یادیں اور تاثرات
(نومبر۱۹۶۸ء تا اکتوبر ۲۰۱۱ء)

پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے کچھ عرصہ بعد 13نومبر 1968ء کو چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب ایوب خان کی آمریت کا سورج پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا۔ جمہوریت کی بحالی کی تمام تحریکیں دم توڑ چکی تھیں۔ پرانی روایتی سیاسی جماعتیں ناکام ہوچکی تھیں ،سارے سیاستدان تھک ہار کر مایوسی کے گھپ اندھیروں میں زندگی کے دن گزار رہے تھے۔ ایوب خان اور اس کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ چیئرمین بھٹو کی گرفتاری کے بعد نوزائیدہ پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد ’’سونی‘‘ گلیوں میں ایوب خان کے ساتھی’’ مرزا یار‘‘ کی طرح پھرتے رہیں گے۔
چیئرمین بھٹو کی گرفتاری کے بعد شہری آزادیوں کی بحالی ، بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی اور سیاسی رہنماؤں کی رہائی کی تحریک کی قیادت اور رہنمائی کے لئے بیگم نصرت بھٹو نے سیاسی میدان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ انہی دنوں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل جے اے رحیم نے 1969ء کے مجوزہ صدارتی انتخاب میں ایوب خان کا مقابلہ کرنے کے لئے چیئرمین بھٹو کے نام کا اعلان کر دیا۔آمریت کے خاتمہ اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد تیز کرنے کی خاطر بیگم نصرت بھٹو کی زیرِ قیادت پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام دوست اور ترقی پسند جمہوری قوتوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا اعلان کیا۔
لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی ، جمعیت العلمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی نے خان عبدالولی خان ، ذوالفقار علی بھٹو اور دوسرے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کی رہائی کے لئے مشترکہ تحریک چلانے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ روزنامہ ’’امروز‘‘/ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے دفتر سے متصل چیمبر لین روڈ پر مسجد مائی لاڈو کے سامنے سے تینوں پارٹیوں کے زیر اہتمام مشترکہ احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے اختتام پر حبیب جالب نے اپنے مخصوص ترنم کے ساتھ یہ نظم پڑھی:
افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے
پرواہ نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہے
ہوتا ہے اثر تم پہ کہاں نالۂِ دل کا
برہم جو ہوئی بزمِ طرب اس کا گلہ ہے
تم ظلم کہاں تک تہِ افلاک کروگے
یہ بات نہ بھولو کہ ہمارا بھی خدا ہے
بیدرد زمانے میں وہ بھٹو کہ ولی ہو
سولی پہ چڑھا ہے وہی حق جس نے کہا ہے

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سولی چڑھ گئے تو بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر حبیب جالب مرحوم نے اپنی نظم سے آخری شعر خارج کردیا تھا۔
1968ء میں ہم اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں تھرڈ ایئر کے سٹوڈنٹ تھے۔ ہمارے کالج کے سینئرساتھی افضال بیلا گریجوایشن کرنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہے تھے۔ گوجرانوالہ میں ابھی تک پی پی پی کی باضابطہ تنظیم کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ افضال بیلا اور حافظ عبدالماجد نوجوان طلباء کو پی پی پی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کے لئے تگ و دو میں مصروف رہتے تھے۔
نومبر1968ء کے آخری ہفتہ کی ایک رات گوجرانوالہ کی سڑکوں پر لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہورہا تھا کہ کل بعد دوپہر شیرانوالہ باغ میں بیگم نصرت بھٹو ایک جلسۂِ عام سے خطاب فرمائیں گی۔ نصف شب کے ان لمحات میں جب سردی کا خوشگوار سا آغاز ہوچکا تھا۔ پولیس نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرنے والے نوجوا ن افضال بیلا کو گرفتار کرکے سٹی تھانہ میں بند کردیا۔ تانگہ کے کوچوان کو گرفتار کرکے تانگہ اور گھوڑا کو بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ سٹی تھانہ کے محرر نے افضال بیلا کو پہچان لیا۔ (افضال بیلا کے والد مرحوم ان دنوں گوجرانوالہ پولیس میں ایک اعلیٰ عہدے پر متعین تھے) اور پولیس کارروائی کے تمام ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افضال بیلا کو رہا کردیا۔ نوجوان افضال بیلا نے تانگہ کے کوچوان سے قبل رہا ہونے سے انکار کردیا۔ تھانہ محرر نے افضال بیلا کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ اور کوچوان کو گھوڑے اور تا نگہ سمیت تھانہ کی حدود سے باہر نکال دیا۔
افضال بیلا نے رہائی کے چند منٹ بعد دوبارہ جلسے کا اعلان کرنا شروع کردیا۔ لاؤڈ سپیکر پر دور دور تک آواز جارہی تھی۔ سوئے ہوئے لوگ جاگنا شروع ہوگئے تھے۔ اعلان کرنے والا اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے پکار رہا تھا:۔
’’وہ صدروں میں غاصب لقب پانے والا
وہ اپنے بیٹوں بھتیجوں کے کام آنے والا
اُتر کر ہزارہ سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخۂِ ’’بی ڈیا‘‘ ساتھ لایا‘‘
ایوب خاں کی آمریت کے آخری سالوں میں ایک خودساختہ طویل نظم کالج کے ہم جولیوں کے ساتھ مل کر ہم قوالی کی صورت میں گایا کرتے تھے۔اسی طویل نظم کا یہ ایک بند تھا۔

رات کے سناٹے میں محسوس ہورہا تھا کہ افضال بیلا کی طبع رواں نے رکنے سے انکار کردیاہے اور مزید روانی کے ساتھ اور جوش و جذبہ کے ساتھ تازہ دم ہوکر اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اسلم گورداسپوری اور حبیب جالب کے تازہ اشعار پڑھنے شروع کردیئے ہیں۔ مزیددو گھنٹہ اعلان کرنے کے بعد پولیس تھانہ باغبانپورہ (چوک گھنٹہ گھر) کے سامنے دوبارہ پولیس افضال بیلا کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہے۔ اس جگہ بھی افضال بیلا اپنے والد کا نام استعمال کرکے پولیس کو جل دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ پولیس کی تحویل سے ایک بار پھر رہائی کے بعد افضال بیلا نے چیئرمین بھٹو کے لئے سب سے پہلے ’’قائدِ عوام‘‘ کا خطاب سوچا اور گہری رات کے سناٹے میں اعلان کیا کہ کل ’’قائدِ عوام‘‘ ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور نظربندی کے خلاف گوجرانوالہ کے جلسۂِ عام میں بیگم نصرت بھٹو خطاب فرمائیں گی۔ (اس سے قبل چیئرمین بھٹو کے لئے ’’فخرِ ایشیا‘‘ کا خطاب استعمال ہوتا تھا)
افضال بیلا کے منہ سے نکلنے والا خطاب ’’قائدِ عوام‘‘ چند ہی دنوں میں زبان زدِ خاص و عام ہوگیا۔ اگلے دن وقت مقررہ پر جلسہ شروع ہوتا ہے۔ بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کے ساتھ لاہور سے نوجوان سٹوڈنٹ لیڈر امان اللہ خان اور شاعر شعلہ نوا اسلم گورداسپوری بھی تشریف لاتے ہیں۔ گوجرانوالہ کے مقامی نوجوان طلباء اور وکلاء کی تقاریر کے بعد بیگم نصرت بھٹو نے حاضرین سے خطاب کرنا شروع کیا۔ بیگم نصرت بھٹو نے پیازی رنگ کی ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھی۔ دراز قد ، سرخ و سفید رنگ، تیکھے نقوش ، حاضرین بیگم نصرت بھٹو کی باوقار شخصیت کو مبہوت ہوکر دیکھ رہے تھے۔ بیگم نصرت بھٹو نے آمریت کے خلاف آخری لمحہ تک جنگ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ جمہوری تحریک چیئرمین بھٹو کی گرفتاری سے ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہامجھے یقین ہے کہ پاکستان کے نوجوان، طلباء ، مزدور اور کسان آمریت کے خاتمہ اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی میں بھرپور حصہ لیں گے۔ پی پی پی کے کارکن چیئرمین بھٹو کی رہائی کے لئے تحریک چلائیں گے ۔ وہ اس تحریک کے دوران گرفتار ہوگئے تو دوسرے کارکن ان کی جگہ سنبھال لیں گے۔ اور چیئرمین بھٹو کی رہائی تک یہ تحریک جاری رہے گی۔ بیگم نصرت بھٹو نے تقریباً تیس منٹ تک تقریرکی اور جلسہ ختم ہوتے ہی لاہور کے لئے روانہ ہوگئیں۔
چیئرمین بھٹو کی رہائی کی تحریک شعلۂ جوالہ بن گئی۔ ایوبی آمریت کا خاتمہ ہوا۔ تمام سیاسی قیدی رہا ہوگئے مگر چیئرمین بھٹو کو سب سے آخر میں رہائی نصیب ہوئی۔ میانوالی جیل میں قید/نظربند چیئرمین بھٹو سے ملاقات کرنے جب بیگم نصرت بھٹو گئیں تو بھٹو صاحب نے اپنی فیملی سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا اور اعلان کیا کہ جب تک وہ اپنے پارٹی کارکنوں سے ملاقات نہیں کرلیتے اپنی فیملی سے نہیں ملیں گے۔
تاریخ کئی موڑ مڑنے کے بعد دسمبر1971ء میں پہنچ جاتی ہے۔ چیئرمین بھٹو ملک کی زمامِ کار سنبھال لیتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو اپنے عظیم خاوند کے شانہ بشانہ ملک و قوم کی ترقی اور فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ ایوانِ صدر/ ایوانِ وزیراعظم میں ان کا دفتر ہوتا ہے اور وہ باقاعدگی سے دفتر میں پارٹی کارکنوں سے ملتی ہیں ۔ ان کے مسائل سنتی ہیں اور حل کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتی ہیں۔ مجھے بار ہا ان سے ملنے کا موقع ملتا رہا۔ ان سے پارٹی کے امور پر گفتگو ہوتی رہی۔ پارٹی کارکنوں کے رویوں کے بار ے میں بحث ہوتی رہی۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ سخت سے سخت تنقید بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرجاتی تھیں۔ ایوانِ وزیراعظم میں ان کی پولیٹیکل سیکرٹری مس شمع اسلم ان کو اسسٹ کرتی تھی۔ مس شمع اسلم شادی کے بعد امریکہ میں مقیم ہیں اور اب ان کا نام مسز شمع بنیاد حسین ہے۔مس شمع اسلم مسز رخسانہ بنگش ایم این اے (صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری کی پولیٹیکل سیکرٹری) کی سگی بہن ہیں۔

تاریخ ایک اور موڑ مڑجاتی ہے۔ ستمبر1977ء میں چیئرمین بھٹو گرفتار ہوچکے ہیں۔ اکتوبر 1977ء کے مجوزہ الیکشن کے لئے انتخابی جلسے شروع ہوچکے ہیں۔ کراچی اور راولپنڈی کے بعد لاہور میں جلسہ ہوچکا ہے۔ 27 ستمبر1977ء گوجرانوالہ میں انتخابی جلسہ ہورہا ہے۔ وہی نومبر1968ء والا شیرانوالہ باغ ہے۔ گوجرانوالہ کے شہری ہیں۔ عوام کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بیگم نصرت بھٹو جلسہ سے خطاب کرنے کے لئے پہنچ چکی ہیں۔ مقامی رہنماؤں کی تقاریر کے بعد بیگم صاحبہ اپنے خطاب میں چیئرمین بھٹو کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہیں اوران کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ بیگم نصرت بھٹوکی تقریر کے چند ابتدائی کلمات کے بعد لوگوں کے جذبات کے سارے بند ٹو ٹ جاتے ہیں۔ نوجوان جوش و خروش سے نعرے لگا رہے ہیں۔
’’جیل کا پھاٹک ٹوٹے گا‘‘
’’بھٹو قید سے چھوٹے گا‘‘
اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ نوجوانوں کے نعروں کی آواز زیادہ ہے یا گوجرانوالہ کے مظلوم عوام کی ہچکیوں اور رونے کی آواز زیادہ ہے۔ بیگم نصرت بھٹو نے میاں حبیب الرحمان امیدوار صوبائی اسمبلی اور لالہ محمد فاضل کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ شیرانوالہ باغ کے قریب بعض عمارتوں سے بدتمیزی کا مظاہرہ کیاجاتا ہے۔ بیگم نصرت بھٹو کہتی ہیں کہ یہ میرے بیٹے ہیں میں ان کی ماں ہوں۔ میں ان کی بدتمیزی پر ان کو معاف کرتی ہوں۔ مجمع پرسکون ہوجاتا ہے۔ انتخابی مہم کا یہ آخری جلسہ ہے۔ راولپنڈی ، کراچی ، لاہور اور گوجرانوالہ میں پیپلزپارٹی کے جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد میں شرکت سے مارشل لاء حکومت گھبرا جاتی ہے اور عام انتخابات ملتوی کرکے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دیتی ہے۔
گوجرانوالہ کے مظلوم، بے کس اور مفلوک الحال عوام27ستمبر 1977ء کو بیگم نصرت بھٹو کے جلسہ میں بدتمیزی کرنے والوں کا کچھ نہ بگاڑسکے۔ مگر 6 اپریل 1979ء کو چیئرمین بھٹو شہید کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد گوجرانوالہ کے غیور عوام نے شیرانوالہ باغ کے ساتھ ان تمام عمارات کو جلا کر خاکستر کردیا جہاں سے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ عوام نے صرف دو سال بعد اپنی لیڈر کی توہین کا بدلہ لے لیا۔
اکتوبر 1977ء بیگم نصرت بھٹو کھگہ ہاؤس گلبرگ لاہور میں نظر بند ہیں۔ مس بینظیر بھٹو بھی اسی مکان میں نظر بند ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں چیئرمین بھٹو کا ٹرائل ہورہا ہے۔ شیخ رفیق احمد مرحوم( صدر پی پی پی پنجاب) برادرِ محترم اسماعیل ضیا مرحوم ایم پی اے( گوجرانوالہ) سے پارٹی فنڈ کے لیے کچھ رقم کا تقاضا کرتے ہیں۔محترم اسماعیل ضیا مرحوم حکم کی تعمیل کے لئے شیخ رفیق احمد کے گھر جاتے ہیں۔ مگر شیخ رفیق احمد پارٹی فنڈ وصول کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پارٹی فنڈ آپ نے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کوذاتی طور پر پیش کرنا ہے۔ اسماعیل ضیا مرحوم، شیخ رفیق احمد اور راقم الحروف بیگم صاحبہ سے ملاقات کے لئے گلبرگ پہنچ جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتی ہیں۔ محترم اسماعیل ضیا مرحوم پارٹی فنڈ کے لئے رقم پیش کرتے ہیں تو بیگم نصرت بھٹو پارٹی کی فوری ضرورت کے لئے کچھ رقم اپنے پاس رکھ لیتی ہیں اور باقی رقم واپس کردیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ آپ کی فیملی کو اس رقم کی زیادہ ضرورت ہوگی۔

1979ء اکتوبر /نومبر کے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔ پی پی پی نے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیئے ہیں۔ اس زمانہ میں پی پی پی کے ٹکٹ کے امیدواروں سے جمع ہونے والی ساری رقم اس ضلع کے مختلف سفید پوش (مالی طور پر کمزور) امیدواروں میں تقسیم کردی جاتی تھی۔ سیالکوٹ کے ایک امیدوار (ٹکٹ ہولڈر) کے لئے بیگم نصرت بھٹو نے دس ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا۔ ٹکٹ ہولڈر (نام مجھے یاد ہے مگر اس کی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے میں نے نام لکھنے سے گریز کیا ہے)کو اطلاع دی گئی۔ مگر وہ انتخابی مہم میں مصروف تھا اور لاہور جاکر پیسے وصول کرنے میں تاخیر کردی۔ الیکشن ملتوی ہوگئے پی پی پی پنجاب کے صدر شیخ رفیق احمد نے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کو تجویز دی کہ یہ رقم پارٹی فنڈ میں جمع کردی جائے کیونکہ الیکشن ملتوی ہوچکے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو نے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ کوئی فرد واحد تبدیل نہیں کرسکتا۔ چنانچہ دس ہزار روپے ٹکٹ ہولڈر کے حوالے کردیئے گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی گوجرانوالہ ڈویژن کے صدر حاجی امان اللہ مرحوم جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کے دوران ایک سال کی قید مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوئے۔ لاہور میں میری بیگم نصرت بھٹو صاحبہ سے ملاقات ہوئی تو بیگم صاحبہ نے مجھے کہا کہ آپ نے حاجی امان اللہ کے پاس جانا ہے اور ان کو پیغام دینا ہے کہ اگر وہ اپنی کاروباری اور خاندانی ضروریات کی وجہ سے چھٹی لینا چاہتے ہیں تو بیشک لے لیں۔ ان کا عہدہ ان کے لیے مختص رہے گا اور جونہی وہ اپنی خاندانی /کاروباری مصروفیات سے فارغ ہوں تو اپنا عہدہ دوبارہ سنبھال سکتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے مجھے تاکید کی کہ یہ پیغام ان کو جلدازجلد پہنچانا ہے۔ جب میں نے بیگم صاحبہ سے وعدہ کیا کہ یہ پیغام آج رات ہی ان کو مل جائے گا تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔اس پر انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا۔
جولائی 1977ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پاکستانی اشرافیہ اور ان کے حامی دانشوروں اور اخبار نویسوں کو کامل یقین تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہوچکی ہے۔ مگر 8اگست 1977ء کو لاہور ایئرپورٹ پر چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے فقید المثال استقبال سے بھٹو دشمن سیاسی قوتوں کی راتوں کی نیند ایک دفعہ پھر حرام ہونے لگی۔ اس کے بعد مارشل لاء انتظامیہ نے چیئرمین بھٹو کو جسمانی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک پاکستان کے مسائل کا اس کے علاوہ اور کوئی ’’حل‘‘ نہیں تھا۔ اپریل 1979ء میں چیئرمین بھٹو کی شہادت کے بعد جنرل ضیا الحق کے عسکری اور سیاسی مُغبچوں نے سکھ کا سانس لیا اور بھٹو دشمن سیاسی قوتوں کے ایما پر ستمبر1979ء میں بلدیاتی انتخابات کروادیئے۔ پی پی پی نے ’’عوام دوست‘‘ کے بینر تلے انتخابات میں حصہ لیا۔ بلدیاتی انتخابات میں پی پی پی نے سارے ملک میں ستر اور اسی فیصد کے درمیان سیٹیں جیت کر یہ بات منوا لی کہ ’’کل بھی بھٹو جیتا تھا۔ آج بھی بھٹو جیتے گا‘‘۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر ثابت کردیا کہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘۔اس انتخابی مہم کا سب سے پسندیدہ اور ہردلعزیز سلوگن یہ تھا’’جب تک سورج چاند رہے گا۔ بھٹو تیرا نام رہے گا‘‘
ستمبر 1979ء کے بلدیاتی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حیرت انگیز اور شاندار کامیابی کے بعد نوابزادہ نصراللہ خاں اور غوث بخش بزنجو سمیت سیاستدان کی اکثریت نے پی پی پی کے ساتھ مل کر سیاسی محاذ بنانے اور مارشل لاء کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت مخالف سیاسی اتحاد قائم کرنے کے لئے گفتگو شروع ہوگئی۔ پی پی پی کے اندر ایک گروپ جمہوریت کی بحالی اور مارشل لاء کے خاتمہ کے لئے مختلف سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر سیاسی جدوجہد کرنے کا حامی تھا مگر دوسرے گروپ کا مؤقف یہ تھا کہ جن لوگوں کے ہاتھ چیئرمین بھٹو کے خون سے رنگین ہیں ان کے ساتھ پی پی پی کو سیاسی اتحاد نہیں بنانا چاہیئے۔ نوابزادہ نصراللہ خاں مرحوم نے پی پی پی کے لیڈروں سے ابتدائی بات چیت کرنے کے بعد بیگم نصرت بھٹو سے ملاقات کرنے کا وقت طے کرلیا۔ ملاقات میں نوابزادہ نصراللہ خاں نے چیئرمین بھٹو شہید کے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی اور تعزیتی کلمات ادا کرنے کے بعد بھٹو مرحوم کی ملکی اور قومی خدمات کو اپنے مخصوص انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ نوابزادہ صاحب نے بیگم نصرت بھٹو کو کہا بیگم صاحبہ! بھٹو صاحب کو موجودہ حکومت نے قتل کیا ہے۔ بھٹو صاحب آپ کے خاوند اور پی پی پی کے چیئرمین تھے۔ آپ موجودہ حکومت کے خلاف جو بھی اقدام کرنا چاہیں ہم اس میں آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کو بھٹو کے قاتلوں کی حکومت ختم کرنے کے لئے ہماری مدد کی ضرورت ہے؟ اس موقع پر بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے سیاسی بصیرت اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد اور سیاسی اتحاد قائم کرنے پر رضامندی کا اظہار کردیا۔ اس ملاقات کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں نے باہمی صلاح مشورے کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرکے ایم آر ڈی کے قیام کا اعلان کردیا۔ بیگم نصرت بھٹو نے پی پی پی کے تمام لوگوں کو اس بات پرقائل کرلیا کہ ساری پارٹیوں کی مشترکہ جدوجہدکے بغیر مارشل لاء کا خاتمہ اور جمہوریت کی بحالی ممکن نہیں ۔
بین الاقوامی برادری ، یورپی ممالک کی رائے عامہ اور میڈیا کے زبردست دباؤ کے بعدبیگم نصرت بھٹو اور مس بینظیر بھٹو کو مارشل لاء حکومت بیرون ملک علاج کے لیے آمادہ ہوگئی صنم بھٹو ، میر مرتضٰے بھٹو اور شاہنواز بھٹو مختلف ممالک میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔علاج معالجہ اور طبی معائنہ کے بعد بیگم نصرت بھٹو اورمس بینظیر بھٹو بھی اُن کے پاس پہنچ جاتی ہیں۔ مرتضٰے اورشاہنواز نے دو افغانی بہنوں سے شادیاں کرلی ہیں۔ دونوں سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ جولائی 1985 ء میں ساری فیملی پیرس میں جمع ہوتی ہیں۔ کئی سالوں کے بعد یہ ایک خوشگوار موقع ہے۔ ساری فیملی ہنسی خوشی زندگی کے معمولات سے لطف اندوز ہورہی ہے۔ بھٹوز کی خوشیوں کو زمانے کی نظرِ بد لگ جاتی ہے۔ اٹھارہ جولائی1985ء کی رات شاہنواز کو اپنے فلیٹ میں پراسرار طور پر موت کا سندیسہ آجاتا ہے۔ بیگم نصرت بھٹو کے لئے یہ ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔
شاہنواز بھٹو کی المناک وفات کے ایک ہفتہ بعد ،26 جولائی کو لندن میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مس بینظیر بھٹو نے کہا:۔
‘‘شاہنواز طبعی موت نہیں مرا اور جیسے ہی شاہنواز کا جسدِ خاکی انہیں ملا وہ اسے پاکستان لے کر ضرور جائیں گی تاکہ پاکستان کے عوام کو بتائیں کہ فوجی ڈکٹیٹر نے شہید بابا کے بعد ان کے نوجوان بیٹے کو بھی شہید کردیا‘‘

(’’بھٹو خاندان۔ جُہدِ مسلسل‘‘، مصنف بشیر ریاض، چہارم ایڈیشن2009ء، صفحہ نمبر132)

فرانس کی حکومت بھٹو خاندان کو ایک ماہ کے اذیت ناک انتظار کے بعد شاہنواز بھٹو کی میت تدفین کے لیے دے دیتی ہے۔ مس بینظیر بھٹو ساری مشکلات اور مصائب کے باوجود اپنے بھائی کی میت لے کر پاکستان آتی ہیں۔ گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں شاہنواز کی تدفین کی جاتی ہے۔تدفین کے بعد سوگواروں سے المرتضٰے (لاڑکانہ) کے باہر خطاب کرتے ہوئے مس بینظیر بھٹو نے کہا:۔
‘‘میں اپنے بھائی کی موت کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کروں گی مگر پاکستان کے عوام کا ہر دکھ میرا دکھ ہے۔ شاہنواز کی موت میرا ذاتی غم نہیں بلکہ اس سے پوری قوم غمگین ہوگئی ہے۔ مجھے فخر ہے میرا بھائی شاہنواز باعزت طور پر پاکستان واپس آیا ہے۔ چند سال پہلے جب میں نے لاڑکانہ چھوڑا تھا تو اس وقت میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ میں اپنے بھائی کی میت لے کر اپنے گھر واپس آؤں گی آج ہر شخص جانتا ہے کہ ہم نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں۔ لیکن ہم نے ہر مصیبت کا مقابلہ کیا ۔ ہم بھٹو شہید کے مشن کو جاری رکھیں گے۔ عوام کے لئے غربت و ناانصافی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ شاہنواز صرف میرا بھائی نہیں آپ بھی اُسے اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ میں آپ کی بہن ہوں اور ہر مرحلے پر آپ کے ساتھ رہوں گی۔ میرے احساسات وہی ہیں جو آپ کے ہیں اور ہمارا راستہ ایک ہی ہوگا‘‘

(’’بھٹو خاندان۔ جُہدِ مسلسل‘‘، مصنف بشیر ریاض، چہارم ایڈیشن2009ء، صفحہ نمبر137)

لاڑکانہ میں بھٹو خاندان کے غم میں شریک ہونے والوں سے اجتماعی ملاقات کرنے کے بعد مس بینظیر بھٹو کراچی آجاتی ہیں۔ کراچی پہنچنے پر 70۔ کلفٹن (کراچی) کے باہر PPP کے سوگوار کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مس بینظیر بھٹو نے کہا:۔
‘‘بھٹو شہید نے زندگی بھر غریب عوام کے لئے جدوجہد کی ہے اور میں بھی وفاق اور وفاقی یونٹوں کے حقوق کے حصول اور عوام کو انصاف ملنے تک ان کے ساتھ رہوں گی۔ ہم نے شاہنواز کی موت سے اپنا بھائی کھو دیا ہے لیکن اس کے خون کے ہر قطرے سے ایک اور شاہنواز پیدا ہوگا‘‘

(’’بھٹو خاندان۔ جُہدِ مسلسل‘‘، مصنف بشیر ریاض، چہارم ایڈیشن2009ء، صفحہ نمبر138)

شاہنواز کی تدفین اور رسمِ قل کے بعد مس بینظیر بھٹو واپس اپنی والدہ کے پاس چلی جاتی ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو کے چھوٹے صاحبزادے شاہنواز کی موت پر ابھی تک اسرار کا ایک دبیزپردہ پڑا ہوا ہے لیکن نہ جانے کیوں مجھے شاہنواز کے قتل کے پسِ پردہ حقائق اور قاتلوں کے چہرے برادرِ محترم جناب بشیر ریاض کی اس تحریر میں صاف نظر آرہے ہیں:۔
‘‘چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد1979ء ہی میں شاہنواز نے پی ایل او کے چیئرمین یاسر عرفات کی دعوت پر بیروت جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک یاسر عرفات کے مہمان رہے اور یہ عرصہ انہوں نے فلسطینی مجاہدوں کے کیمپوں میں گزارا اور جب وہ لندن واپس آئے تو ان کے بدن پر فلسطینی مجاہدوں کے کیمپوں میں گزرے ہوئے دنوں کی مکمل کہانی لکھی ہوئی تھی‘‘

(’’بھٹو خاندان۔ جُہدِ مسلسل‘‘، مصنف بشیر ریاض، چہارم ایڈیشن2009ء، صفحہ نمبر131)

مارچ 1986ء میں پاکستان پیپلزپارٹی مس بینظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریاں شروع کرتی ہے۔ 10 اپریل 1986ء لاہور ایئرپورٹ پر واپسی کا اعلان ہوچکا ہے۔ لاہور کے شہری استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ 9 اور 10 اپریل 1986ء کی درمیانی رات شیخ رفیق احمد کے گھر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوتا ہے۔ استقبال کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد ہم لوگ لاہور شہر کی سڑکوں کا چکر لگانے نکلتے ہیں۔ لاہور کی ساری سڑکیں اس رات ایئرپورٹ کو جارہی ہیں۔ بچے ، عورتیں ، نوجوان، طلباء ، مزدور، وکلاء گاڑیوں ، سائیکلوں، موٹرسائیکلوں اور پیدل ایئرپورٹ کی طرف سیلِ رواں کی مانند جارہے ہیں۔ میرے ساتھ کار میں یونس ادیب مرحوم ، محترم شیخ رفیق احمد مرحوم اور برادرم فخرزمان ہیں۔ یونس ادیب مجھے مخاطب کرکے اپنے مخصوص لہجے میں کہتا ہے۔ ’’ضیا دیکھو! ذوالفقار علی بھٹو کا پرسہ دینے کے لئے پیپلزپارٹی کے لوگوں کے جلوسوں کا لامتناہی سلسلہ آرہا ہے‘‘۔
رات کے پچھلے پہر یونس ادیب مرحوم اور شیخ رفیق احمد مرحوم کو ڈراپ کرنے کے بعد میں اور فخر زمان ماڈل ٹاؤن کی طرف جارہے ہیں۔ راستہ میں خاموشی توڑنے کے لئے میں فخرزمان سے پوچھتا ہوں کہ آج سارا پاکستان بینظیر کی آمد پر خوشیاں منا رہا ہے۔مگر بیگم نصرت بھٹو نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ اپنی بیٹی کو روانہ کیا ہوگا۔ فخر زمان نے جواب دیا۔ ہاں یار، چیئرمین بھٹو کی شہادت اور شاہنواز بھٹو کی دردناک موت کے بعد بینظیر بھٹو کو پاکستان واپس بھیجنا بیگم نصرت بھٹو کی بہادری، دلیری، اپنے ’’کاز‘‘ اور عوام کے ساتھ کمٹمنٹ کی دلیل ہے۔
اگست1988 ء میں جنرل ضیاالحق قدرت کے انتقام کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل ہی بیگم نصرت بھٹو جلاوطنی ختم کرکے واپس آتی ہیں۔ایئرپورٹ پر پاکستانی سرزمین کو دیکھتے ہی بیگم نصرت بھٹو کہتی ہیں’’جنرل ضیاالحق کے بغیر پاکستان کتنا خوبصورت محسوس ہورہا ہے‘‘
دسمبر 1988ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے کے بعد بیگم نصرت بھٹو راولپنڈی/اسلام آباد منتقل ہوگئیں۔ اس دوران ان کو سینئر وفاقی وزیر مقرر کردیا گیا۔ مسز رخسانہ بنگش ان کی سیکرٹری تھیں۔ بیگم صاحبہ کی تقاریر کی تیاری کے لئے میرا اور محترم محمود شام صاحب کا ان سے رابطہ رہتا تھا۔ مختلف تقاریب کے لئے ان کی تقاریر کے ڈرافٹ تیار کرکے وقت مقررہ پر ان کو پیش کردیئے جاتے تھے۔ اس پر وہ خوشی کا اظہار کرتیں۔ابتدا میں چند تقاریر کے ڈرافٹ دیکھنے کے بعد ان کو مجھ پر بہت اعتماد ہوگیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی بھی کسی تقریر کے ڈرافٹ میں تبدیلی کرنے کی خواہش نہیں کی۔ ان کی تقاریر کے لئے محمود شام صاحب سے ڈرافٹ تیار کروانے کے بعد کتابت مکمل کروا کر میں بھیج دیتا تھا۔
کئی دفعہ میں ایوانِ وزیراعظم (سند ھ ہاؤس) جاتا تو تقاریر کا کام مکمل کرنے کے بعد میری فیملی کے بارے میں پوچھتیں۔ میرے بچوں کی عمر اور تعلیم کے بارے میں دریافت کرتیں۔ رات کو اگر میں دیر سے ان کے پاس جاتا تو کھانے کا ضرور پوچھتیں اور صرف رسماً نہیں بلکہ جرح کرکے دریافت کرتیں کہ کب کھایا تھا اور کہاں سے کھایا تھا اور کیا کھایا تھا۔ آج مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ان کی شخصیت کا اثر اتنا تھا کہ ان کے سامنے میرے لیے جھوٹ بولنا ممکن نہ تھا۔
اگست 1990ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے تین چار دن بعد محترمہ بینظیر بھٹو اپنے دونوں بچوں (بلاول اور بختاور) اور بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ سندھ ہاؤس سے کراچی کے لئے روانہ ہورہی ہیں۔ بیسیوں پارٹی کارکن ان کو الوداع کہنے کے لئے پہنچ چکے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو سارے دل شکستہ کا رکنوں کو حوصلہ دلاتی ہے اور تلقین کرتی ہیں کہ مستقبل میں بھی پورے جو ش و خروش سے جمہوریت کے استحکام اور قائدِ عوام کے مشن کو پورا کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

1990ء سے لے کر 1993ء تک کا دور پی پی پی کے لئے مزید آزمائشوں کا دور ہوتا ہے۔ بیگم نصرت بھٹو پیرانہ سالی کے باوجود عوامی جلسوں میں خطاب کرنے کے لئے جاتی ہیں۔ عوامی مظاہروں کی قیادت کرتی ہیں۔ اتنی تندہی سے کام کرتے ہوئے بیگم نصرت بھٹو کو دیکھ کر عوام میں اور بالخصوص پارٹی کے کارکنوں میں عزم و ہمت کی لہر دوڑنے لگتی ہے۔ بیگم نصرت بھٹو 1992ء کے لانگ مارچ میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں اور ان کی جدوجہد سے 1993ء میں پی پی پی الیکشن میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو دوسری دفعہ وزیراعظم بن جاتی ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد منتقل ہوجاتی ہیں۔ ان سے ہماری ملاقاتیں ایک بار پھر شروع ہوجاتی ہیں۔ کبھی کبھار بیگم صاحبہ ہمارے ساتھ زمانۂ ماضی کی بعض خوشگوار یادیں شیئر (Share) کرتی ہیں۔
تاریخ ایک اور موڑ مڑتی ہے۔ ستمبر 1996ء میں میر مرتضےٰ بھٹو اپنے گھر کے سامنے قتل کردیئے جاتے ہیں۔ مرتضےٰ بھٹو کی تدفین کے موقع پر میری بیگم صاحبہ سے لاڑکانہ میں ملاقات ہوتی ہے۔ مگر مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ ان سے تعزیت کرسکوں۔چشمِ فلک نے یہ دردناک منظربھی دیکھا ہے کہ بھٹوز کے خاندانی قبرستان (گڑھی خدابخش) میں میر مرتضٰے بھٹو کی رسمِ قل کے بعد بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو اور صنم بھٹو فاتحہ خوانی کے لئے تشریف لاتی ہیں۔ تین مرد بھٹوز کی قبروں کے سامنے تین خواتین بھٹوز بیٹھی ہوئی ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ تین (مرد) بھٹوز دفن ہوچکے ہیں اور ان تینوں کی قبروں کی محافظ تین (خواتین) بھٹوز زندہ ہیں اور ان کی قبروں کے سامنے موجود ہیں۔ اس بات سے سارے لوگوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ سب لوگ پتھر کے مجسموں کی طرح خاموش اور ساکت ہوچکے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو ، صنم بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے آنسوؤں کو دیکھ کر لوگوں کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا ناممکن ہوجاتاہے۔ سب کے چہرے آنسوؤں سے بھیگ چکے ہیں اور قبرستان کی خاموش فضا میں سسکیاں ہی سسکیاں سنائی دے رہی ہیں۔ میرے لئے بھی اپنے آنسوؤں پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور میں ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر دل کا غبار نکالنے اور دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ قریب کھڑے ایازسومرو ایڈووکیٹ میرے گلے لگ جاتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی دلجوئی کے لئے چند کلمات اداکرتے ہیں۔
چند دنوں کے بعد وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں مرتضےٰ بھٹو کے ایصالِ ثواب کے لئے قرآن خوانی ہوتی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے ایک برآمدے میں ہم کچھ دوست ’’بھٹوز‘‘ کے حوالے سے گفتگو کررہے ہیں۔ اسی دوران بیگم نصرت بھٹو غم و اندوہ کی تصویر بنے ہمارے سامنے اچانک آکر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ میں چند الفاظ تعزیت کے لئے ادا کرتا ہوں۔ بیگم نصرت بھٹو صاحبہ میرے کندھے پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیتی ہیں اور آسمان کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کرتی ہیں ۔ میری آنکھوں سے ٹِپ ٹِپ آنسو گرنے لگتے ہیں۔ میں بیگم نصرت بھٹو کا ہاتھ پکڑ کر ایک کرسی پر بٹھا دیتا ہوں اور خود دوسری طرف منہ کرکے اپنے آنسو پونچھنا شروع کردیتا ہوں۔ اس کے بعد پانچ اور چھ نومبر کی سیاہ رات ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کردیتی ہے۔
نومبر 1996ء کے دوران اپنے پرانے کاغذات میں مجھے بیگم نصرت بھٹو کی تصاویر مل جاتی ہیں۔ ان کو دیکھ کر میں سوچنے لگتا ہوں کہ ہر انسان نے اپنی زندگی میں بیشمار نشیب و فراز دیکھے ہوتے ہیں۔مگر جو نشیب و فراز بیگم نصرت بھٹو کی زندگی نے دیکھے وہ شاید کسی اور انسان کو دیکھنے نصیب نہ ہوئے ہوں۔ چند تصاویر میں بیگم نصرت بھٹو بطور فرسٹ لیڈی وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مختلف غیر ملکی سربراہان کے ساتھ کھڑی ہیں ۔دو تین تصاویر 1978ء میں قذافی سٹیڈیم لاہور میں زخمی حالت کی ہیں۔ دو تصاویر میں بیگم صاحبہ یو سی ایچ گلبرگ لاہور میں اپنے سر میں ٹانکے لگوا رہی ہیں اور ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی ہوئی ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر میرا دل بھر آتا ہے۔ میں اکیلا اداس بیٹھا رونے لگتا ہوں۔ اس لمحے مجھے چیئرمین بھٹو کی شہادت کے موقع پر لکھے جانے والے پنجابی لوک گیت یاد آنے لگتے ہیں۔
’’پکی مٹی ہووے قبراں دی
ظلماں دی حد مک گئی
کوئی حدنئیں صبراں دی‘‘
۔۔۔
’’اسما نی تارے نے
سولی اتے چڑھ جان والیا!
دکھ عمراں تو ں بھارے نے ‘‘
1997ء میں حساس ادارے اپنی خصوصی پلاننگ کے زور پر میاں نواز شریف کو وزیراعظم بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بیگم نصرت بھٹو کے خلاف نام نہاد احتساب شروع ہوجاتا ہے۔ ’’بھٹوز‘‘ ایک بار پھر ہجرت پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
جلاوطنی سے واپسی کے بعد نومبر 2007ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ میری ملاقات ہوتی ہے میں علیک سلیک کے رسمی جملوں کے تبادلہ کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو سے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کی صحت کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ محترمہ کی آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہوتی ہے اور محترمہ مجھ سے کہتی ہیں’’کھوکھر صاحب ان کے لئے دُعا کریں‘‘۔ میں دل ہی دل میں بیگم نصرت بھٹو کی صحت اور سلامتی کے لئے دعا کرتا ہوں۔
27 دسمبر2007ء کو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد میں کس سے بیگم نصرت بھٹو کی خیر خیریت اور صحت کے بارے میں دریافت کروں؟اس سوال کا جواب تلاش کرتے کرتے 23 اکتوبر 2011ء آجاتا ہے۔ میں برادرم طارق خورشید ملک اور محترم اطہر محمود خاں کے ساتھ مری کے قریب ایک ہوٹل میں چائے پی رہا ہوں۔ میرے موبائل کی گھنٹی بجتی ہے ۔ میں فون سنتا ہوں۔ دوسری طرف سے عزیزم افضال انقلابی کی آواز آتی ہے۔ ’’بیگم نصرت بھٹو کا انتقال ہوگیا ہے‘‘۔ میری زبان پر فوراً آجا تا ہے۔ اِناالِلہِ و انّاعلیہِ راجعون۔
جو سٹوری میں نے بیس سال کی عمر میں(نومبر1968ء) افضال بیلا کی زبانی سننا شروع کی تھی وہ سٹوری تریسٹھ سال کی عمر میں (اکتوبر 2011ء)افضال انقلابی کے الفاظ پر ختم ہوجاتی ہے۔ باقی رہے نام اللہ کا!

Source: Pak Tea House

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں