Excessive load shedding bitterly hurt agricultural and industrial sectors: Mian Manzoor Wattoo

201210182548_samaa_tv
The excessive load shedding of electricity has broken the back of the industry and the agriculture sector alike of the country, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo in a statement issued from here today.
He said that the agriculture sector was doubly hit because load shedding of electricity after every hour drastically impaired the tube wells to pump out the water in sufficient quantity to meet irrigation requirements of the farmers besides electricity being so expensive.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo called upon the government to ensure three hours uninterrupted supply of electrify to farmers and industry that would suffice irrigation requirements of the farmers to a large extent and also of the industrial sector. It is a matter of better management of the limited supply of electricity, he added.
He recalled that during the PPP government this arrangement worked very well as it resulted in the optimum utilization of the limited supply of electricity.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo also lamented the government for doing nothing in increasing the generation capacity of electricity in the country adding their hallow claims of controlling load shedding in months had exploded in their face as after the lapse of one and half year nothing had been done in this regard.
He said that the load shedding of electricity had caused decline in textile exports adding Pakistan could not benefit from the European Union’s GSP Plus tariff concessions incurring billions of dollars losses to the economy.
He said that the roads in the province were also in dilapidating condition as no manpower was deploy for the repair and maintenance of the roads of the province. Punjab government spending billions of rupees on one or two projects in mega cities at the expense of the rest of the roads cannot be justified by any measure, he argued.
He demanded that sufficient manpower should be recruited on urgent basis and deployed to maintain, on priority basis, the roads those had been damaged due to the heavy rains during this season.
He said that sewerage system in the rural areas in particular had been totally broken down and regretfully the government was not giving attention to this aspect and the spread of disease at epidemic proportion could not be ruled out. The government should jettison the penny wise pound foolish approach in governance, he urged.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo pointed out that the condition was worse in his own village, Wasawaywale, as the sewerage water had inundated all streets of his village making the life of the residents miserable. The village belongs to the former Chief Minister of Punjab and the President of Punjab PPP adding if it did not catch the attention of the authorities’ one can imagine the plight of other villages in the province, he argued.

میاں منظور احمد وٹو صدر پیپلز پارٹی پنجاب نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی زیادتی سے زرعی اور صنعتی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو زیادہ نقصان ہو رہا ہے کیونکہ ہر گھنٹے کے بعد لوڈشیڈنگ سے ٹیوب ویلوں کا پانی کھیت کی دوسری طرف پہنچنے سے پہلے ہی ٹیوب ویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بند ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ بجلی اتنی مہنگی ہے کہ چھوٹے کسان اسکا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ میاں منظور احمد وٹو نے مطالبہ کیا کہ وہ زرعی اور صنعتی شعبے کو ہر 3 گھنٹے کے بعد تین گھنٹے کی بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے نہ کہ ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کی بجلی کی فراہمی جو اسوقت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں تین تین گھنٹے بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا انتظام کیا گیا تھا جس سے زرعی اور صنعتی شعبے کے ضرورتیں کافی حد تک پوری ہو رہی تھیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت کو ڈیڑھ سال ہو چلا ہے لیکن اس نے نیشنل گرڈ میں ایک میگا واٹ بجلی بھی شامل نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی انکے ان دعووں کی کلی کھول دیتی ہے جس میں انہوں نے سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اس وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ یورپین یونین جی ایس پی پلس کے ذریعے پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات کے لیے مراعات دی تھیں جن سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ صوبے میں سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑے شہروں میں ایک دو منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ صوبے کی دوسری سڑکیں دن بدن ٹریفک کے لیے خراب ہوتی جارہی ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے مطالبہ کیا کہ ہنگامی بنیادوں پر کافی تعداد میں بیلدار بھرتی کئے جائیں اور انکو فوری طور پر سڑکوں کی مرمت پر لگا دیا جائے تاکہ وہ سڑکیں جو کہ حالیہ بارشوں سے خراب ہوئی تھیں انکو بروقت ٹھیک کیا جاسکے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ صوبے کے دیہاتی اور شہری علاقوں میں سیوریج کا نظام اتنا خراب ہو گیا ہے کہ کھلے گندے پانی سے گلیاں اور سڑکیں ڈوبی ہوئی ہیں جس سے بیماریوں کی وبہ پھیلنے کا شدید اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انکے اپنے گاؤں وساوے والا میں سیوریج کے پانی سے گاؤں کی تمام گلیاں ڈوبی ہوئی ہیں جس نے گاؤں کے رہنے والوں کی زندگی کو عذاب بنا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کی انتظامیہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کا گاؤں انکی توجہ مبذول نہ کر سکا تو پھر صوبے کے باقی علاقوں کی حالتِ زار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں