ن لیگ کے ارکان رابطے میں ہیں نام بتا دوں تو شریف برادران کی نیندیں اڑ جائیں وٹو

شریف برادران جتنے پانی میں ہیں اچھی طرح جانتا ہوں،اصغر خان کیس کے بعد (ن) لیگ کوسیاست چھوڑ دینی چاہئے دنیا کی کوئی طاقت پنجاب میں حکومت بنانے سے نہیں روک سکتی، ق لیگ کو ساتھ لیکر چلیں گے ، پارٹی رہنماوں سے گفتگو

لاہور(آئی این پی) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ شریف برادران جتنے پانی میں ہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں، (ن) لیگ کے جو اراکین میرے ساتھ رابطے میں ہیں ان کے نام بتا دوں تو شریف برادران کی نیندیں اڑ جائیں، دنیا کی کوئی طاقت پیپلز پارٹی کو پنجاب میں حکومت بنانے سے نہیں روک سکتی، اصغر خان کیس کے بعد (ن) لیگ کی قیادت ڈھیٹوں کی طرح بیٹھی ہوئی ہے ان کو سیاست چھوڑ دینی چاہئے ، (ق) لیگ کیساتھ کوئی اختلاف نہیں ان کو ساتھ لے کر چلوں گا۔ جمعہ کو یہاں پارٹی رہنماوں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں منظور وٹو نے کہا کہ صدر آصف زردری نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر ہر صورت پورا اتروں گا اور آئندہ انتخابات میں پنجاب میں بہت بڑی سیاسی تبدیلی آنیوالی ہے جو (ن) لیگ کو بہا کر لے جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ (ق) لیگ مرکز اور پنجاب میں ہماری اتحادی ہے تمام فیصلے مشاورت سے ہوں گے اور آئندہ انتخابات بھی ملکر لڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس میں شریف برادران پر آئی ایس آئی سے پیسے لینے کا جرم ثابت ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود شریف برادران ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں۔ این این آئی کے مطابق منظور وٹو نے کہا ہے کہ کارکن ہمارے سر کے تاج ہیں انہیں ہر سطح پر عزت اور پذیرائی دیں گے ،عید الاضحی کے بعد پارٹی کو فعال اور متحرک کرنے کے لئے بھرپور سر گرمیوں کا آغاز کیا جائیگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید الاضحی اپنے آبائی گاوں منانے کے لئے روانگی سے قبل ائیر پورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ منظور وٹو نے کہا کہ بطور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کارکنوں کو بھرپور عزت دوں گا اور جو کارکن ناراض ہیں انہیں منانے کے لئے انکے گھروں پر جاوں گا ۔ کارکن ہی جماعت کا اثاثہ ہوتے ہیں اور ہم انہیں ہر سطح پر عزت اور پذیرائی دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن نظریاتی ہیں وہ پارٹی کو چھوڑ کر کہی نہیں جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ میں عید کا تہوار اپنے آبائی گھر میں مناتا ہوں اس لئے لاہور سے اوکاڑہ جارہا ہوں، واپسی پر پارٹی کو فعال اور متحرک بنانے کے لئے ڈویژنل کمیٹیوں کے اجلاسوں کی صدارت کرونگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں