پاکستان پیپلز پارٹی کی اخلاقی اور اصولی جیت -ریاض حسین بخاری

121

16 ا کتوبر 2014ء کو ملتان میں جناب مخدوم جاوید ہاشمی (جو کی پی ٹی آئی کے صدر تھے ) کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات ہوئے ۔ ان انتخابات پر پورے پاکستان کی تجزیہ نگاروں کی نظریں مرکوز تھیں۔یہ ایک اہم اور عجیب وغریب الیکشن تھا جہاں دو شدید مخالف جماعیتں (پی ایم ایل این اور تحریک انصاف )برسرِپیکار تھیں۔تو وہاں پاکستان پیپلز پارٹی اپنی پرانی سیاست جو (بی بی شہید اور بھٹو شہید کی سیاست )تھی پر چل پڑی جو کہ اس تحریک کا نقطہ آغاز تھا جو آج 18اکتوبر کو بلاول بھٹو کراچی کے تاریخی جلسے سے شروع کرنے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی تو اپنے نو جوان قائد کی زیر قیادت اپنے عوام کو جبرو استبدال سے نجات دلانے کیلئے اپنا سفر شروع کر چکی ہے تو مگر ملتان کے انتخابات میں عجیب وغریب واقعات رونما ہوئے۔ جہاں لا تعداد امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا وہاں صرف پیپلز پارٹی واحد جماعت تھی جو اپنے انتخابی نشان تیر کے ساتھ انتخابات میں جارہی تھی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف جو بڑی جماعتیں ہونے کی دعویدار ہیں اپنا امیدوارلانے کی بجائے آزاد امیدواروں کی حمایت کر رہیں تھیں۔اس کے پیچھے کیا خوف تھا کہ وہ جماعتی حثییت سے حصہ لینے کی بجائے آزاد امیدواروں کے سہارے میدان میں اتریں اور اپنے اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی بھر پور انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا۔ یہاں پیپلز پارٹی کو ایک اخلاقی فتح حاصل ہوئی کہ وہ ہمیشہ سے غیر جماعتی انتخابات کی مخالف رہی ہے۔ جبکہ باقی دونوں جماعتیں کیو نکہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے وجود میں آئیں اسی لئے وہ جماعتی بنیاد پر الیکشن میں جانے سے خائف تھیں۔پی ایم ایل این حکومتی جماعت ہونے کے با وجود ہاشمی صاحب کی بطور آزاد امیدوار حمایت کر رہی تھی تو موجودہ نظام کی سب سے بڑی مخالف تحریک انصاف اسی نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حمایت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی جبکہ پیپلز پارٹی ہر قسم کے خوف اور دو عملی سے آزاد ہو کر انتہائی سنجیدگی سے الیکشن میں جا چکی تھی ۔اور اس کیلئے سید یوسف رضا گیلانی صاحب کی سربراہی میں سینٹرڈاکٹر قیوم سومرو، مخدوم شہاب الدین اور شوکت محمود بسرا سمیت جنوبی پنجاب کی ساری قیادت اپنے امیدوار ڈاکٹر جاوید صدیقی کیلئے بھر پو ر انتخابی مہم چلا رہی تھی۔اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوئے وہ ایک الگ بحث ہے ۔
یہاں تحریک انصاف کی دو غلی سیاست پر غور کرنا ضروری ہے مجھے ذاتی طور پر اس جماعت کی سیاست سے شدید اختلاف ہے۔ یہ جماعت (جس کے قائد یوٹرن لینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے)کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے۔ اپنی اسی دو عملی کا شکار وہ یہاں بھی رہی۔تحریک انصاف اسمبلیوں سے استفعیٰ دے چکی ہے۔ مگر سپیکر کے بار بار بلانے کے با وجود ان کی تصدیق کیلئے سپیکر چیمبر میں نہیں جاتی۔قومی اسمبلی، سندھ اور پنجاب کی اسمبلیوں سے استعفے دیتی ہے لیکن کے پی کے میں حکومت کرتی رہتی ہے۔ دھرنے دیتی ہے اور اپنا مقصد حل نہ ہوتے دیکھ کر جلسوں کی سیاست شروع کر دیتی ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کی شدید مخالفت کرتی ہے اور انتخابات میں حصہ بھی لیتی ہے۔ ملک میں تبدیلی کی دعویدار ہے مگر ایک سیٹ جیتنے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار (جو کہ خفیہ طور پر صرف الیکشن جیتنے کیلئے تحریک انصاف سے محبت کی پینگیں بڑھا رہی تھیں)امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر کو اپنی حمایت کا یقین دلوا کر آزاد الیکشن لڑنے پر اکساتی ہے اور بعد میں مہم بھی چلاتی ہے۔ یہ کیسی تبدیلی ہے کہ جس میں صرف دوسری جماعتوں کی سرکردہ شخصیات کو ہی الیکشن لڑ وا کر اپنی جماعت میں شامل کیا جا رہا ہے۔وہ امید وار جیت بھی جاتا ہے لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ملک عامر ڈوگر صاحب نے سیٹ تو جیت لی مگر اخلاقی طور پر ہار گئے ہیں انہیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن دونوں کے ووٹ ملے تحریک انصاف تو انکی حمایت کر رہی تھی مگر ن لیگ کے ووٹروں نے ہاشمی صاحب سے نالاں ہونے کی وجہ سے ملک صاحب کو ووٹ دیا ۔جو کہ حکومت کی صفوں
میں بھی شدید انتشار کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے اور بقول دوست محمد کھوسہ مسلم لیگ ن میں عنقریب فاورڈ بلاک بننے جا رہا ہے۔ یہاں میں ملک محمد عامر ڈوگر صاحب سے بھی معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ آپ نے نا صرف پارٹی بلکہ اپنے دوستوں اور محبت کرنے والوں کو بھی دھوکہ دیا بلکہ کسی سے مشورہ کرنا بھی منا سب نہ سمجھا اور برسوں کی رفاقت توڑ کر تحریک انصاف کی کشتی سوار ہو گئے ۔انہوں نے نشست تو جیت لی مگر یاد رکھیں کہ انہیں تحریک انصاف میں کبھی بھی وہ اہمیت (جو پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل کی حثیت سے تھی )نہیں مل سکے گی۔ انہوں نے عملاََ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب پر حکومت کی ۔ اس کیلئے کام بھی کیا محنت بھی بہت کی مگر صرف ووٹ حاصل کرنے کیلئے تحریک انصاف میں چلے گئے جس کا اعلان انہوں نے الیکشن جیتے ہی کر دیا۔ کیا اب وہ پی ٹی آئی کے استعفوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے استعفیٰ دیں گے یہ آزاد حثیت بر قرا ر رکھیں گے۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گالیکن جو انہوں نے برادرِ یوسف کا کردار ادا کیا ہے اس پر ان کا ضمیر انہیں کچوکے لگاتا رہے گا۔ اگر وہ آزاد ہی لڑنا چاہتے تھے تو پارٹی کو ٹکٹ کا کہنے سے پہلے آگاہ کر دیتے لیکن انہوں نے اس وقت اعلان کیا جب کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے میں چند گھنٹے رہ گئے تھے اس بات کی ان سے کسی کو اُمید نہیں تھیں۔ یہاں میں جاوید ہاشمی صاحب کو اپنی ہار باوقار انداز سے تسلیم کرنے پر سلام پیش کرو ں گا۔
اب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف آتا ہوں ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے کارکنان کی خواہشات پر الیکشن میں حصہ لینے پر فیصلہ کیا ۔آخری لمحوں میں ملک عامر ڈوگر کی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑنے کے فیصلے سے پارٹی کو حیران ضرور کیا مگر پارٹی نے بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا اُمید وار ڈاکٹر جاوید صدیقی صاحب کی صورت میں میدان میں اتار دیا ۔ بہت ہمت اور جرات اور ولولے سے انتخابی مہم چلائی گئی لیکن نتائج توقع کے مطابق نہ آ سکے ۔ ڈاکٹر صاحب الیکشن تو ہار گئے لیکن پھر بھی انکی وفاداری پر سلامِ عقیدت ۔ڈاکٹر صاحب چند دن پہلے تک خود ملک عامر ڈوگر صاحب کی انتخابی مہم چلا رہے تھے ان کے حق میں جلسہ کر چکے تھے پھر اچانک انہیں خود ان کی جگہ الیکشن لڑنا پڑا۔ کیا پیپلز پارٹی واقعی ہار گئی ؟بظاہر تو پارٹی کو شکست ہوئی مگر اخلاقی اور اصولی طور پر بہت بڑی فتح حاصل ہوئی کیو نکہ پیپلز پارٹی نے ہار جیت سے قطع نظر اپنے انتخابی نشان اور اپنے منشور کے مطابق الیکشن لڑا اور الیکشن ہار کر بھی کارکنوں کے آگے سرخروہو گئی۔اور جو حقیقی فتح ہے وہ یہ کہ پارٹی کارکنا ن پارٹی کے پرچم تلے متحد ہو چکے ہیں۔ان کے دلوں کا جیا لا پن ان کے چہروں سے عیاں ہو رہا ہے جو پارٹی کے کارکنا ن کا طرہ امتیاز ہے ۔پارٹی الیکشن ہار گئی لیکن کارکنان کے دل جیت گئے ۔ پارٹی قیادت کو جیالو ں کا پیار مبارک ۔ اس جیالے پن کو آج 18ء اکتوبر کا جلسہ اپنے عروج پر لے جائے گا اور یہی عروج پاکستان پیپلز پارٹی بھی بہت جلد دوبارہ حاصل کرے گی انشااللہ اور بلاول بھٹو پاکستان کے طو ل وارض میں رہنے والوں کے دلوں پر راج کرے گا۔
اب وقت زبان ہے بلاول
جرات کا نشان ہے بلاول
بھٹو کی صدا ہے بلاول
بی بی کی اد اہے بلاول
ٓآصف کا ستون ہے بلاول
کارکنوں کا جنون ہے بلاول
بلاول آئے گا روزگار لائے گا
شکریہ
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات
پی پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں