Urdu Text of Bilawal Bhutto speech at Senator Jahangir Badar’s “The Benazir’s Paper” launching ceremony in France

b03cdqbiaaazshj

السلام و علیکم ۔ خواتین و حضرات ۔
مجھے اپنے اسکول کے دور کے فرانسیسی زبان کے اسباق چھوڑے ہوئے کئی برس ہو چکے ہیں ۔لہذا اگر آج فرانسیسی زبان بولتے ہوئے مجھ سے کوئی بڑی غلطی سر زد ہو جائے تو اس کے لئے میں پہلے سے معذرت خواہ ہوں ۔
میرا نام بلا ول بھٹو زرداری ہے اور میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا چئیرمین ہوں ۔ میں آج آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کیو نکہ مجھے یقین ہے کہ فرانس کے لوگ میرے اور میرے ملک کے حالات اور تجربات کو جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ان تجربات سے سبق حاصل کریں تو دنیا ان تمام غلطیوں کو دہرانے سے باز رہے گی جن کو وہ بار بار دہراتی رہی ہے ۔
ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ تمام دوسرے مذاہب کی طرح اسلام بھی ہمیں امن کا درس دیتا ہے اور امن کے قیام کی تلقین کرتا ہے ۔ لیکن ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ مذہبی فاشسٹ اسلام کا نام لے کر کتنی بڑی تباہیاں لاتے رہے ہیں ۔ یہ مذہبی فاشسٹ ہمیں تاریخ کے سیاہ ادوار کی جانب واپس دھکیلنا چاہتے ہیں ۔
ان کے سفاکانہ حملوں ، شدید خونریزی اور ان کی بھڑکائی ہوئی جنگوں میں لاکھوں انسانوں کے قتل ہونے کے باوجود دنیا اب تک انہیں ایک بڑا نظریاتی خطرہ سمجھنے سے گریز کر رہی ہے ۔ ان کو صرف شرپسندوں کا ایک ٹولہ سمجھا جا رہا ہے ، یا جیسے غاروں میں رہنے والوں کی ایک غیر منظم فوج ہو جس کو فوجی طاقت استعمال کرکے ختم کیا جاسکتا ہے ۔
لیکن اس مفروضے سے ہمیں اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر سے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے مسلمان نوجوان ان کے ساتھ شامل ہورہے ہیں ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ مغرب میں رہنے والے ہزاروں مسلمان نوجوان مغربی ممالک کو چھوڑ کر ISIS میں شامل ہو رہے ہیں ؟ آکر کیوں نوجوان مسلمان رضاکارانہ طیاروں کوا غوا کرکے ٹوئن ٹریڈ ٹاورز سے ٹکرانے پر آمادہ ہوگئے ؟ برطانیہ کے چند نوجوان مسلمانوں نے آخر کیوں سات جولائی کو اپنے ہم وطن شہریوں کو قتل کیا ؟ ایک نوجوان فرانسیسی مسلمان نے آخر کیوں اپنے ہی ملک کے ہیروز کو اپنی ہی سرزمین پر قتل کردیا ؟ آخر کیسے کوئی ماں اس بات کی اجازت دے سکتی ہے کہ 18 اکتوبر 2007 کو شہید بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے میں اس کے معصوم شیر خوار بچے کو بم کے طور پر استعمال کیا جائے ؟
دنیا کے لئے اسلامی فاشزم کا خطرہ مقابلتا ایک نیا خطرہ ہے ۔ طالبان سے لے کر القاعدہ سے لیکر بوکو حرام سے ISIS تک کہانی وہی ہائیڈرا جیسی پرانی کہانی ہے ۔ ایک سر کٹتا ہے تو دو نئے پیدا ہوجاتے ہیں ۔ دنیا کے لئے یہ خطرہ ایک نیا خطرہ ہوسکتا ہے میرے لئے یہ ایک نیا خطرہ نہیں ہے ۔
میری والدہ شہید بینظیر بھٹو کو ان ہی مذہبی فاشسٹوں نے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے شہید کیا ۔ اور ان پر مذہبی فاشسٹوں کی جانب سے کیا جانے والاقاتلانہ حملہ میری والدہ پر ان کا پہلا حملہ نہیں تھا ۔
1988 میں جب وہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں تو اسامہ بن لادن نے ان کی حکومت گرانے کے لئے پاکستان کے حزب اختلاف کو کثیر سرمایہ فراہم کیا تھا اور ان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرانے کے لئے اس سرمائے سے بھرپور کوششیں کی گئی تھیں ۔
جب وہ دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو ٹوین ٹاورز پر پہلے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے یوسف رمزی اور ملا عمر نے مل کر ان کو قتل کرانے کی کوشش کی لیکن اس میں وہ ناکام رہے ۔
ان کے دونوں بھائی ، میرے ماموں ، مذہبی فاشسٹوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔
جب میری عمر صرف ایک سال کی تھی تو اسلامی فاشسٹوں نے مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی ۔
اسلامی فاشزم کی بنیاد میرے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین نے رکھی تھی ۔ وہ اس بہانے سے اپنے فوجی انقلاب پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے اور بھٹو شہید کے قتل اور اپنی آمرانہ حکومت کا مذہبی جواز پیش کرنا چاہتے تھے ۔ اگلے گیارہ سال میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی حکومت میں پاکستان دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا جس نے اسلامی فاشزم کے لئے جگہ پیدا کی تھی ۔ دنیا نے بہت بڑی غلطی کی اور پہلی افغان جنگ میں پاکستان کی کلیدی اہمیت کی وجہ سے اس اسلامی فاشسٹ کی حمایت کی ۔ اس دوران تمام دنیا پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم میرے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی غیر آئینی حکومت کی برطرفی اور ان کے قتل پر خاموش تماشائی بنی رہی ۔
1980 کی دہائی میں شہید بینظیر بھٹو بار بار یہ انتباہ کرتی رہیں کہ سویت یونین کے خلاف مجاہدین کو ہتھیار سپلائی کرکے ، ٹریننگ اور امدا ددے کر ایک نئے عفریت کو جنم دیا جارہا تھا جو آخر کار دنیا بھر میں تبا ہی مچائے گا ۔ لیکن دنیا نے ان کے اس انتباہ پر کان نہیں دھرے ۔ دنیا نے ان لوگوں کو مجاہدین آزادی کا نام دیا اور ان کو جارج واشنگٹن کا اخلاقی ہم پلہ قرار دے دیا ۔
9/11 کے بعد شہید بینظیر بھٹو نے ایک بار پھر انتباہ کیا کہ دوغلی پالیسیوں کو ترک کیا جائے لیکن ایک بار پھر دنیا نے ان کے اس انتباہ کو نظر انداز کر دیا ۔
بیک وقت ایک جانب آمروں کے لئے مکمل سپورٹ اور دوسری جانب جمہوریت کے راگ الاپنا ایک کھلی منافقت تھی جس سے صرف ظالموں کے ہاتھ مضبوط ہورہے تھے اور جو فقط اپنے پیر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا ۔پاکستان میں آمریت کسی بھی حالت میں اسلام کا نا م لے کر مذہبی فاشزم پھیلانے والوں کے خلاف موثر حل نہیں بن سکتی تھی ۔
اپنی آخری انتخابی مہم کے دوران اور ان کی شہادت کے بعد شائع ہونے والی ان کی کتاب \”Reconciliation\” کے اوراق میں شہید بینظیر بھٹو نے اسلام کے نام پر مذہبی فاشزم پھیلانے والوں سے نمٹنے کے لئے ایک روڈ میپ کے خد و خال واضح کئے ہیں۔ اس مسئلے کا حل مفاہمت ، جمہوریت اور خطے کی تعمیر نو کے لئے ایک نئی ما رشل پلان میں پنہاں تھا ۔ لیکن دنیا شاید ایک بہت بڑی مندی سے دو چار تھی اوردس سال کی طویل جنگ سے بیزار ہوچکی تھی ۔ ایک بار پھر دنیا نے ان کی اس نصیحت کو نظر انداز کردیا ۔
میں بھٹو خاندان کی تیسری نسل ہوں جو مذہبی فاشزم کو چیلنج کر رہی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ میری بات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ۔
سرد جنگ کے اختتام کے بعد اسلامی فاشزم کا پھیلاؤ شاید اس وائرس کی صرف ایک ہی شاخ ہے جو اس وقت جدید مہذب دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے ۔ یاد رکھئے کہ مذہبی فاشزم صرف اسلامی دنیا تک محدود نہیں ہے ۔
ہر چند کہ9/11 کے بعد گفتگو کا محور اسلامی فاشزم رہی ہے لیکن نذہبی فاشزم کی دوسری اقسام بھی اتنی ہی خطرناک ہیں ۔
عیسائی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر مذہبی فاشسٹ امریکہ میں ڈاکٹروں اور ننھے بچوں کو قتل کر رہے ہیں ۔
یہودی مذہب کے لبادے میں مذہبی فاشسٹ فلسطین میں معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں اور ان کو غلام بنا رہے ہیں ۔
مذہبی فاشسٹوں کا سب سے کارگر ہتھیار خوف ہے ۔ وہ اپنی دہشت گردی کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کرتے ہیں ۔ وہ ہمیں ایسی جنگوں میں الجھا دیتے ہیں جن کا سلسلہ ختم نہیں ہوپا تا ۔ وہ ہمیں خوفزدہ کرکے ہمیں اپنے ترقی پسند نظریات ترک کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ہم اپنی آزادیوں اور حقوق سے خود بخود دست بردار ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ہم مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے وسائل کو لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ نہ کرسکیں ۔ مذہبی فاشسٹ ہماری جمہوریتوں کو خوف ، نفرتوں اور تشدد سے بھر دیتے ہیں ۔ وہ ایمان کو مسلح کردیتے ہیں ، دین پر اپنی اجارہ داری قائم کرلیتے ہیں اور سماج کو دہشت زدہ کرکے امیدوں کے چراغ گل کردیتے ہیں ۔
اس کی آخر کیا وجہ تھی کہ عراقی فوج نے اپنی وردیا ں اتار پھینکیں ، امریکی اسلحہ کو پھینک دیا ، مورچوں سے بھاگ گئے ، اپنے عوام کو تنہا کردیا اور مذہبی دہشت گردوں کی ایک غیر منظم چھوٹی سی فوج کے سامنے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ۔اس لئے کہ ISIS کی کہیں زیادہ قلیل اور نچلے درجے کے ہتھیار رکھنے والوں کی غیر منظم فوج کا دعوی تھا کہ خدا ان کے ساتھ ہے ۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم ایک جبرو تشدد کے سماج کی جانب ان کے اس قتل و غارت سے بھرے ہوئے ہوئے راستے کو ایک نظریاتی خطرہ نہیں سمجھتے ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کا دعوی یہ نہیں ہے کہ وہ اس قتل و خون کے راستے سے گزر کر لوگوں کو کوئی مثالی اور خوشحال معاشرہ دے سکتے ہیں ۔ بلکہ ان کا دعوی ہے کہ قران ، انجیل اور توراۃ ان کو یہ مثالی معاشرہ دیں گے ۔ اب اس دلیل کو خدا کے علاوہ کوئی اور رد نہیں کرسکتا ۔
ہمیں صاف طور پر یہ سمجھنا چاہئیے کہ موجودہ مہذب معاشرے کے لئے یہ ایک شدید نظریاتی خطرہ ہے جس کو ایک طاقتور مذہبی لبادہ اڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ خطرہ سیدھی فاشزم سے کہیں بڑا خطرہ ہے ۔ مذہبی فاشزم کی جنگ لڑنے والے دیکھنے میں ناخواندہ اور جاہل نظر آتے ہیں لیکن جو نظریات وہ پھیلا رہے ہیں وہ معاشرے پر اسی طاقت سے اثر انداز ہورہے ہیں جس طر ح کوئی بھی امن پسند مذہب اثر انداز ہوتا ہے ۔
ظاہری طور پر یہ ایک خوفناک اور ناممکن صورتحال نظر آتی ہے ۔ آخر اس نظریاتی یلغار کو کس طرح روکا جاسکتا ہے ؟
میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد اور دوسر ی سے پہلے کے بھیانک معاشی ڈپریشن پر صدر روزولٹ نے کہا تھا، ’’ہمارا دشمن صرف ہمارا اپنا خوف ہے ۔ ہمیں کسی بھی اور چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ‘‘۔
اس سے قطع نظر کہ دنیا کے کون سے ملک میں یہ ہائیڈرا اپنا سر ابھارتا ہے ، پاکستان ہو ، فرانس ہو ، عراق ، برطانیہ یا پھر امریکہ ہی کیوں نہ ہو مذہبی فاشزم کے زہر کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ صرف اور صرف جمہوریت ہے ۔ انسانیت کے پاس جمہوریت ہی سب سے بڑا نظریاتی ہتھیار ہے اور ہمیں مذہبی فاشزم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی تمامتر قوت کو بروئے کار لانا چاہئیے ۔
ہمیں غاروں کے ان باسیوں کو میدان جنگ میں چیلنج نہیں کرنا ۔ ہمیں خود اپنے آپ کو چیلنج کرنا ہے ۔ ہمیں اپنے ممالک کو چیلنج کرنا ہے ۔ ہمیں اپنی جمہوریتوں کو چیلنج کرنا ہے ۔
ہم جس ملک کے بھی شہری ہوں ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا ہماری جمہوریت ، ہمارا ملک اور ہم خودکیا اسقدر اچھے ہیں جتنا کہ ہم ہوسکتے ہیں ؟
جمہوریت ہم سے چند بنیادی اصولوں کی پاسداری کی توقع رکھتی ہے ۔ یہ ہم سے وعدہ کرتی ہے کہ ہر ایک کو مساوات ، عزت نفس ، انصاف ، زندگی کا احترام ، آزادی ، خوشیاں حاصل کرنے کی جستجو اور بجا طور پر عالمی امن فراہم کرنے کیا جائے گا۔ اب ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہے کہ آخر ہماری جمہوریتیں ہمیں یہ تمام چیزیں فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہی ہیں ۔
ہر ملک کے اپنے اپنے چیلنج اور مسائل ہیں ۔ کچھ ممالک زیادہ جمہوری ہیں اور کچھ کم ۔ دوسروں کے مقابلے میں کچھ ممالک میں زیادہ مساوات پائی جاتی ہے ۔ کہیں انصاف دوسروں سے زیادہ ہے ۔ کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پرامن ہیں ۔
لیکن صرف یہ وجہ کہ جمہو ریت وہ ساری توقعات پوری نہیں کرسکی ہے جن کی اس سے توقع کی جاتی تھی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آگے چل کر بھی جمہوریت ان توقعات پر پوری نہیں اترے گی ۔ ہمیں اپنے آپس کے اختلافات کے باوجود اتحاد اور مفاہمت کے راستے پر آگے بڑھنا ہے ۔ہمیں اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے ۔ ہمیں نئی راہیں تلاش کرنی ہیں اور جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے ۔
ہمیں عالمی سطح پر ایک ایسا معاہدہ عمرانی تشکیل دینا ہے جو بلا تفریق نسل و رنگ ، مذہب و قومیت تمام نوع انسانی کی خوشحالی کا ضامن ہو ۔
اور میں آج اسی مقصد سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔ سینیٹر جہانگیر بدر کی مرتب کردہ ’’بینظیر پیپرز‘‘ کی پہلی جلد جمہوریت کے لئے اور ضیا الحق کی اسلامی فاشسٹ آمریت کے خلاف میری والدہ کی دلیرانہ جد و جہد کا براہ راست احوال ہے ۔ میری والدہ کی شہادت کے بعد شائع ہونی والی ان کی لکھی ہوئی کتاب \”Reconciliation\” جو ان کا منشور بھی ہے اور ان کی خود نوشت سوانح \”Daughter of the East\” انتہائی وضاحت کے ساتھ پاکستان میں مذہبی فاشزم کے خلاف بھٹوخاندان کی جمہوریت کے لئے جدو جہد کا احاطہ کرتی ہیں ۔
لیکن اس جد و جہد میں ہمارے علاوہ دوسروں کا بھی حصہ ہے ۔
فلسطینی ، شامی ، مصری ، لیبیا کے عوام ، اور بہت سے دوسرے بھی ہیں جن کے اپنے اپنے تجربات ہیں اور جن سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے لئے ہمیں ان لوگوں کی بات توجہ سے سننی ہوگی جو اس مصیبت کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ اس وقت شاید صر ف مذہبی فاشسٹوں کی بات سنی جارہی ہے ۔
مجھے علم ہے کہ اس وقت دنیا اسامہ بن لادن کو پاکستان کا اصل چہرہ گردانتی ہے ۔ لیکن وہ تو سرے سے پاکستانی تھا ہی نہیں ۔ پاکستان کے اصل چہرے شہید ذوالفقار علی بھٹو ، شہید سلمان تاثیر ، شہید شہباز بھٹی ، نوبل امن انعام جیتنے وا لی نوجوان ملالہ یوسف زئی اور ہمارے لوگوں کی وہ غالب اکثریت ہیں جو مذہبی فاشزم کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے کو ترجیح دیں گے لیکن ان کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ عراق کا ا صل چہرہ ISIS نہیں ہے ۔ افغانستان کا اصل چہرہ طالبان نہیں ہیں ۔ غازہ کا اصل چہرہ صرف حماس ہی نہیں ہے ۔ مصر کا اصل چہرہ صرف جنرل سیسی اور اخوان مسلمین ہی نہیں ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے فرانس کا اصل چہرہ ٹولوز اور مونٹوبان کے دہشت گردنہیں ہیں ، جیسے برطانیہ کا اصل چہرہ سات جولائی کے بمبار یا جیمز فولی کے قاتل نہیں ہیں ۔ امریکہ کا اصل چہرہ ٹموتھی میک وے یا بوسٹن کے بمبار نہیں ہیں ۔
شاید یہ چیلنج ناقابل تسخیر نظرآتا ہو لیکن ان مسائل کا حل کافی سادہ ہے ۔ جمہوریت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم عوام کی بات سنیں اور ہمیں عوام کی بات غور سے سننی چاہئیے ۔ اور ہم یقیناًفتح مند ہونگے۔
ہماری پاکستان پیپلز پارٹی میں ایک روایت ہے کہ ہم اپنی تقاریر کو سیاسی تعروں پر ختم کرتے ہیں ۔ میں آج یہی کچھ کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ فرانسیسی میں یہ نعرے آپ سب سمجھ لیں گے۔
انقلاب زندہ باد
آزادی زندہ باد
مساوات زندہ باد
اخوت زندہ باد
جمہوریت زندہ باد
فرانس زندہ باد
پاکستان زندہ باد
بھٹو زندہ باد
جئے ، جئے ، جئے بھٹو

b08oj4xccaa9asv

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں