Mian Manzoor Wattoo constitutes monitoring committees for seven districts of Punjab

201210182548_samaa_tv
Mian Mazoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has said that the PPP was neither in favour of Dharna politics nor in favour of the undertakers of this kind of politics because of its devastating aftermaths for the political system in the country. He said this while talking to media after the meeting under his chair in which seven Monitoring Committees for seven districts of Punjab were constituted.
While responding to a question he said that the PPP had also serious reservations of 2013 elections adding how it was possible that his opponent got 118 thousands whom he defeated in 2008. Those were ROs elections by any measure, he asserted.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo further said that he respected PTI Chief as the respectable politician of the country but regretted that he had put at stake his political career on the resignation of the Prime Minister.
He argued as how Prime Minister could tender his resignation while he was having two thirds majority in the House, all opposition parties were with him and Parliament was supporting him.
He predicted that Imran Khan would not be able to prolong his Dharna politics like Tahir-ul-Qadari and thereafter the people would question him about the fate of his “New Pakistan.” He will not be able to satisfy the people adding that his graph of popularity would plunge resultantly to the lowest level as the people would get frustrated from him and his style of politics.
He maintained that he should have not put his political career at stake by insisting resignation of the Prime Minister through the politics of sit-in.
Mian Manzoor while answering another question opined that the present government had made the lives of the people miserable due to the excessive load shedding of electricity which was too expensive also.
He added that while a consumer who used to pay Rs. 5,000 electricity bill previously now he had to pay around Rs, 15, 0000 which was not affordable.
He put the question to the Punjab Chief Minister who used to protest electricity load shedding at Minar-e-Pakistan while holding handmade fan.
He pointed out that after the lapse of one and half year the load shedding of electricity had worsened besides its being too expensive to afford.
He stated that the farmers of the province were the worst hit due to load shedding of electricity after each hour because the tubes well were unable to operate to the sufficient level to meet the irrigation requirements of farmers.
He demanded that the government should ensure supply of three hours uninterrupted supply of electricity to tube wells on the pattern as PPP previous government used to do to meet the irrigation requirements of the farmers.
Earlier, in the meeting the Monitoring Committees of seven districts were constituted which included, Rawalpindi District and City, Raja Imran Ashraf, Convener, Shahjehan Sarfraz Raja, Qazi Sultan as members, Sargodha District and city, Nadeem Afzal Chann, Convener, Manzoor Khan Bhatti and Nisar Ahmed Razi as members, Mandi Bahuddin, Thair Akhtar Convener, Fakhar Pagganwala and Chaudhry Tariq Gujjar as members, Faisalabad district and city, Mehar Ghulam Farid Kathia, Convener, Qazi Ali Hassan and Zulfiqar Ahmed Zulfi as mebers, district Shaeikhupura, Milk Nawab Sheer Waseer, Conener, Rai Shahjehan Bhatti and Chaudhry Amjad Meyo as members, Okara, Tasneem Ahmed Qureshi Convener, Abdul Qadir Shaheen and ASEF Khan members, Lahore-4, Haji Aziz-ur- Rehman Chann, Convener, Mian Ayub and Tariq Shabir as members.
Tanvir Ashraf Kaira, Secretary General PPP.Punjab and Manzoor Maneka were also present in the meeting.

پیپلز پارٹی پنجاب کی مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس آج یہاں صدر پیپلز پارٹی پنجاب میاں منظور احمد وٹو کی زیر صدارت ہوا جسمیں پنجاب سے 7 ضلعوں کی مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تا کہ وہ ان ضلعوں میں جا کر پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں صدر پیپلز پارٹی پنجاب کو رپورٹ دیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے اس اجلاس کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ دھرنوں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی دھرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک میں سیاسی نظام کی تشکیل کے لیے کامیاب جدوجہد کی ہے اور کر رہی ہے اور وہ یہ نہیں چاہتی کہ غیر جمہوری طاقتیں آکر اس نظام کو خراب کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ عمران خان سے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے اتفاق کرتے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی نے بھی ان انتخابات کو آر اوز(RO\’s) کے انتخابات قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انکے مدمقابل کو ایک لاکھ آٹھ ہزار ووٹ کہاں سے آئے جبکہ انکو چوالیس ہزار ووٹ ملے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عمران خان کی بحیثیت ایک سیاسی لیڈر کے قدر کرتے ہیں لیکن انہوں نے دھرنے اور وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے پر اپنا سیاسی کیرےئر داؤ پر لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کیسے استعفیٰ دے سکتے ہیں جبکہ انکے پاس پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت ہے، اپوزیشن پارٹیاں انکے ساتھ ہیں تو وہ استعفیٰ کیوں دیں گے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ عمران خان بھی دھرنوں کی سیاست کو طاہر القادری کی طرح طویل نہیں کر سکیں گے تو پھر لوگ ان سے پوچھیں گے کہ آپکا نیا پاکستان کہاں گیا جسکا وہ تسلی بخش جواب نہیں دے پائیں گے اور عمران خان کا گراف بڑی تیزی سے گرے گا۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قوم کے لیے مسائل ہی مسائل پیدا کر دےئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ مینار پاکستان میں ہاتھ والے پنکھے سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے تھے، اب ڈیڑھ سال کے بعد بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہے۔انہوں نے کہا کہ کسان اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ایک ایک گھنٹے کے بعد بجلی کی فراہمی سے پانی کھیت کے دوسری جانب نہیں پہنچتا کہ ٹیوب ویل بندہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں بجلی کی تین تین گھنٹے کے بعد بلاتعطل فراہمی سے آبپاشی کا نظام کافی حد تک ٹھیک جا رہا تھا۔ انہوں نے بجلی کی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں اگر کوئی صارف 5 ہزار بل دیتا تھا تو اب وہ 15 ہزار روپے بجلی کا بل دینے پر مجبور ہے جو شہریوں کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ اس سے قبل اجلاس میں سات ضلعوں میں مانیٹرنگ کمیٹیاں بنائی گئیں جن میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ اور راولپنڈی شہر کی کمیٹی میں راجہ عمران اشرف، کنوینےئر، شاہ جہاں سرفراز راجہ، ممبر، قاضی سلطان ممبر، سرگودھا ڈسٹرکٹ اور سرگودھا شہر سے ندم افضل چن کنوینےئر، منظور خان بھٹی ممبر، نثار احمد راضی ممبر، منڈی بہاؤالدین سے ملک طاہر اختر کنوینئیر، فخر پگاں والا، چوہدری طارق گجر ممبر، فیصل آباد ڈسٹرکٹ اور فیصل آباد شہر سے مہر غلام فرید کاٹھیا کنوینےئر قاضی علی حسن ممبر، ذوالفقار احمد ذلفی ممبر، ضلع شیخوپورہ سے ملک نواب شیر وسیر کنوینےئر ،رائے شاہ جہاں بھٹی ممبر، چوہدری امجد میو ممبر، اوکاڑہ سے تسنیم احمد قریشی کنوینےئر، عبد القادر شاہین ممبر، آصف خان ممبر اور لاہور فور سے حاجی عزیزالرحمن چن کنوینےئر، میاں ایوب ممبر، طارق شبیر میو ممبر شامل ہیں۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل تنویر اشرف کائرہ اور منظور احمد مانیکا بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں