مفاہمت کی سیاست ۔۔۔۔۔۔۔ضمیر نفیس

صدر مملکت آصف علی زرداری نے عید الضحیٰ کے موقع پر متعدد سیاسی شخصیات کو فون کرکے انہیں عید کی مبادکباد پیش کی اس موقع پر بات چیت کے دوران انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ ملک میںسیاسی ماحول کو خوشگوار رکھنے کیلئے حکومت مفاہمت کی سیاست کو جاری رکھے گی مفاہمت کی سیاست کی اصطلاع شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے تدبر اور ان کی فراست کا نتیجہ ہے انہیں اگر ملک وقوم کی خدمت کرنے کا موقع ملتا تو یقیناً وہ خود مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیتیں لیکن انہیں دہشتگردوں نے شہید کردیا چنانچہ وہ سیاست اور معیشت کے شعبہ میں اس روڈ میپ پرعمل نہ کرسکیں جس کا انہوں نے تعین کررکھا تھا تاہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری نے صدر مملکت کی حیثیت سے ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد شہید لیڈر کے مفاہمت کی سیاست کے فلسفے پر عمل شروع کردیا مفاہمت کی سیاست کا فلسفہ دراصل جمہوریت کے استحکام کے سمت جانے والا راستہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پاکستان میں انتقام اور محازآرائی کی روایتی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنا ہے اور تمام جماعتوں کے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ہے جبکہ سیاسی مسائل کو مل بیٹھ کربات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے یہ مفاہمت کی سیاست کا اصول ہی تھا جس کے تحت صدر مملکت آصف علی زرداری نے ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد رائے ونڈ کادورہ کیا اور میاں نواز شریف سے ملاقات کی پاکستان پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کے ایوان میں حکومت سازی کیلئے اگر چہ مسلم لیگ (ن) کے تعاون کی قطعی ضرورت نہ تھی اس کے باوجود اسے حکومتی اتحاد میںشامل کیا گیا وجہ محض یہی تھی کہ سیاست میں محاز آرائی کے بجائے مفاہمت کی روش اختیار کی جائے اور تمام جماعتیں مل جل کر قوم کو مختلف بحرانوں سے نکالنے کے سلسلہ میںاپنا مشترکہ کردار ادا کریں تاہم مسلم لیگ (ن) جو پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار ہوئی چند ہی ماہ بعد اس نے اقتدار سے علیحدگی اختیار کرکے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوانوں میںاپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا یہ بھی مفاہمت کی سیاست تھی کہ صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کے عوام سے ان کی تعمیر وترقی کے سلسلے میں ماضی کی حکومتوں کی غفلت اور کوتاہیوں پر معافی مانگی اور اس کے ازالے کا وعد ہ کیا اوریہ ریکارڈ کی بات ہے کہ اس وعدے کی تکمیل کے سلسلے میں آغاز حقوق بلوچستان کا پروگرام سمیت متعدد اقدامات کئے بلوچستان کی سیاست میں مفاہمت کے فروغ کے حوالے سے صدر مملکت کا فیصلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا جس کے تحت مشرف دور میں صوبے کے سیاسی لیڈروں اورکارکنوں کے خلاف قائم تمام مقدمات کو ختم کرکے ان کی رہائی عمل میں لائی گئی پاکستان کے سیاسی اورجمہوری ادوار کی مدت آمرانہ فوجی ادوار کے مقابلے میں بہت کم رہی منتخب حکومتوں کازیادہ سے زیادہ دورانیہ تین سال تک رہا جبکہ فوجی اور مارشل لاء حکومتیں دس دس برسوں تک قائم رہیں ستم ظریفی تو یہ تھی کہ اپنے محدود دورانیہ میں بھی برسراقتدار حکومتوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے اور کچلنے کیلئے ریاستی وسائل استعمال کئے اورانتقامی سیاست کو فروغ دیا لیکن اس پس منظر میں 2008 میں قائم ہونے والی موجودہ جمہوری حکومت نے ایک نئے سیاسی اسلوب کو تخلیق کیا کسی مخالف کے خلاف کوئی مقدمہ قائم ہوا نہ اسے کچلنے کیلئے ریاستی وسائل استعمال کئے گئے اس کے برعکس اختلاف رائے اور تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی دوسری طرف ناقدین اورمخالفین کے انتہا پسندانہ رویے کا یہ عالم تھا کہ حکومت کو قائم ہوئے بمشکل ایک سال ہی ہوا تھا کہ اس کے رخصت ہونے کی تاریخیں دی جانے لگیں مگر عوام کو گمراہ کرنے اورجمہوریت کے بارے میں اس درجہ کی بد گمانیوں پر بھی سیاست اور میڈیا کو متعلقہ شخصیات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی حکومت کا یہ طرز عمل دراصل سیاست میں اس نئے اسلوب کی غمازی کررہاتھا جس کے سونے مفاہمت کی سیاست اور جمہوریت کو فروغ دینے کے عزم سے پھوٹتے ہیں اس مثبت سیاست ہی کا یہ اعجاز ہے کہ آج جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کو ہے آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ اپنا بھر پور آئینی کردار ادا کررہے ہیں حزب اختلاف کی آزادی کاتو یہ عالم ہے کہ بسا اوقات یہ اپنے آئینی کردار اور اخلاقی حدود سے بھی تجاوز کرجاتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی مفاہمت کی سیاست نے یقیناً جمہوریت کے استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اب سیاست کو ماضی کے منفی راستوں پر کبھی واپس نہیں لے جایا جاسکتا یہ اس دور کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

Source: Daily Asas

اپنا تبصرہ بھیجیں