PPP will not rest till culprits of Model Town incident are not brought in the dock, Mian Manzoor Wattoo‏

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has said that the Gullu Butt have been awarded eleven years of punishment and fine for smashing windscreens of vehicles in June this year adding but what about those who murdered fourteen innocent civilians and injured ninety others through the use of blatant Punjab police force in the Model Town incident.
They are still free and the iron hand of law had failed to grab them by the neck so far to bring them in the dock to face justice, he added this in a statement issue from here today.
He observed that it was the travesty of justice and the people would start hating such a justice system which was essentially discriminatory in nature and therefore unable to meet the imperatives of justice.
He cited the one case during the Prophet Muhammad (peace be upon him) times in which a women was sentenced of chopping of her hand on the measurable crime she committed. The Prophet (PBUH) rejected the submission made by the elders to pardon her by asserting that He would award the same punishment if His own daughter had committed the crime of the same nature.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo maintained that it was exceptionally a shinning example of good governance and an unprecedented case of administration of justice in the supreme sense devoid of any layer of discrimination.
The fair application of law is the basis of a civilized society as the discrimination in the enforcement of law will tantamount to the law of jungle where might is always right, he observed.
He maintained that the societies may survive through the suppression and persecution of a tyrannical system but societies based on flawed justice system would meet inevitable disintegration without a fear of contradiction.
He expressed the resolve of the PPP not to rest till the victims of the Model Town incident were not awarded justice and the culprits were not given punishment of the crime they committed.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گلو بٹ کو گاڑیوں کے شیشے توڑنے کی پاداش میں 11 سال کی سزا اور جرمانہ بھی ہو گیا ہے لیکن جنکے حکم پر ماڈل ٹاؤن میں اس سال جون کو 14 لوگوں کو قتل کیا گیا اور 90 سے زائد لوگ زخمی ہوئے وہ ابھی تک قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے انصاف کے نظام سے لوگ نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں پر امیر کے لیے کوئی اور قانون ہو اور غریب کے لیے کوئی دوسرا قانون ہو اور نظام عدل ایک مذاق نظر آئے ۔ میاں منظور احمد وٹو نے حضرت محمدﷺ کے زمانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انکے زمانے میں ایک خاتون کو اسکے ہاتھ کاٹنے کی سزا دی گئی۔ وہاں کے معززین نے آنحضرت ﷺ سے التجاء کی کہ اس عورت کی سزا معاف کر دی جائے اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر اسی طرح کے جرم میں انکی بیٹی بھی ملوث ہوتی تو وہ انکی سزا بھی معاف نہ کرتے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اس واقعہ سے اسلام میں نظام عدل کی اسلامی معاشرے میں اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہذب معاشرے میں قانون کی بالادستی ہوتی ہے اور یہ سب کے لیے برابر ہوتا ہے جن معاشروں میں قانون کی حیثیت امتیازی ہو وہ معاشرہ ایک ایسا جنگل ہوتا ہے جہاں پر غلط اور صحیح کا تعین طاقت سے ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرہ ظلم وستم کے نظام سے تو سرخرو ہو سکتا ہے لیکن ایسا معاشرہ جسکی بنیاد انصاف پر مبنی نہ ہو وہ تباہی سے بچ نہیں سکتا۔ میاں منظور احمد وٹو نے پیپلز پارٹی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اسوقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا نہیں مل جاتی۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں