Mian Manzoor Ahmed Wattoo demands fixation of support prices of Basmati rice, Phutti and maze

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has warned the government that PPP would join the dharnas of All Pakistan Kissan Ittehad if it failed to fix the support prices of Moonji, Basmati rice, Phutti and Maze.
He said this in a statement issued from here today adding that the government was solely responsible for the big losses to the farmers who could not get due returns of their hard work due to the non announcement of support prices.. The criminal negligence of the government is the physical manifestation of the present government’s anti- farmer’s policies, he asserted.
He demanded that the government should immediately fixed the support price of Basmati rice at the rate of Rs. 2000 and monji Rs 1200 per forty KG and Phutti Rs. 5000 which was the rate during the PPP previous government.
He also demanded that the import of potatoes from India should be banned or imposes detrimental duty on its import in the face of Indian farmers getting high rates of subsidy from the government in water, diesel, electricity, tractors and other inputs.
He recalled that the PPP government increased the support price of wheat substantially that led the country to become the wheat exporting country the next year rather than the wheat importing country for the last many years.
He also mentioned that the export of textile products were dollars 9 billions when PPP government came to power adding these touched the figure of 14 billion dollars at the expiry of its term in 2013.
He regretted that the whole textile industry was in a state of disarray now due to the excessive load shedding of electricity resulting in decline of exports, causing billion of dollars losses to the national economy. He pointed out that the government has failed to cash on the GSP plus tariff concessions given by European Union to Pakistani textile exports. Exports of textile have shown decrease instead of increase, he pointed out.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo demanded that the tube wells should be supplied undisrupted supply of electricity for three hours instead of one hour after each hour. The present mechanism of supplying electricity to tube wells after one hour does not meet the irrigation requirements of farmers adding three hours uninterrupted supply will serve the purpose of irrigation to a large extent.
He expressed his dismay over the inordinate delay as the government had not been pushed in introducing this system despite the vociferous demand of the farmers’ community.
He further said that the government should encourage the installation of solar tube wells by offering at least 50% subsidy to the farmers as decided by the PPP government. It will serve duel purpose of meeting the requirements of the farmers and also the lesser the load on the national grid system, he pointed out.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے فوری طور پر مونجی، باسپتی چاول، پھٹی اور مکئی کی سپورٹ پرائس کا فوری طور پر اعلان نہ کیا تو پیپلز پارٹی آل پاکستان کسان اتحاد کے ساتھ دھرنوں میں شامل ہو گی۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس کوتاہی کی وجہ سے کسانوں کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ یہ مجرمانہ غفلت موجودہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر باسپتی چاول کی قیمت 2000 روپے فی چالیس کلو گرام، مونجی کی قیمت 750 روپے، پھٹی کی قیمت 5000 روپے سپورٹ پرائس کا اعلان کرے۔ میاں منظور احمد وٹو نے مطالبہ کیا کہ ہندوستان سے آلو کی درآمد پر پابندی لگائی جائے اور اگر اسے درآمد کرنا مقصود ہو تو اس پر امپورٹ ڈیوٹی عائد کی جائے کیونکہ ہندوستان کے کسانوں کو حکومت کی طرف سے کھاد، پانی، بجلی، ڈیزل اور دوسری زرعی مراعات کی فراہمی کے لیے زبردست سبسڈی ملتی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائس کو بڑھایا تھا جس سے ملک گندم برآمد کرنیوالے ملکوں کی کلب میں شامل ہو گیا جبکہ اس سے قبل پاکستان کئی سالوں سے گندم درآمد کر رہا تھا۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو اسوقت ٹیکسٹائل کی برآمدات تقریباً 9 ارب ڈالرسالانہ تھی لیکن حکومت کی اچھی پالیسیوں کی بدولت ٹیکسٹائل کی برآمدات 14 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جب پیپلز پارٹی پنجاب کی مدت پوری ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اسوقت بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات بتدریج کم ہو رہی ہیں، اسکے علاوہ حکومت یورپین یونین کی جی ایس پی پلس کی سہولت سے بھی فائدہ نہیں اٹھا رہی جس سے ملک کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے پھر مطالبہ کیا کہ ٹیوب ویلوں کو ایک ایک گھنٹے کی بجائے تین تین گھنٹے کی بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ایک ایک گھنٹے کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پانی کھیت کی دوسری جانب نہیں پہنچ سکتا۔ انہوں نے باور کروایا کہ یہ نظام پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں کسانوں کی تسلی کے مطابق چل رہا تھا جس سے انکی آبپاشی کی ضروریات بخوبی پوری ہو رہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت کسانوں کے اس مطالبے پر کیوں عمل نہیں کر رہی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سولر ٹیوب ویلوں پر 50 فیصد سبسڈی کسانوں کو دے تا کہ اسکے عملدآمد سے کسانوں کی آبپاشی کی ضروریات بھی پوری ہوں اور نیشنل گرڈ پر اسی تناسب سے بوجھ بھی نہ پڑے۔ انہوں نے یاددلایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سولر ٹیوب ویلوں پر 50 فیصدی سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں