Kaira urges judiciary to exercise restraint

ہم عدالتی معاملات پر بات نہیں کرتے تو عدالتوں کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہئے; کائرہ

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمر زمان کائرہ نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی جے آئی کی تشکیل کا اقرار کرنے پر جنرل حمید گل کے خلاف فوج اور سپریم کورٹ نوٹس لیں۔جنرل حمید گل نے ملک کی جو خدمت کی ہے وہ قوم کے سامنے ہے ،جنرل (ر)حمید گل اپنا لہجہ اور زبان کو قابو میں رکھیں،عدلیہ کالاباغ ڈیم کے معاملے میں مداخلت نہ کرے ،سیاسی معاملات کو سیاسی اداروں نے حل کرنا ہے ، جب ہم عدالتی معاملات پر بات نہیں کرتے تو عدالتیں بھی سیاسی معاملات پربات کرنے سے گریزکر یں ، مداخلت جاری رکھی گئی تو یہ معاملات عدالتوں کوالجھا دینگے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ 1990 کے الیکشن میں آئی جے آئی کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے حمید گل کا اعترافی بیان سب کے سامنے ہے ،حمید گل پاکستان کے حالات پر رحم کریں اور منتخب عوامی نمائندوں اور اداروں کا اپنا کام کرنے دیں۔انہوں نے کہا کہ حمید گل کہتے ہیں کہ انہوں نے آئی جے آئی کی تشکیل میں کردار ذاتی حیثیت میں کیا ،وہ وضاحت کریں کہ ایک جنرل کی حیثیت سے فوج کے ادارے کو استعمال کر کے انہوں نے جو کام کیا وہ ذاتی حیثیت میں کیسے ہو سکتا ہے ۔آئی جے آئی کی تشکیل کا مقصد پیپلز پارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنا تھا کیونکہ 1990 ءکے انتخابات میں کوئی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی ۔انہوں نے مزید کہا کہ حمید گل کو یہ اختیار کس نے دیا تھا کہ وہ خود کو ملک کا سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کرتے ہوئے سیاسی فیصلے کریں۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے بھی حمید گل کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنا آئین پاکستان کی خلاف ورز ی ہے ۔کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کا اصل فورم عوام اور پارلیمنٹ ہیں ،عدالت اس معاملے میں مداخلت نہ کرے ، اگر عدالتیں سیاسی کاموں میں الجھ گئیں تو اس سے انصاف کا نظام متاثر ہوگا ،سیاسی مسائل اور معاملات کو حل کرنا عوامی نمائندوں کا کام ہے ۔ کالا باغ مسئلہ حل کرنے کا فورم عدالت نہیں عوامی ہے ، عدلیہ کو سیاسی معاملات میں الجھانے سے گریز کیاجائے ، نہ ہی لوگوں کو چاہئے کہ وہ عدلیہ کو سیاسی معاملات میں الجھائیں اس سے سب کو گریز کرنا چاہئے ۔ اگر حکومت میں کوئی کمی ہوتو اپوزیشن معاملات کو اٹھا سکتی ہے ،سیاسی مسائل سیاسی طریقے سے ہی حل ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ گیس کی قیمتوں کا معاملہ عدالت میں ہے میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا لیکن امریکی عدالت نے ہیلتھ پالیسی سے متعلق ایک فیصلے میں کہاتھا کہ عدالتوں کو ایسے معاملات کے فیصلے نہیں دینے چاہئیں جس میں عوامی رائے سامنے آنی ہو۔ یہ فیصلے صرف ان اداروں کو کرنے چاہئیں جو ووٹ ان اور ووٹ آؤٹ کرسکتے ہیں۔ اگر ہمیں عدالتی معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا تو پھر ایسے معاملات کو بھی نظرانداز کرنا ہو گا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عدالتوں نے مداخلت جاری رکھی تو یہ عدالتوں کو الجھا دینگے ۔اس سے پہلے ناگہانی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں سارک تنظیم کے تعاون کے حصول سے متعلق دو روزہ مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سارک تنظیم کو کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئیے تاکہ دستیاب معلومات کو لوگوں کے ساتھ تبادلہ کیا جا سکے اور انہیں تباہیوں سے بروقت نمٹنے کے لئے ایک منظم حکمت عملی ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت علاقائی سطح پر ممکنہ مدد کے لئے کام کرنے اور جنوبی ایشیا کی سطح پر معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے قابل عمل نظام قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔

ISLAMABAD: Federal Minister for Information Qamar Zaman Kaira expects that the Supreme Court will avoid wading into political waters while dealing with issues of public interest, as did the US Supreme Court which upheld President Barack Obama’s healthcare law.
Talking to journalists after attending a function here on Thursday, Mr Kaira refused to comment on the SC’s decision to reduce CNG prices terming the matter subjudice. However, he advised the judiciary to exercise restraint on ‘political matters and issues of public interests’.
Replying to a question about reported remarks of Lahore High Court chief justice stressing the need for consensus on the controversial Kalabagh dam, the minister said only elected forums could take decisions on these issues.
“Involvement of judiciary in such matters should be avoided as it would not serve any purpose,” he added. At the same time, he suggested that as a nation “we should also try not to drag it (judiciary) into political matters”.
Citing an example of the US Supreme Court he said that in its recent ruling on the issue of a hotly-debated healthcare bill it had declared that courts should not get involved in matters of public interests on the basis of which people made decisions at the time of voting.
Mr Kaira’s comments came a day after the two former presidents of the Supreme Court Bar Association — Chaudhry Aitzaz Ahsan and Asma Jahangir — objected to SC’s involvement in ‘petty’ issues like prices of CNG and sugar.
Mr Ahsan, who is also a PPP senator, had expressed reservations over suo motu notices saying in such cases the defendant party lost right to appeal.
Similarly, Asma Jahangir had stated that the Supreme Court was not meeting all requisites of justice and said if judiciary remained stuck to gas and sugar prices, who would dispense justice to commoners.
HAMEED GUL CRITICISED: Mr Kaira also lashed out at former chief of the ISI Gen (retd) Hameed Gul for his role in the formation of the anti-PPP Islami Jamhoori Ittehad in the 1990 elections which had been declared manipulated by the Supreme Court in the Asghar Khan case.
The information minister said Mr Gul’s institution should take notice of his activities during service as he himself had confessed that he had formed the IJI in his personal capacity and as a serving general what was his personal capacity.
Hameed Gul, he said, had created a lot of problems for the nation in the past and now he should refrain from issuing irresponsible statements. The minister said the IJI had been formed to steal the mandate of the people with ulterior motives by depriving the PPP of its election victory.
Source: DAWN

اپنا تبصرہ بھیجیں