طلبان کو شکست دینگے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے ; صدر زرداری

بینظیر بھٹو اور ملالہ پر حملہ کرنیوالی سوچ ایک ہی ہے ، موبائل فون سمز کو محفوظ بنایا جائے ،جمہوریت کے استحکام کیلئے اختیارات پارلیمنٹ کو دیئے ، تاریخ ہمارے دور کو سنہری حروف میں یاد رکھے گی

صدر زرداری نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور امن وامان کی خراب صورتحال پرسخت برہمی کا اظہار کیا اور سندھ حکومت کوتاجروں کے اغوا اور بھتہ خوروں کے خلاف مربوط بلا
امتیاز کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افسران جرائم روکنے میں ناکام ہیں، انھیں فوری تبدیل کیا جائے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کے دوران کوئی دباؤ قبول نہ کیا جائے ،شرپسند عناصر امن وامان خراب کرکے معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ،سندھ حکومت عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے ۔وہ وزیراعلی ہاؤس میں امن وامان کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ ، وزیر داخلہ رحمان ملک،آئی جی سندھ ،ڈی جی رینجرز اور دیگر حکام شریک ہوئے ۔ صدر زرداری نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہرمیں ٹارگٹ کلنگ روکنے میں کیوں ناکام ہیں ؟ صدر نے سندھ حکومت کوتاجروں کے اغوا اور بھتہ خوروں کے خلاف مربوط کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ یقینی بنایا جائے ،بھتہ خوروں کی آماجگاہوں میں آپریشن کیے جائیں اور اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے کمیونٹی پولیس کو فروغ دیا جائے ۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کے دوران کوئی دباؤ قبول نہ کیا جائے ۔ ۔انھوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔صدر نے عینی شاہد کے تحفظ کا بل سندھ اسمبلی میں جلد پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ صدر نے کراچی میں امن و امان کیلئے وفاقی اور صوبائی سیکیورٹی اداروں کو مل کر کام کرنے کی ہدایت کی ۔ صدر نے کہاکہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے ،امن وامان کے معاملات پر مشاورت اور مسائل کے حل کیلئے رابطہ کار کمیٹی قائم کی جائے ۔ صدر نے کہاکہ کراچی میں بھتہ خوروںِ ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور کسی بھی شخص کو ملک کے معاشی حب کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، قانون نافذ کرنے ادارے بلا تفریق اور بہتر انداز میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کو جاری رکھیں، جرائم پیشہ افراد کو عدالتوں سے سزا دلوانے کیلئے تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر منظم کیا جائے ۔صدر نے کہا کہ بینظیر بھٹو اور ملالہ پر حملہ کرنیوالی سوچ ایک ہی ہے ، ہم طالبان کو شکست دینگے ،ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروی ہے ،بی بی عوام کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہو گئیں، ہم عوام کی خدمت جاری رکھیں گے ۔ پولیس حکام نے صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور دہشت گردی میں ملوث کئی ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ کارروائی کے دوران کئی سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے ۔بعد ازاں صدر مملکت سے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی ملاقات کی اور صدر کو ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال، اپنے دورہ لندن اور عیدالاضحی پر سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق رحمن ملک نے صدر کو بتایا کہ عیدالاضحی پر موبائل فون سروس بند کرنے کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال بہتر رہی۔ رحمان ملک سے گفتگو کے دوران صدر زرداری کا کہنا تھا کہ موبائل فون سمز کو محفوظ بنایا جائے ،سمز دکانوں پر فروخت نہ کی جائے ،موبائل فون سمز گھروں پر بھیجی جائے ، سمز کے حوالے سے محفوظ پالیسی بنائی جائے ،شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے سمارٹ کارڈ لائسنس جاری کیا جائے ۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر زرداری نے اسلام آباد میں کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی منظوری دے دی۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے ، ملک کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں گردے اور جگر کی بیماریوں کے علاج کی جدید سہولیات کی فراہمی کیلئے عالمی معیار کے طبی مراکز قائم کئے جائیں گے ۔ علاوہ ازیں کراچی میں سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل کے لیے سرکاری افسروں کا جلد تبادلہ نہیں ہونا چاہیے ،پاکستان میں سول سروس کا تجربہ کامیاب رہا، انہوں نے کہا سرکاری افسروں کی تقرری غیر جانبدارانہ ہونی چاہیے ،تاریخ ہمارے دور کو سنہری حروف میں یاد رکھے گی،جمہوریت کے استحکام اور مستقبل کے لیے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دیئے ،امن و امان کی صورتحال پر جلد قابو پا لیں گے ،جنگ میں جیت ہماری ہوگی،دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے ۔

Source: Roznama Dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں