شہبازشریف آرٹیکل 62 کی زد میں آ چکے ہیں اور آئینی طور پر وہ صوبے کے وزیراعلیٰ نہیں رہے: منظور احمد وٹو

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ شہبازشریف آرٹیکل 62 کی زد میں آ چکے ہیں اور آئینی طور پر وہ صوبے کے وزیراعلیٰ نہیں رہے‘ اصغر خان کیس میں شریف برادران پر کرپشن ثابت ہو چکی ہے‘ اصغر خان کیس کے فیصلے کے بعد پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے‘ پنجاب حکومت ضمنی انتخابات میں سرکاری وسائل استعمال کر رہی ہے الیکشن کمیشن اور سپر ےم کورٹ فوری نوٹس لے‘ (ق) لیگ کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں تمام انتخابی فیصلے مشاورت اور اتفاق رائے سے طے کئے جائیں گے‘ آئندہ انتخابات میں پنجاب میں (ن) لیگ کو شکست دے کر حکومت بنانے کی حکمت عملی طے کر لی گئی ہے ہر صورت پنجاب میں حکومت بنائیں گے۔ وہ صدر پنجاب بننے کے بعد پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں آمد کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ منظور وٹو نے کہا کہ جب یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا تو (ن) لیگ والے اخلاقیات کا درس دیتے تھے اور آج خود شریف برادران کے خلاف سپریم کورٹ کا اصغر خان کیس میں واضح فیصلہ آ چکا ہے جس میں شریف برادران پر آئی ایس آئی سے پیسے لینے کی کرپشن ثابت ہو چکی ہے اس لئے ان کو چاہیے کہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دیں۔ سمبڑیال سے نامہ نگار کے مطابق تحصیل صدر پی پی ملک شعیب صدیق کھوکھر سے گفتگو میں منظور وٹو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک و قوم کی بات کی اور ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس جنگ میں پیپلز پارٹی کی قیادت کا خون شامل ہے، میاں برادران کو اصغر خان کیس کے فیصلہ آتے ہی مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اس موقع پر ڈویژنل صدر پی پی پی چوہدری اعجاز احمد سماں‘ بابر گھمن بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں