پنجاب حکومت غیر آئینی طور پر چل رہی ہے ، لطیف کھوسہ

پنجاب میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے ،شہبازشریف رکن صوبائی اسمبلی ہیں نہ ہی وزیراعلیٰ، عدلیہ کے فیصلے کے بعد پنجاب حکومت غیر آئینی طور پر چل رہی ہے ،سپریم کورٹ سے شاہد اورکزئی کیس کا فیصلہ جلدکرنے کی التجا کرتا ہوں تاکہ پنجاب کے عوام کو ان سے چھٹکارا مل سکے ۔
ان خیالات کااظہار گورنر پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ نے دنیا نیوز کے سینئر اینکر پرسن عبدالمالک سے ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اصغر خان کیس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے اورشریف برادران کو مستعفٰی ہوجانا چاہیے ،انتخابی عمل کی شفافیت ہی آئین کی روح ہے ،(ن) لیگ کبھی بھی عوام کے ووٹوں کی طاقت سے حکومت میں نہیں آئی،ان کا مزاج کبھی بھی جمہوری تھا، نہ ہے اور نہ رہے گا،(ن)لیگ عوام اور پیپلزپارٹی سے معافی مانگے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے شہبازشریف سے ملاقات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو62 میں سے 60اراکین صوبائی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور وہاں کوئی آئینی بحران نہیں ۔ صدرزرداری کے خلاف منفی القابات بغاوت کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ بینک آف پنجاب میں انتہا کی کرپشن ہوئی ہے ،یہ بینک اگر پیپلزپارٹی نے بنایا ہوتا تو یہ لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ،باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں کرائم گراف سب سے زیادہ ہے ،پنجاب حکومت کو کوئی حق نہیں حکومت کرنے کا ،انہیں مستعفٰی ہوجانا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں