عمران خان جلد استعفی دیں گے: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا ہم نیوز کو انٹرویو

بہاول پور: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے نظریات جدا لیکن مطالبات پر ہم ان کے ساتھ ہیں، وزیراعظم عمران خان کو استعفا دینے پر مجبور کردیں گے۔

ہم نیوز کے پروگرام ’’پاکستان ٹونائٹ ‘‘ میں میزبان ثمر عباس سے  گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے تمام مطالبات سے اتفاق کرتے ہیں، مولانا سے پلان بی اور سی پر بات ہوئی ہے ابھی بتا نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا اگرملک کو بند کرنا چاہتے ہیں تو یہ پییپلز پارٹی کا فیصلہ نہیں ہے ۔ دھرنا ایک سخت مگر جمہوری آپشن ہے۔ دھرنے سے متعلق  فیصلہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی کرے گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد آ نی چاہیے۔ وزیراعظم یو ٹرن لے کر استعفیٰ دیں گے۔وزیراعظم جلد جانے والے ہیں، انکے ساتھ صرف کچھ لوگ بچ جائیں گے۔

کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسی واضح ہے پی پی پی نے ہمیشہ جمہوری حقوق، معاشی، سماجی اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے، اور موجود حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے لوگوں کے بنیادی حقوق پر حملے کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی اپنی سیاست اور نظریہ ہے جبکہ ان کی جماعت کا اپنا نظریہ ہے لیکن ہم ان کے مطالبات میں ان کے ساتھ ہیں۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جہاں تک مذہب کارڈ کا تعلق ہے، یہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے خلاف مذہب کارڈ کا استعمال کیا گیا لیکن اے پی سی میں ہم نے مشترکہ مطالبے میں واضح کہا تھا کہ ہم مذہب کارڈ استعمال نہیں کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم کسی اور کو مذہب کارڈ کے استعمال سے نہیں روک سکتے۔ 

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ دھرنے کا فیصلہ ہم نے نہیں اپنایا، پارٹی کی کور کمیٹی اور سی ای سی بیٹھے گی اور غور کرے گی کہ ہمیں اپنی اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینا ہے کہ ہمیں اپنا دھرنا کرنا ہے یا پھر مولانا کے احتجاج میں شامل ہوجائیں۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجتی ہے کہ ہمیں اس غیر جمہوری قوتوں اور رویوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ہر فورم کو استعمال کرنا چاہیے جبکہ اس کے لیے احتجاج کے طریقہ کار کا بھی استعمال کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں لانگ مارچ کیے ہیں، دھرنے کیے ہیں لیکن جنرل مشرف کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لے کر اب تک دھرنے کی سیاست نہیں کی تاکہ کسی غیر جمہوری قوت کو فائدہ نہ ہوجائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم عمران خان کو استعفا دے کر گھر  جانے پر مجبور کر دیں گے، ان کا ایک سال کا ریکارڈ ہمارے سامنے ہیں، انہوں نے ہمیشہ یوٹرن لیے امید ہے کہ اس مرتبہ وزارت عظمیٰ پر بھی یوٹرن لیں گے اور گھر چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہڑتال کرنے کا فیصلہ مولانا فضل الرحمٰن کا ہوگا، ہمیں اس معاملے میں اپنا فیصلہ لینا ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح یہ حکومت ملک چلا رہی ہے اس صورتحال میں جمہوری نظام کو خطرہ ہے اور وفاق اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا صرف عمران خان کو ہٹانے سے مسائل حل ہوجائیں گے جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کو ایک ترقی پسند اور عوام پسند حکومت ہونی چاہیے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عمران خان بہت جلد چلے جائیں گے اور ان کے ساتھ ان کے دیگر لوگ بھی چلے جائیں گے۔

کرتار پور راہداری کھولنے سے متعلق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بھارت کی سکھ برادری کے لیے ایک بہترین اقدام ہے، ایسے اقدامات اٹھانے چاہیئں، تاہم جب تک مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم ہونے تک ان اقدامات کو اٹھانے پر غور کرنا چاہیے۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاریخ میں اپوزیشن ایک جگہ جمع ہونے میں وقت لگا ہے لیکن موجودہ وزیراعظم کا کردار ایسا ہے کہ انہوں نے ایک سال کے اندر ہی اپوزیشن کو متحد کردیا، جو خود حکومت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں